کیا حزب اللہ ایران میں رجیم چینج آ پریشن ناکام بنا پائے گا ؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ خطے کی فضاؤں میں میزائل اور ڈرون گونج رہے ہیں، آبنائے ہرمز پر تیل بردار جہازوں کی آمدورفت رک چکی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد خطے کی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں ممکنہ ’رجیم چینج‘ کے دعوؤں نے حالات کو مزید سنگین اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔،اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایران اپنی برسوں میں بنائی گئی حزب اللہ، عراقی ملیشیاؤں اور یمن کی حوثی تحریک جیسی پراکسی قوتوں کے ذریعے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے؟ یا پھر یہ گروہ خطے میں ایک ایسی جنگ کو جنم دے سکتے ہیں جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت تک کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی یہی ’مزاحمتی حکمتِ عملی‘ اب خطے میں طاقت کے توازن اور مستقبل کے جنگ و امن کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

عرب نیوز میں شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ بحران کے دوران ایران نے براہ راست بڑی جنگ میں کودنے کی بجائے اپنی علاقائی پراکسی قوتوں کو متحرک کیا ہے۔ ماہرین اسے ایران کی طویل عرصے سے اپنائی گئی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں جس میں وہ براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کا خواہاں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل اچانک نہیں تھا بلکہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ان کے بقول ایران طویل عرصے سے ایسے کسی ممکنہ منظرنامے کے لیے تیاری کر رہا تھا اور اب مختلف گروہ اسی بڑے سٹریٹیجک منصوبے کے تحت اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اسرائیل اور امریکہ بلکہ ان کے اتحادی ممالک کے بھی چھکے چھڑا دئیے ہیں۔

مبصرین کے بقول ملیشیا فورسز عموماً بڑے سٹریٹیجک کھیل کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں کیونکہ وہ کم لاگت اور کم خطرے کے ساتھ دباؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ ایران بھی اپنی ایسی ہی پراکسیز کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے تاہم ابھی تک ایران نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس بحران کو کس حد تک لے جانا چاہتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے سب سے اہم اتحادی گروہ حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل کے شمالی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جنھیں2024 کی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے چند ہی گھنٹوں میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا۔لبنان کی حکومت کو توقع تھی کہ حزب اللہ اس مرحلے پر تحمل کا مظاہرہ کرے گی، تاہم حملوں کے بعد حکومت نے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی لگانے اور اس کے بعض ارکان کی گرفتاری جیسے اقدامات بھی کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حزب اللہ کے حملوں نے دراصل اسرائیل کو ایک نیا محاذ کھولنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کے بقول اسرائیل پہلے ہی لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی سست رفتاری سے مایوس تھا اور اسے صرف ایک بہانے کی ضرورت تھی۔ موقع میسرآتے ہی اسرائیل نے ایران کے ساتھ لبنان میں بھی بمباری شروع کر دی ہے۔

ماہرین کے مطابق لبنان کے علاوہ عراق میں بھی ایران کی حمایت یافتہ تنظیمیں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔ اسلامک ریزسٹنس اِن عراق نامی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکی اڈوں کو ڈرون اور راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح ایک اور گروہ سرایا اولیا الدم نے اربیل ایئرپورٹ اور بغداد کے قریب امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، اگرچہ ان میں سے بعض دعوئوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ یکم سے تین مارچ کے درمیان ان گروہوں کی جانب سے روزانہ درجنوں حملوں کا ذکر کیا گیا، تاہم زیادہ تر کارروائیوں سے بڑے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

امریکہ کی مسلم دنیا کو لڑوانے کی سازش کیسے کامیاب ہوئی؟

دوسری جانب یمن کی حوثی تحریک نے ایران اسرائیل امریکہ تنازعے میں محتاط ردعمل دیا ہے۔ حالانکہ اس گروہ نے گزشتہ برسوں میں بحیرہ احمر میں جہازوں اور فوجی اہداف پر حملے کیے تھے جس کے جواب میں امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی تھی۔ ماہرین کے مطابق حوثی گروہ نسبتاً زیادہ خود مختار ہے اور وہ اپنے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے براہ راست علاقائی طاقتوں سے تصادم سے گریز کر سکتا ہے۔ اسی لئے حالیہ کشیدگی کے دوران حوثیوں کی جانب سے محتاط رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کارایران کی موجودہ حکمت عملی کو ’سٹریٹیجک صبر‘ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے بقول اس حکمت عملی کے تحت ایران امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کے ساتھ براہ راست وسیع جنگ سے بچتے ہوئے اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کا خواہاں ہے۔ حزب اللہ کے محدود نوعیت کے حملے اور عراقی ملیشیاؤں کی محتاط کارروائیاں اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ تاہم بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے ایران ایک ایسے ’کاغذی شیر‘ کا تاثر بھی دے سکتا ہے جو براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے صرف پراکسیز کے ذریعے ردعمل دیتا ہے۔  ماہرین کے نزدیک اصل سوال یہی ہے کہ آیا ایران اپنی پراکسی قوتوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھتے ہوئے براہ راست جنگ سے بچ سکے گا یا پھر یہی حکمت عملی خطے کو ایک وسیع اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل دے گی۔ ماہرین کے مطابق فی الوقت اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے تاہم آنے والے دنوں میں ایران اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہونے والی عسکری اور سفارتی پیش رفت اس سوال کا جواب طے کرے گی۔

Back to top button