2سال کیلئے لائی گئی نگراں حکومت 1 ماہ بھی نہ نکال سکی؟

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزبروز دگرگوں ہوتی معاشی صورتحال کی وجہ سے طویل دورانیے کیلئے لائی گئی نگراں حکومت کو جلد از جلد گھر بھجوانے اور اقتدار الیکشن کے ذریعے منتخب کردہ حکومت کردہ حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں منتخب حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد آئینی طور پر نگراں حکومت دو منتخب حکومتوں کے درمیان عرصے میں روز مرہ انتظام و انصرام اور الیکشن کے انتظامات کے لیے لائی جاتی ہے۔ تاہم موجودہ نگراں حکومت کی آمد کے کچھ ہی ہفتوں میں قرائن کئی بار بدلے ہیں۔ جب نگراں حکومت آئی تو ایسا تاثر سامنے آیا کہ گویا ابھی الیکشن والی دلی دور ہے۔ ایک دو ہفتوں میں ہی صورتحال کچھ ایسی بدلی کہ دوبارہ الیکشن قریب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اتنے سے عرصے سے نو الیکشن سے پھر الیکشن کا سفر کیسے طے ہوا؟ اس سفر کا آغاز تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا سے ہو چکا تھا۔ اگرچہ دونوں صوبوں میں الیکشن التوا کی دلیل یہی دی گئی کہ ملک میں استحکام کے لیے مناسب ہو گا کہ تمام الیکشن ایک ہی دن کرائے جائیں۔ مگر جب آئینی حددو کو حالات کے مطابق موڑنے کا سلسلہ چلا تو سب کو اندازہ تھا کہ بات صوبوں میں انتخابات کے التوا تک نہیں رکے گی۔ اس کے بعد اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کر کے 90 دن کا بندو بست بھی کیا گیا۔ سب سے اہم مردم شماری کو آخری وقت میں منظور کر کے نئی حلقہ بندیوں سے الیکشن میں التواء کا نیا جواز بھی پیدا کر دیاگیا۔
ان خیالات کا اظہار اینکر پرسن ماریہ میمن نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ ماریہ میمن کا مزید کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کے انتخاب میں بھی اس طرح کی پراسراریت اور سرپرائز کا عنصر تھا کہ یہی تاثر سامنے آئے کہ یہ حکومت 90 دن والی نہیں ہے۔ نگراں وزرا نے بھی آنے کے بعد دور رس اصلاحات کا ذکر شروع کر دیا۔ اربوں ڈالر کی باتیں ہونے لگیں اور بات مارچ 2024 سے بھی آگے جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ اسی دوران طویل مدت منصوبے میں روڑے اٹکتے بھی نظر آنے لگے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت جو حکومت جانے سے ایک ہفتہ پہلے تک شیر و شکر ہو کر اجلاسوں میں مردم شماری کی منظوری دے رہی تھی تاہم بعد ازاں نگراں کابینہ میں ن لیگ سے وابستہ افراد کی اکثریت اور پیپلز پارٹی کے ہمدردوں کی عدم موجودگی کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی طرف سے 90 دن میں الیکشن پر اصرار بھی شروع ہو گیا۔ وہ جماعت جو ان تمام اقدمات میں حصہ دار تھی جن سے الیکشن آگے لے جانے کا بند وبست ہوا وہ وقت پر الیکشن کروانے کی دعویدار بن گئی۔
ماریہ میمن کے مطابق سیاسی تفریق تو شاید مینیج بھی ہو جائے مگر عوام کی اقتصادی مشکلات اور یکے بعد دیگرے قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں جو ردعمل سامنے آیا اس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ بجلی، تیل اور چینی کی قیمتوں کو جو پر لگے ہیں ان کی واپسی کی کوئی صورت نہیں۔ ڈالر 325 روپے میں بھی دستیاب نہیں اور سٹاک مارکیٹ مستقل نیچے جا رہی ہے۔
نگراں حکومت کا اعتماد بھی اسی تیزی کے ساتھ نیچے گیا۔ اس وقت کوئی وزیر بھی نگراں حکومت کے طرف سے اپنے منصوبوں کا اعادہ کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ جیسے جیسے ملک میں معاشی اور عوامی حالات بدل رہے ہیں اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی الیکشن جلد کروانے مختلف اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ حلقہ بندیاں بھی 30 نومبر تک مکمل کرنے کی تاریخ سامنے آئی ہے اور اس کے ساتھ غیر مصدقہ خبروں کے مطابق 28 جنوری کو الیکشن کا اعلان ہو سکتا ہے۔یہ تمام خبریں گذشتہ چند روز میں ہی سامنے آئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ایک دفعہ پھر الیکشن کی سرگرمیاں تو نہیں مگر ان کا ذکر ضرور شروع ہو گیا ہے۔
ماریہ میمن کہتی ہیں کہ لندن ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے اور پنجاب اور سندھ سمیت کئی رہنما لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرتے پائے جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی اکتوبر میں واپسی کا ایک بار پھر اعلان ہو چکا ہے جو جنوری فروری کی مجوزہ تاریخ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس وقت یعنی آج کے دن حالات نو الیکشن سے ہوتے ہوئے پھر الیکشن کی طرف جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔اس کی وجوہات واضح ہیں۔ عوام کا اجتجاج اب غصے میں بدلتا جا رہا ہے ان حالات سے کوئی بھی نگراں حکومت کی بجائے منتخب حکومت ہی ڈیل کر سکتی ہے۔
ماریہ میمن کہتی ہیں فی الحال زمینی حالات کے مطابق بات پھر الیکشن کی طرف ہی جاتی نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ معاشی اور آئینی مسائل سے نکلنے کا ابتدائی راستہ تو ایک آزاد اور منصفانہ الیکشن میں ہی ہے۔ اب بس دیکھنا یہ ہے کہ نو الیکشن اور پھر الیکشن کے بعد کوئی نیا پڑاؤ
شاہ رخ خان، سنی دیول 16 سال بعد دوبارہ بغل گیر
تو سامنے نہیں آتا؟
