کپتان حکومت کا خاتمہ ہو گیا، فاتحہ عدم اعتماد کے روز طے

اپوزیشن اتحاد سے معاہدہ کرنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے دونوں وفاقی وزرا فروغ نسیم اور امین الحق نے کابینہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔
متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد عمران حکومت نے بظاہر قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کھو دی ہے، اب حکومت کے قومی اسمبلی میں نمبرز 164 رہ گئے جبکہ متحدہ اپوزیشن کے نمبرز 177 تک پہنچ گئے ہیں جب کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن کو 172 اراکین کی ضرورت تھی۔
یوں اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم کی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد باغی اراکین اسمبلی کی مدد کے بغیر ہی مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔
29 مارچ کی رات متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے معاہدہ فائنل ہونے کے بعد اپوزیشن کی حمایت کا فیصلہ کرلیا تھا جس کا اعلان آج کیا جائے گا۔
رات گے ایم کیو ایم اور اپوزیشن کے مابین انڈرسٹینڈنگ ہو جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کو منانے کی کوششیں دوپہر تک جاری رہی لیکن بالآخر رائیگاں گئیں۔ بتایا گیا یے کہ ایم کیوایم اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدہ طے پا گیا جس پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم کی جانب سے رات دو بجے دستخط کردیئے گئے۔ اس معاہدے کو دو حصوں یعنی وفاقی اور صوبائی سطح پر تقسیم کیا گیا ہے۔
معاہدے کی ضمانت مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور آصف علی زرداری نے دی ہے۔ معاہدے کی تین بڑی شرائط میں ایم کیو ایم کے دفاتر کا کھولنا، اسکے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرانا اور اس کے کارکنان کو رہا کرنا ہیں۔
ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے میں نہ تو سندھ کی گورنر شپ کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی وفاقی وزارت کا، لیکن اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ ہو چکی ہے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق انھیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی ہر طرح کا مطالبہ تسلیم کیے جانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن چونکہ 2018 میں کپتان حکومت کا حصہ بنتے وقت ایم کیو ایم کے پیش کردہ مطالبات میں سے کسی ایک پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی لہذا اب ان پر بھروسہ کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔
ویسے بھی ایم کیو ایم کے زیادہ تر مطالبات چونکہ سندھ حکومت کے دائرہ کار میں آتے ہیں لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا جائے۔
بتایا جا رہا ہے کہ معاہدے کے سب سے اہم ترین ضامن شہباز شریف ہیں جو کہ عمران کی فراغت کے بعد بھی ملک کے نئے وزیراعظم ہوں گے، لہذا اپوزیشن اتحاد سے ہونے والے معاہدے میں وفاق سے متعلق یقین دہانیوں پر عملدرآمد شہبازشریف کی ذمہ داری ہو گی۔
اس سے پہلے اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے مابین ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد رات ڈھائی بجے بلاول بھٹو نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا کہ متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدہ ہوچکا ہے۔ بلاول بھٹو کی ٹویٹ کے بعد ایم کیوایم رہنما فیصل سبزواری نے بھی اپنی ٹویٹ میں اس کی تصدیق کی اور لکھا کہ آج شام چار بجے پریس کانفرنس میں معاہدے کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔
رات گے ایم کیو ایم پاکستان اور اپوزیشن کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے لیے حزبِ اختلاف کے تمام اہم سربراہ موجود تھے، اپوزیشن کی جانب سے آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے دستخط کئے۔
خاتون اول کو ٹارگٹ کرنے کیلئے فرح بی بی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کو حتمی نتیجے پر پہنچانے کے لیے اپوزیشن کا ایک بڑا وفد پارلیمنٹ لاجز پہنچا تھا، جس میں خواجہ آصف، سعد رفیق، نوید قمر، شیری رحمان، اختر مینگل، مولانا غفور حیدری، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، مرتضی وہاب، سعید غنی سمیت دیگر شامل تھے۔ اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور آصف زرداری بطور ضامن معاہدے پر دستخط کئے۔
ایم کیو ایم کو اپوزیشن نے یقین دلایا ہے کہ ان کے تین اہم مطالبات جھوٹے مقدمات کی واپسی، لاپتا افراد کی بازیابی اور بند دفاتر کھولنے پر جلد مرحلہ وار عمل در آمد شروع کردیا جائے گا جبکہ سندھ کے شہری علاقوں میں بلدیاتی اداروں میں ایم کیو ایم کے ایڈمنسٹیٹرز کی تقرری فوری کی جائے گی۔ اسکے علاوہ سندھ لوکل گورنمٹ آرڈیننس میں قانونی طور پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔
