مونس کی گرفتاری کے حکم پرچودھری عمران خان پر برہم

پچھلے ساڑھے تین برس تک کپتان حکومت کا ساتھ دینے والے چودھری برادران نے تب وزیراعظم عمران خان سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ قاف لیگ کو اپوزیشن کے ساتھ جانے سے روکنے کی خاطرنیب کو وزیراعظم ہاؤس سے مونس الہی کی گرفتاری کی ہدایت کی گئی ہے
تاہم نیب حکام نے یہ بات فوری طور پر گجرات کے چوہدریوں کو لیک کر دی۔ قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید انہیں یہ خبر لیک کرنے کا مقصد بھی ڈرانا دھمکانا تھا تاکہ چوہدری برادران نہ صرف حکومت کے ساتھ کھڑے رہیں بلکہ اپنی جماعت کو تحریک انصاف میں ضم کرنے پر بھی آمادہ ہوجائیں۔ اسی دوران مونس الہی نے وزیراعظم عمران خان کو ایک عوامی اجتماع میں اپنی جماعت کی جانب سے ان کے ساتھ کھڑا رہنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
تاہم بتایا جاتا ہے کہ کپتان نے اس یقین دہانی کو چودھریوں کی کمزوری سمجھا اور اور 14 مارچ کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات میں مونس الہی پر دوبارہ دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے بزرگوں کو قاف لیگ تحریک انصاف میں ضم کرنے پر آمادہ کریں۔ لیکن جب مونس نے معذوری کا اظہار کیا تو دوبارہ سے ان کی گرفتاری کا کہا گیا۔ تاہم وزیراعظم ہاؤس کو بتایا گیا کہ چوہدری برادران نیب کے تمام مقدمات سے بری ہوچکے ہیں اور اب قومی احتساب بیورو میں نے ان کے خلاف کوئی ریفرنس زیر سماعت نہیں۔
قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں قومی احتساب بیورو کے سینئیر حکام کی جانب سے یہ خبر لیک کی گئی کہ مونس الہی کی گرفتاری کی ہدایات جاری کی گئی ہیں حالانکہ تب گجرات کے چوہدری پوری نیت اور اخلاص کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے۔ اب تو ایک انٹرویو میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ پچھلےدنوں مونس الٰہی کی گرفتاری کے لیے نیب کو ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ سینئر صحافی مہر بخاری کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز الہی نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنے سیاسی مخالفین جیل میں ڈالنے کا بہت زیادہ شوق ہے، حتی کہ مونس کی گرفتاری کا حکم بھی جاری کیا گیا لیکن چونکہ ان کے خلاف کوئی کیس زیر سماعت انہیں اس لیے گرفتاری نہ ہو سکی۔
پرویز الہی نے کہا کہ ہماری طرف سے ہمیشہ دوستی اور وفاداری کا اظہار کیا گیا جبکہ دوسری جانب سے ہمیشہ دشمنی اور زیادتی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو حکم دیا گیا کہ مونس کو پکڑو جس پر نیب نے بتایا کہ ان کا عدالتی فیصلہ آچکا ہے اور وہ بری ہو چکے ہیں۔ لیکن دوسری جانب سے کہا گیا کہ پھر بھی اسے پکڑو اور کچھ نہ کچھ نکالو۔ پرویز الہی نے کہا کہ وزیراعظم کو بدلہ لینے کا بڑا شوق ہے اور ان کا بس چلے تو سب کو جیلوں میں ڈال دیں۔
قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران کو جب وزیر اعظم کے عزائم کا علم ہوا تو انہوں نے بھی ابوزیشن کی جانب سے بڑھایا گیا دوستی کا ہاتھ تھام لیا۔ بظاہر ق لیگ نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا لیکن باوثوق ذرائع کا دعوی ہے کہ چوہدری برادران اور اپوزیشن کے معاملات طے پا چکے ہیں اور پرویز الہی کو پنجاب کا وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

ن لیگ کے رہنما چوہدری تنویر خان کا 7 روزہ ریمانڈ منظور

لیکن ابھی اس فیصلے کو چند روز مزید خفیہ رکھا جائے گا  تا کہ عمران خان کوئی فوری کاؤنٹر اسٹریٹجی تیار نہ کر سکیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق چوہدری برادران کو یہ کمنٹ بھی دی گئی ہے کہ پرویز الہی پنجاب اسمبلی کی بقیہ ڈیڑھ سالہ مدت کے لیے وزیر اعلیٰ ہوں گے اور اس کمٹمنٹ کے ضامن آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن ہوں گے۔
تاہم، یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ اپوزیشن والوں کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام بنانے کیلئے جس وقت پی ٹی آئی کی حکومت کو اپنے اتحادیوں کی اشد ضرورت ہے اس وقت حکومت کے اندر موجود کچھ افراد نے کھل کر ق لیگ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے تو یہ کام وزیر داخلہ شیخ رشید نے کیا اور ق لیگ کیلئے کہا کہ پانچ سیٹوں والی پارٹی پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے حکومت کو بلیک میل کر رہی ہے۔ جس کے بعد مونس الٰہی نے ٹوئٹر پر بیان دیتے ہوئے شیخ رشید پر شدید جوابی وار کیا۔
بعد میں شیخ ر شید نے کہا کہ انہوں نے تو ایسے ہی ایک سوال کا جواب دیا تھا کہ چار اور پانچ پارٹیوں والی جماعتیں حکومت کو بلیک میل کر رہی ہیں۔ اگلے ہی دن اسد عمر نے ایک بیان داغ دیا اور کہا کہ ق لیگ پنجاب کے چند حلقوں کی جماعت ہے۔ حکومتی وزراء کی جانب سے اس طرح کے بیانات کے بعد اب چوہدری برادران بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں اور پرویز الہی نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس اس وقت حکومتی اتحاد سے زیادہ لوگ موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قاف لیگ اب اپوزیشن کیمپ میں جا چکی ہے اور اگلے چند روز میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔

Captain& Chaudhry parted ways on the order of arrest of Mons

Back to top button