کیا پاکستانی بیلسٹک میزائل امریکہ کو بھی ٹارگٹ کر سکتے ہیں؟

امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک چار کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد اب یہ الزام بھی لگا دیا ہے کہ پاکستان جو میزائل تیار کر رہا ہے وہ امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام اس الزام کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا بنیادی مقصد بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں دشمن میزائلز کو کاؤنٹر کرنا ہے۔
یاد ریے کہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام بارے امریکی تشویش بڑھتی ہی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنانے جی رہی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر نے پاکستانی میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد ایک سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو اسے بڑی راکٹ موٹرز کے ذریعے تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے باہر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اور ان میں امریکہ بھی شامل ہے۔‘
قومی سلامتی کے نائب مشیر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز پہلے ہی بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک چار اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں اس میزائل پروگرام کی نگرانی کرنے والا سرکاری ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس بھی شامل ہے۔ امریکہ کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے جان فائنر کا کہنا تھا کہ ’ایسے ممالک کی فہرست بہت چھوٹی ہے جو جوہری ہتھیار بھی رکھتے ہوں اور ان کے پاس براہِ راست امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی ہو اور وہ امریکہ کے مخالفین ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ان ممالک میں روس، شمالی کوریا اور چین شامل ہیں۔
صدر بائیڈن کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمارے لیے یہ مشکل ہو گا کہ ہم پاکستان کے اقدامات کو امریکہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے نہ دیکھیں۔ مجھ سمیت ہماری انتظامیہ کے سینیئر رہنماؤں نے متعدد مرتبہ ان خدشات کا اظہار پاکستان کے سینیئر حکام کے سامنے کیا ہے۔‘ قومی سلامتی کے نائب مشیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے امریکہ کا پارٹنر رہا ہے اور وہ مشترکہ مفادات پر پاکستان کے ساتھ مزید کام کرنے کی بھی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہمارے نزدیک یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ پاکستان ایسی صلاحیت کیوں حاصل کر رہا ہے جو ہمارے خلاف استعمال ہو سکے۔‘
امریکی صدر کے مشیر کی جانب سے اظہار تشویش کے بعد بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکیں؟ اسلام آباد میں مقیم دفاعی امور کے ماہر سید محمد علی کے مطابق پاکستان پر امریکی حکام کا حالیہ الزام تکنیکی حقائق کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق پہلی وجہ تکنیکی ہے، دوسرا سٹریٹیجیکل اور تیسری وجہ معاشی یا پولیٹیکل ہے۔
سید محمد علی کا دعویٰ ہے کہ ’پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں جدت لانے کا مقصد انڈیا کے علاوہ کسی دور دراز کے ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ انڈیا کے تیزی سے ترقی پذیر میزائل ڈیفینس نظام کا سدباب کرنا یا ناکام بنانا ہے۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن جتنا بھی جدید ڈیفینس سسٹم بنا لے، آپ کا بیلیسٹک یا کروز میزائل اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کا رینج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وہ اسرائیل کے پانچ تہوں پر مشتمل ڈیفینس سسٹم کی مثال دیتے ہیں۔ اگر کوئی میزائل ان پانچ تہوں سے نکل کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر اسے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کا ایم آئی آر ویز سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے جیسا کہ پاکستانی میزائل ابابیل ہے۔‘ سید محمد علی کے مطابق ایم آئی آر ویز کا مطلب ایک ایسا میزائل ہے جو بیک وقت کئی وار ہیڈز لیجا سکتا ہے جو آزادانہ طور پر پروگرامڈ ہوتے ہیں اور ان وار ہیڈز کی تعداد تین سے آٹھ اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ میزائل آزادانہ طور پر اپنے اپنے ہدف کی جانب جاتے ہیں اور ہر ایک کا ہدف کی جانب سفر کا راستہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپ ایک میزائل کے ذریعے سے جب اسے لانچ کرتے ہیں تو وہ مختلف سمتوں میں پھیل کر اپنے اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔
محمد علی کا دعویٰ ہے کہ ’پاکستان اگر اپنے ابابیل میزائیل کو بہتر بنا رہا ہے تو اس کا مقصد انڈیا کے علاوہ کسی اور ملک کو ہدف بنانا نہیں۔ اسکا بنیادی مقصد انڈیا کے سسٹم میں آنے والی جدت کو ناکام بنا کر اسکے میزائیلوں کی ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیتوں کا سدباب کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کسی ایسی ٹیکنالوجی پر کام نہیں کر رہا جو پہلے سے انڈیا کے پاس نہیں ہے اور انڈیا نہ صرف بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے بلکہ انھیں ٹیسٹ بھی کر چکا ہے جن کی رینج 5000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈیا کا ٹارگٹ پاکستان یا چین نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان نے اس رینج کے کسی میزائل کا آج تک تجربہ نہیں کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پر یہ الزام تکنیکی حقائق کے خلاف ہے۔
اس بار گفتگو کرتے ہوئے ایک اور پاکستانی ایکسپرٹ ڈاکٹر منصور احمد کا کہنا ہے کہ ’ایسا ممکن ہے کہ پاکستان ابابیل میزائل سسٹم کا زیادہ جدت والا ورژن تیار کر رہا ہو جو کسی بھی انڈین بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈ کو شکست دے سکتا ہے اور ایک سے زیادہ وار ہیڈز کا بھاری پے لوڈ لے جا سکتا ہو۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے لیے زیادہ طاقتور راکٹوں کی ضرورت ہو گی۔ امریکی حکام ہمارے قومی ادارے این ڈی سی پر اسی کی تیاری کا الزام لگا رہے ہیں لیکن یہ انڈیا کے لیے بنائے گئے مخصوص میزائل سسٹم کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل میں تبدیل نہیں کر سکتا اور اس کے لیے بالکل نیا میزائل سسٹم چاہیے ہو گا۔
ٹائمنگ کے حوالے سے سید محمد علی اور ڈاکٹر منصور دونوں ہی اس کا الزام بائیڈن انتظامیہ کو ٹھہراتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انتظامیہ بہت زیادہ حد تک انڈیا کے زیرِاثر ہے۔ انکا کہنا یے کہ یہ ’امریکہ کے پالیسی ساز حلقوں میں انڈیا کے بڑھتے اثرورسوخ کا نتیجہ ہے اور پاکستانی کی دفاعی صلاحیتوں میں کمی لانے کے لیے انڈیا اب امریکہ کا کندھا اور دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر تنقید اور شکوک و شبہات کا اظہار کرنا اس بات کا ثبوت ہے واشنگٹن میں انڈین لابی بائیڈن کے آخری دنوں میں ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔‘
پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں امن و استحکام کےلیے ہیں : دفتر خارجہ
سید محمد علی کا ماننا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے ’کیونکہ پاکستان کا میزائل و ایٹامک پروگرام انڈیا کے لیے مخصوص ہے اور پاکستان کسی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔‘
