گیلے تیتر کی کیپٹن صفدر کے گلے پڑنے کی کوشش

شہباز حکومت کی طرف سے اتوار کی رات کو توشہ خانہ کا 2002 سے لے کر 2023 تک کا ریکارڈ کیبنٹ ڈویژن کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیا تھا جس میں سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، سابق وزرا اور سرکاری حکام کی جانب سے وصول کیے جانے والے تحائف کی تفصیلات شامل تھیں۔توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر سب کی دسترس میں ہونے کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات کے حوالے سے تحائف وصول کرنے سے متعلق غلط معلومات گردش کر رہی ہے۔سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ تنقید مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز پر کی گئی کہ انھوں نے توشہ خانہ سے مہنگی گھڑی کم قیمت پر حاصل کی۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت میں مریم نواز نے توشہ خانہ سے گھڑی خریدی؟
سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے توشہ خانہ سے ایک بہت مہنگی گھڑی کم قیمت میں خریدی۔اس حوالے سے ایک اینکر پرسن نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ مریم نواز نے 10 لاکھ روپے کی گھڑی 45 ہزار میں خریدی۔ اس پروگرام کا ایک ویڈیو کلپ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنے اکاؤنٹ سے ٹوئٹر پر اپلوڈ کی۔ تاہم مریم نواز نے نہ صرف اس کی تردید کی بلکہ اس حوالے سے ٹوئٹ کرنے پر پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کیخلاف ایف آئی اے میں درخواست بھی دے دی ہے۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے توشہ خانہ کی جو تفصیلات جاری کی گئی ہیں اس میں ایسی کسی گھڑی کا ذکر نہیں جو مریم نواز نے خریدی ہو۔ اس ریکارڈ میں صرف ایک اناناس کے ڈبے کا ذکر ہے جو مریم نواز نے بغیر کوئی قیمت ادا کیے اپنے پاس رکھا۔
سوشل میڈیا پر مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کے حوالے سے بھی ڈس انفارمیشن گردش کر رہی ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے لکس صابن کی 100 ٹکیائیں حاصل کیں۔ایسی ہی ایک حسب سابق ایک جھوٹی ٹویٹ گیلے تیتر عمران ریاض خان نے بھی کی جس میں ایک سکرین شاٹ شیئر کیا گیا جس کے مطابق کیپٹن صفدر نے صابن کی یہ ٹکیاں دسمبر 2022 میں حاصل کیں۔حالانکہ توشہ خانہ کے ریکارڈ میں کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کا کوئی ذکر ہی نہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے جو سکرین شاٹ شیئر کیا جا رہا ہے وہ بھی جعلی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صدر عارف علوی کو کروڑوں روپے کے تحائف ملے لیکن انہوں نے قرآن مجید کے علاوہ تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروا دیئے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ توشہ خانہ کے ریکارڈ کی روشنی میں پی ٹی آئی سے منسلک افراد کا یہ دعویٰ غلط معلوم ہوتا ہے۔صدر عارف علوی نے توشہ خانہ سے بہت سی چیزیں حاصل کیں جن میں پھولوں کا گلدان، کشتی کا ایک ماڈل، ایک کتب، چائے کے برتن، ٹائی، بیلٹ، پینٹنگز، چاندی کی ایک کیتلی، کلاشنکوف، کارپیٹس، ڈیکوریشن پیسز، سگار، ایک تلوار اور دو گھڑیاں بھی شامل ہیں۔صدر عارف علوی کو ملنے والی ایک مواڈو کی گھڑی جس کی مالیت 75 ہزار بتائی گئی ہے اسے توشہ خانہ میں جمع کروادیا گیا تھا۔صدر عارف علوی کو ایک رولیکس کی گھڑی بھی تحفے میں ملی جس کی قیمت کا تخمینہ 25 لاکھ روپے لگایا گیا اور یہ گھڑی انہوں نے 12 لاکھ 35 ہزار روپے ادا کر کے اپنے پاس رکھ لی۔
توشہ خانہ میں ایک ایسی انٹری بھی موجود ہے جس کے مطابق 20 دسمبر 2018 کو صدر عارف علوی کو ایک تسبیح، ایک قلم، ایک کفلنکس کا سیٹ، ایک گھڑی، ایک انگوٹھی، دو پرفیومز اور ایک قرآن مجید تحفے میں ملا تھا جس میں سے صدر پاکستان نے صرف قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور باقی چیزیں توشہ خانہ میں جمع کروادیں۔صدر عارف علوی کے حوالے سے حکومتی ریکارڈ کے مطابق ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو انہوں نے بغیر قیمت ادا کیے اپنے پاس رکھیں۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور موجودہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی توشہ خانہ سے ایک گھڑی حاصل کی۔توشہ خانہ کے ریکارڈ کے مطابق مریم اورنگزیب کو جون 2022 میں رولیکس کی دو گھڑیاں تحفے میں ملیں اور وہ دونوں انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروا دی تھیں۔
