تحریک انصاف میں بغاوت کے بعد کپتان کی چھٹی یقینی

حکمران جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے باغی اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے سامنے آکر وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ بننے کے اعلان کے بعد اب کپتان کے اقتدار کا خاتمہ یقینی نظر آتا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 24 حکومتی اراکین اسمبلی کے ساتھ سندھ ہاؤس میں مقیم ہیں جو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالیں گے۔

اس سے پہلے انٹیلی جنس بیورو نے وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کیا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں آنے والے تحریک انصاف کے کم از کم 30 اراکین قومی اسمبلی ایک فارورڈ بلاک بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جن میں سے زیادہ تر اس وقت اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں پناہ گزین ہیں۔ چنانچہ یہ خبر ملنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے سندھ ہاؤس کو ہارس ٹریڈنگ کا مرکز قرار دے دیا اور الزام لگایا کہ وہاں نوٹوں سے بھری بوریاں پہنچائی جارہی ہیں تاکہ اراکین اسمبلی کو خریدا جا سکے۔

اس کے بعد فواد چودھری نے یہ دعویٰ کیا کہ سندھ ہاؤس اس وقت ہارس ٹریڈنگ کا مرکز ہے جہاں سندھ پولیس کے چار سو جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ ہاؤس پر ایک بڑا ایکشن کرنے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لاپتہ 12 بندے ڈھونڈنے سے متعلق سوال پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان 12 بندوں کا ہمیں پتا ہے۔

تاہم دوسری جانب حکومت کو تب ایک بڑا جھٹکا لگا جب تحریک انصاف کے ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض اور نور عالم خان نے علیم خان کے سماء اور جیو ٹی وی پر سامنے آ کر یہ دعویٰ کردیا کہ وہ سندھ ہاوئس میں دو درجن حکومتی اراکین اسمبلی کے ساتھ مقیم ہیں جو اپنے ضمیر کی آواز پر عدم اعتماد والے دن ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں قیام کا مقصد اراکین اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنا ہے کیونکہ ماضی میں ہمارے گروپ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر نور عالم خان نے کہا کہ جو لوگ پیسے لے کر اپنا ووٹ دیتے ہیں وہ رسول کے امتی نہیں ہوتے اور پیسےلینے کا الزام سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اسی دوران تحریک انصاف کے نواب شیر وسیر بھی سامنے آگئے اور انہوں نے بھی سندھ ہاؤس میں حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدم اعتماد والے دن عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے باغی رکن اسمبلی کا یوں کھل کر سامنے آ جانا اس بات کا غماز ہے کہ حکومتی جماعت میں بڑا شگاف پڑ چکا ہے اور اب مزید اراکین اسمبلی اس کا حصہ بننے جارہے ہیں۔ لہذا اب وزیر اعظم کے لئے اپنی سیٹ بچانا ناممکن ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے چند روز پہلے یہ دعوی کیا تھا کہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے 15 اراکین اسمبلی اس وقت اپوزیشن کی تحویل میں ہیں جو وزیر اعظم کے خلاف ووٹ دینے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب عمران خان نے سویلین حساس اداروں کو ارکان پارلیمنٹ اور سندھ ہاؤس کی سخت مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کچھ ارکان پارلیمنٹ کے مسنگ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مانیٹرنگ کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سویلین حساس اداروں کو ارکان پارلیمنٹ کی مانیٹرنگ کا حکم دے دیا گیا ہے، اور انہی ارکان پارلیمنٹ کی لوکیشن، کال ڈیٹا اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کا کہا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد حکومتی جماعت کے مزید اراکین اسمبلی کو ٹوٹنے سے روکنا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد جہاں بہت سے تنازعات سامنے آئے ہیں ان میں ایک تنازع سندھ ہاؤس سے بھی جڑا ہے جس کی وجہ سے سندھ ہاؤس آج کل خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف فائیو میں جہاں آئینی و قانونی ادارے قائم ہیں وہیں صوبائی حکومتوں کی ملکیت میں کچھ ہاؤسز ہیں جن میں پنجاب، سندھ، کے پی کے، بلوچستان اور کشمیر ہاؤس شامل ہیں۔ یہ ہاؤسز وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جن میں گورنر اور وزرائے اعلیٰ کے مہمان خانے یعنی انیکسیز بنی ہوئی ہیں جن کا استعمال ان کی صوابدید ہے۔ ہر ہاؤس میں رہائشی کمرے ہیں جن کو متعلقہ صوبوں کے وزراء، ارکان اسمبلی، صوبائی حکام اور مخصوص شہریوں کو یومیہ کرائے پر دیا جاتا ہے۔

حکومتی اجلاس میں ق لیگ کا وزارت اعلیٰ کا مطالبہ نامناسب قرار

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پہلے الزام لگایا کہ سندھ ہاؤس میں ارکان قومی اسمبلی کو خریدنے کے لیے نوٹوں کی بوریاں کھولی جا رہی ہیں۔ بعد ازاں وفاقی وزراء نے کہا کہ تحریک انصاف کے منحرف ارکان کو بھی سندھ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا ہے۔

سندھ ہاؤس اگرچہ اسلام آباد میں موجود ہے لیکن اس کا انتظام و انصرام سندھ حکومت کرتی ہے کیونکہ یہ سندھ کی ملکیت ہے۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت یا اس کا کوئی ادارہ وہاں کوئی ایسی مداخلت نہیں کر سکتا جو ان کے اختیار میں نہیں آتی۔ سندھ ہاؤس کی انتظامیہ کے مطابق سندھ ہاؤس کا قیام 1973-74 میں ذوالفقار علی بھٹو نے عمل میں لایا تھا۔ جس کا بنیادی مقصد صوبائی حکام کے وفاقی دارالحکومت میں آمد کے وقت ان کو مناسب رہائش فراہم کرنا تھا۔ سندھ ہاؤس کے کیئر ٹیکر محمد ریاست کے مطابق ’25 ایکڑ پر پھیلے تاریخی سندھ ہاؤس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ بھی دیا گیا تھا۔ 1988 میں جب بے نظیر بھٹو پہلی مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو وزیر اعظم ہاؤس میں تزئین و آرائش جاری تھی تو انھوں نے سندھ ہاؤس کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دلوایا تھا۔ اس کے علاوہ بھی دو مواقع پر سندھ ہاؤس وزیر اعظم ہاؤس قرار دیا جا چکا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’سندھ ہاؤس میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سمیت سندھ کی متعدد سیاسی شخصیات اور کئی عالمی رہنماؤں نے بھی قیام کیا ہے۔‘ سندھ حکومت کے محکمہ ورکس کے مطابق ’سندھ ہاؤس کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے یہاں پر 97 ملازمین رکھے گئے ہیں۔ اس میں متعدد بلاکس ہیں جن میں 30 کے قریب کمرے، ہالز، لابیز اور پاکس موجود ہیں۔ جبکہ مزید کمروں کی تعمیر اور وی وی آئی پی بلاک کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔‘ تاہم اس وقت سندھ ہاؤس سندھ پولیس کے نرغے میں ہے۔

Captain’s leave guaranteed after PTI coup Urdu News

Back to top button