کیا پاکستان بھارتی کروز میزائل کی کاپی بنا سکتا ہے؟

آواز سے بھی تین گنا ذیادہ رفتار سے چلنے والا سپرسانک بھارتی کروز میزائل پاکستان میں گرنے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان ایک بار پھر انڈین میزائل کے ملبے کی ’ریورس انجینیئرنگ‘ کر کے اس کا کاپی میزائیل تیار کر لے گا کیونکہ پاکستان ماضی میں ایک مرتبہ ایسا کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ 20 اکتوبر 2020 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لندن میں انکشاف کیا تھا کہ جب امریکی صدر کلنٹن نے افغانستان پر ٹوماہاک کروز میزائل گرائے تو ان میں سے کچھ غلطی سے بلوچستان میں آ گرے۔ ان میں سے ایک میزائل بالکل صیح حالت میں مل گیا جسے پاکستانی انجینئیرز نے ’ریورس انجینیئرنگ‘ کر کے اپنا ’بابر میزائل‘ بنا لیا۔ تب امریکہ نے اسلام آباد پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ پاکستان میں گرنے والے ٹوماہاک میزائل کے تمام پرزے اور حصے واپس کرے، کچھ ماہرین ایسے بھی تھے جن کا خیال تھا کہ شاید پاکستان اس میزائل کی ریورس انجینئرنگ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن 11 اگست 2005 کو پاکستان نے اپنے پہلے کروز میزائل ’بابر‘ کا کامیاب تجربہ کر کے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا کیونکہ کروز میزائل ٹیکنالوجی دنیا میں چند ہی ممالک کے پاس تھی، جن میں پاکستان بھی شامل ہو چکا تھا۔
حال ہی میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ پاکستانی حدود میں داخل ہونے والا ’انڈین پروجیکٹائل‘ زمین سے زمین تک مار کرنے والا سپرسانک میزائل تھا جس کا ملبہ تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اسکا فرانزک کروایا جا رہا ہے تاکہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ بھارت کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ حادثاتی طور پر فائر ہونے والا میزائل کون سا تھا۔ تاہم پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ میزائل سپرسانک کروز میزائل تھا جو آواز کی رفتار سے تین گنا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ پاکستان کی حدود میں تین منٹ 44 سیکنڈ تک رہنے کے بعد گر کر سرحد میں 124 کلومیٹر اندر آ کر تباہ ہوا۔
پاکستانی عسکری ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے ائیر ڈیفنس سسٹم نے اس میزائل کی نگرانی تب سے شروع کر دی تھی جب اسے انڈیا کے شہر سرسا سے داغا گیا تھا، اس کی پرواز کے مکمل دورانیے کا مسلسل جائزہ لیا گیا، خیال رہے کہ کروز میزائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایئر ڈیفنس سسٹم یا ریڈار کی جانب سے اس کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ زمین کی سطح کے اوپر بہت ہی کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، کروز میزائل کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ ’سب سانک‘ کروز میزائل آواز کی رفتار یا اس سے کچھ کم رفتار سے فاصلہ طے کرتے ہیں، دوسری قسم ’سپر سانک‘ میزائل کی ہے جو آواز کی رفتار سے تین گنا تیزی سے فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ تیسری قسم ’ہائپر سپر سانک‘ میزائل جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیزی سے فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے پاس ’بابر‘ اور ’رعد‘ نامی سب سانک کروز میزائل موجود ہیں جو زمین سے زمین، فضا سے زمین اور زیر آب سے زمین کی سطح تک مار کرنے والے میزائل ہیں تاہم انڈیا کے پاس اس سے جدید براہموس سپرسانک کروز میزائل موجود ہے جو روس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ہائپر سپر سانک کروز میزائل براہموس دوم بھی تیاری کے مراحل میں ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ 2024 تک اس کا بھی تجربہ کر لیا جائے گا۔
براہموس کی بھی چار اقسام ہیں جن میں زمین سے زمین پر مار کرنے والا، فضا سے زمین پر، سمندر کی سطح سے زمین پر اور سمندر کی سطح سے نیچے مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔
براہموس میزائل کے بارے میں کہا جاتا کہ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے تیز رفتار میزائل ہے اور اپنی تیز رفتار اور زمین سے بہت کم فاصلے پر پرواز کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے میزائل شکن نظام کی جانب سے اس کی نشاندہی کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے یہ میزائل کم وقت میں جوہری یا رواہتی ہتھیار زیادہ فاصلے تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان واقعی ریورس انجینئرنگ کی ٹیکنالوجی رکھتا ہے؟ پاکستان کے پاس اس وقت سپرسانک یا ہائپر سانک کروز میزائل ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے تو کیا براہموس کا پاکستان میں گرنا اس کے لیے ایک موقع ہو سکتا ہے کہ یہ اس کی ’ریورس انجینیئرنگ‘ کر کے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر سکے؟
سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر سید محمد علی کا کہنا ہے کہ کیونکہ یہ میزائل گر کر تباہ ہو گیا تھا لہٰذا یہ مشکل ہے کہ موجودہ شکل میں اس کی ریورس انجینیئرنگ کر کے اپنا میزائل تیار کر لیا جائے۔
’آپ کو اس قسم کی ٹیکنالوجی کے لیے پورا انفراسٹرکچر چاہئے ہوتا ہے، ٹیکنالوجی پر دسترس چاہئے ہوتی ہے تب جا کر ایسا ممکن ہو پاتا ہے، ورنہ ایسا کرنا بہت مشکل ہے، سید محمد علی کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو میزائل یا کوئی اور ہتھیار اپنی اصل حالت میں مل بھی جائے تو بھی اس کو دیکھ کر اس کی ریورس انجینیئرنگ کرنا اکثر ناممکن ہوتا ہے۔
تاہم اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے جوہری سلامتی کے ماہر محمد خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ تباہ شدہ میزائل کے ملبے سے پاکستان کے لیے اس کو نئے سرے سے بنانا مشکل ہو لیکن وہ اس کے پرزوں اور حصوں کی جانچ پڑتال کر کے انڈیا کے پاس موجود میزائل ٹیکنالوجی کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ہر میزائل کسی نہ کسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے منسلک ہوتا ہے، اس کے اندر متعدد قسم کے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر نصب ہوتے ہیں لہٰذا اگر اس کی نقل کرنا ممکن نہ بھی ہو تو اس کے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی نوعیت کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے۔
Can Pakistan make a copy of Indian cruise missile? Urdu News
