8 فروری کو احتجاج کی کال: حکومت کا مذاکرات سے انکار

چھوٹی بڑی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 8 فروری کو انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کے باوجود فیصلہ سازوں نے کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے محمود خان اچکزئی کے ذریعے 8 فروری کے ملک گیر احتجاج کی کال دے کر دراصل فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم اس بار یہ واضح فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی قسم کی بات چیت ہوئی تو وہ صرف پارلیمنٹ کی سطح پر ہو گی اور کسی سزا یافتہ قیدی کو اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی اپنے رشتہ داروں اور قریبی پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر گزشتہ کئی ہفتوں سے پابندی عائد ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اب ایک نیا بیانیہ سامنے لا رہی ہے تاکہ پارٹی قیادت کو عمران خان تک رسائی حاصل ہو سکے اور 8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
اسی تناظر میں تحریک انصاف کی جانب سے یہ افواہ گردش میں لائی گئی ہے کہ دورانِ قید عمران خان کی بینائی متاثر ہو گئی ہے اور انہیں فوری طبی علاج کی ضرورت ہے، تاہم حکومتی حلقے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں اور ان کے مطابق اس کا اصل مقصد عمران خان سے ملاقات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے فوج اور ریاست مخالف بیانیہ مسلسل آگے بڑھانے کے نتیجے میں تحریک انصاف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نہ صرف براہِ راست بلکہ بیک چینل رابطوں کے تمام ذرائع بھی مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے دور میں حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین محدود نوعیت کے روابط موجود تھے، جن کا فائدہ تحریک انصاف اور عمران خان کو بھی پہنچتا رہا، تاہم سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے اور پارٹی کے فوج مخالف بیانیے میں شدت آنے کے بعد یہ تمام رابطے ختم ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے وہ ارکان بھی اب تحریک انصاف سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھ رہے جو ماضی میں غیر رسمی یا بیک چینل سطح پر روابط برقرار رکھتے تھے۔ یہ تعطل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ معاملہ تحریک انصاف کے لیے غیر معمولی سیاسی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق رابطوں کے خاتمے کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کی مسلسل احتجاجی سیاست اور ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ عوامی مہمات ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تحریک انصاف کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ احتجاجی سیاست اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ یہ ممکن ہے کہ پارٹی سڑکوں پر احتجاجی تحریک بھی چلائے، فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت زبان بھی استعمال کرے اور ساتھ ہی مذاکرات کی امید بھی رکھے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے اب بڑی حد تک یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے باعث فی الوقت مذاکرات کا راستہ بند ہے۔ اسی لیے پارٹی کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے اور قیادت یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ 8 فروری کا احتجاج تحریک انصاف اور اس کی قید قیادت کے لیے کس حد تک مختلف نتائج لا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں تحریک انصاف نے 8 فروری کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے اور کارکنان کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر علامتی احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ تاہم پنجاب میں بالخصوص بڑے پیمانے پر مرکزی احتجاج سے گریز کی ہدایات دی گئی ہیں۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھی اس احتجاج سے متعلق توقعات محدود دکھائی دیتی ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ کسی مؤثر یا بامعنی احتجاجی سرگرمی کا دائرہ زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود رہنے کا امکان ہے، جبکہ موجودہ سیاسی اور انتظامی ماحول میں پنجاب میں متحرک احتجاج کے امکانات نہایت کم ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر ذریعے کے مطابق قیادت خود بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ کسی بڑی پیش رفت یا انقلابی نتیجے کے امکانات محدود ہیں اور 8 فروری کے احتجاج کو فیصلہ کن محاذ آرائی کے بجائے محض سیاسی موجودگی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد ممکنہ طور پر احتجاج کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر زور دے سکتا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ بات چیت کے لیے واضح شرائط درکار ہوں گی۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں تک رسائی رکھنے والے پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق یہ پیغام واضح طور پر پہنچا دیا گیا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ترک کیے بغیر کوئی بات چیت ممکن نہیں۔
ایک ذریعے کے مطابق فیصلہ سازوں کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ موجودہ سیاسی نظام کو چلنا ہے اور کسی بھی صورت ایسے اقدامات یا تحریک کی اجازت نہیں دی جائے گی جو موجودہ سیٹ اپ یا ملکی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال نے سیاسی بے چینی کے لیے گنجائش کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔
اچکزئی کا 8 فروری کو اسلام آباد میں احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ
ان زمینی حقائق کے تناظر میں 8 فروری کے بعد بھی تحریک انصاف کی آئندہ سیاسی سمت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پارٹی کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ مذاکرات، مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور مؤثر عوامی تحریک کے بغیر طویل المدتی محاذ آرائی کی سیاست کس حد تک قابلِ عمل اور نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔
