ضمنی الیکشن: PTI کا صفایا، PMLN کا PPP پر انحصار ختم

ضمنی الیکشن میں حکمران نون لیگ نے تحریک انصاف کا مکمل صفایا کرتے ہوئے نہ صرف قومی اسمبلی کی تمام 6 نشستیں جیت لیں بلکہ اس کا ایوان زیریں میں سادہ اکثریت کے لیے پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہو گیا ہے۔ 6 نشستیں جیتنے کے بعد ن لیگ کو 336 اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی کے ایوان میں 170 اراکین کی سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
اس وقت مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں 126 سیٹیں ہیں جبکہ 6 مزید سیٹیں جیتنے کے بعد یہ تعداد 132 ہو گئی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی 22 سیٹیں ہیں، مسلم لیگ ق کی 5، استحکام پاکستان پارٹی کی4 اور مسلم لیگ ضیا، باپ پارٹی، اور نیشنل پارٹی کی ایک ایک سیٹ ہے۔ اس کے علاوہ چار آزاد اراکین کی حمایت کے ساتھ حکومتی اتحادیوں کی مجموعی تعداد 170 ہو جائے گی جبکہ سادہ اکثریت حاصل کرنے کیلئے نون لیگ کو ایوان میں 169 اراکین اسمبلی کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
تاہم سینیٹ میں مسلم لیگ نون کو اکثریت کے لئے پیپلز پارٹی کا محتاج رہنا پڑے گا۔ یوں قانون سازی کے عمل میں قومی اسمبلی کی نمبرز گیم میں کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ تاہم پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کی دو تہائی اکثریت کے لئے حیثیت مزید مستحکم ہوگئی ہے۔
فروری 2024 کے انتخابات کے بعد ضمنی الیکشن کے سب سے بڑے معرکے میں تحریک انصاف کا صفایا خلاف توقع نہیں ہے لیکن ہزارہ میں عمر ایوب خان کی سیٹ ہار جانا ایک بڑا واقعہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ کے عوام نے عمر ایوب کو شکست دے کر بتا دیا ہے کہ وہ انتشار کی سیاست سے عاجز آ چکے ییں اور ترقی اور سکون چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف نے ماضی کی طرح ہر نشست پر اپنے امیدواروں کو آزاد کا لیبل لگا کر میدان میں اتارا تھا لیکن ان میں سے ایک بھی کامیاب یو کر اسمبلی میں نہیں پہنچ سکا۔
یاد رہے کہ ہری پور ہزارہ سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سزا یافتہ ہو جانے کے باعث نااہل ہو گئے تھے۔ چنانچہ ان کی نشست پر ان کی اہلیہ شہرناز نے الیکشن لڑا تھا۔ تاہم اس سیٹ پر عمر ایوب کے سب سے بڑے حریف مسلم لیگ نون کے امیدوار بابر نواز کی کامیابی سے ظاہر ہو گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کا زوال شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کا آبائی علاقہ ہری پور ہزارہ کوہستان میں واقع ہے جو ایک لمبے عرصے تک نو از شریف کا مضبوط گڑھ تھا۔
ہری پور ہزارہ علاقہ مریم نواز کے سسرال کے طور پر پہنچان رکھتا تھا اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اس الیکشن کو جیتنے کے لیے دن رات محنت کی تھی۔ ضمنی الیکشن میں جنرل ایوب خان کے خاندان کی شکست سے علاقے میں مسلم لیگ نون کی برتری بحال ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے یہ نشست جیتنے کے لیے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کیے تھے۔ الیکشن سے تین روز پہلے انہوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزارہ کی سرزمین پر کھڑے ہو کر پی ٹی ائی کے سیاسی مخالفین اور ووٹرز کو کھلی دھمکیاں دی تھیں جس کے بعد انہیں الیکشن کمیشن نے طلب بھی کر لیا تھا۔
تجزیہ کاروں کی جانب سے ہری پور ہزارہ کے ضمنی الیکشن میں شکست کو وزیراعلی سہیل افریدی کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ واحد ضمنی انتخاب تھا جو تحریک انصاف کی حکومت کے ماتحت ہورہا تھا۔ اس کے باوجود عمر ایوب خان کی اہلیہ شکست سے نہیں بچ سکیں۔
یاد رہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کی خالی کردہ تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 نشستوں پر ہونے والے انتخاب کے مکمل نتائج کے مطابق ن لیگ نے قومی اسمبلی کی تمام 6 نشستیں اپنے نام کیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستوں پر بھی کامیاب ٹھہری۔ ساتویں سیٹ پیپلز پارٹی جیتنے میں کامیاب رہی۔
ضمنی الیکش کا سب سے بڑا اپ سیٹ این اے 18 ہری پور میں دیکھنے میں آیا، جہاں پی ٹی آئی کی شہرناز کو 43 ہزار 776 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے ایک لاکھ 63 ہزار 996 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جب کہ شہرناز عمر ایوب ایک لاکھ 20 ہزار 220 ووٹ لے سکیں۔
حلقہ این اے 129 لاہور سے مسلم لیگ ن کے حافظ محمد نعمان 63 ہزار 441 ووٹ لے کر کامیاب رہے، جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار ارسلان احمد 29 ہزار 99 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے رہنما میاں اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ حلقہ این اے 185 میں بھی ن لیگ نے کامیابی حاصل کی۔ ن لیگ کے محمود قادر خان نے 82 ہزار 416 ووٹ لیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ 49 ہزار 262 ووٹ لیے۔ یہ سیٹ پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
این اے 143 ساہیوال سے ن لیگ کے محمد طفیل جٹ ایک لاکھ 36 ہزار 223 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جب کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ضرار اکبر چوہدری 13 ہزار 220 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ سیٹ پی ٹی آئی کے حسن نواز کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ این اے 104 فیصل آباد کی سیٹ بھی ن لیگ کے کھاتے میں گئی۔ دانیال احمد نے 52 ہزار 791 ووٹ لے کر میدان مار لیا، جب کہ مخالف امیدوار رانا عدنان جاوید نے 19 ہزار 262 ووٹ حاصل کیے۔
این اے 96 فیصل آباد سے ن لیگ کے بلال بدر چوہدری 93 ہزار 9 ووٹوں کے ساتھ کامیاب رہے۔ بلال بدر وزیرِ مملکت طلال چوہدری کے بھائی ہیں۔ پی پی 87 میانوالی سے مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور خان نیازی 67 ہزار 986 ووٹ لے کر جیتے، جبکہ انکے مخالف امیدوار محمد ایاز خان نیازی 3 ہزار 310 ووٹ لے سکے۔
پی پی 98 فیصل آباد میں ن لیگ کے آزاد علی تبسم نے 44 ہزار 388 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی، جبکہ آزاد امیدوار محمد اجمل 35 ہزار 245 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 115 فیصل آباد میں ن لیگ کے طاہر پرویز نے 49 ہزار 49 ووٹ لیے جبکہ آزاد امیدوار محمد اصغر 18 ہزار 98 ووٹ لے سکے۔
اسی طرح فیصل اباد سے رانا ثنا اللہ خان کے داماد ن لیگ کے امیدوار احمد شہریار 48 ہزار 824 ووٹ لے کر فاتح رہے، جبکہ انکے مخالف امیدوار ملک اصغر علی قیصر 11 ہزار 429 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ سیٹ پی ٹی آئی کے اسماعیل سیلا کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
پی پی 203 سے مسلم لیگ ن کے محمد حنیف 46 ہزار 900 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ فلک شیر 10 ہزار 895 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 73 سرگودھا سے ن لیگ کے سلطان علی رانجھا 71 ہزار 770 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ آزاد امیدوار مہر محسن رضا نے 12 ہزار 970 ووٹ حاصل کیے۔ لیکن پی پی 269 مظفر گڑھ کے حلقے سے ن لیگ کو شکست ہوئی جہاں سے پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی 55 ہزار 611 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
