جسٹس فائز عیسی کے خلاف کیس کرنے والا ISI کا ٹاؤٹ تھا

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ نے کہا ہے کہ ان کے شوہرکے خلاف کیس دائر کرنے والے ڈوگر نامی شخص نے عدالت میں خود کو آئی ایس آئی کا ٹائوٹ بتایا تھا۔

سینئرصحافیوں کے ایک پینل کے ساتھ انکشافات سے بھرپورایک انٹرویومیں مسز سرینا عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں ٹیکس چور قرار دے دیا۔ انٹرویو کرنے والے صحافیوں میں عبدالقیوم صدیقی کے علاوہ سلیم صافی، طلعت حسین، عمران شفقت اور وجاہت مسعود شامل تھے۔ مسز سرینا عیسیٰ نے کہا جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف بد نیتی پرمبنی دائر کردہ صدراتی ریفرنس جھوٹ کا پلندا ثابت ہوااورانصاف کا بول بالا ہوا، انکا کہنا تھا کہ ریفرنس کا واحد مقصد جسٹس فائز کی برطرفی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنس دائر کرنے کے بعد صدرعارف علوی نے ہمارے خلاف تین انٹرویوز دیئے حالانکہ تب معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت تھا۔

مسزسرینا عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس فائزعیسیٰ پر قاتلانہ حملے کی سازش کرنے والوں میں عمران خان کے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر بھی شامل تھے، جن کا قتل پر اکسانے والے شخص کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے جب میں نے اس شخص کے خلاف کیس درج کروایا تو اس کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے لندن کی جائیداد اپنی عمر بھر کی محنت کی کمائی سے بنائی تھی اورمیں نے سپریم کورٹ میں یہ دعویٰ دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ثابت بھی کیا، ایک سوال پران کا کہنا تھا کہ میری اورعمران خان کی لندن میں جائیداد کی قیمت ایک جتنی ہے، یعنی سات لاکھ پاونڈز کے قریب۔ لیکن وزیراعظم ہونے کے باوجود ان سے کسی نے سوال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا کسی نے عمران سے پوچھا کہ انہوں نے لندن میں فلیٹ ایک آف شور کمپنی کے نام پر کیوں خریدا؟ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ دوسروں کی جائیدادوں کی تحقیقات کروانے والے عمران خان اپنی بیویوں اوراولاد کی جائیدادوں کی تفصیل ظاہر کیوں نہیں کرتے؟

مسزسرینا عیسیٰ نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں اپنے کیس کی سماعت کے دوران یہ بتایا تھا کہ عمران خان نے جھوٹے بیان حلفی پرخود کو بے گھر ظاہر کرکے نواز شریف سے پلاٹ وصول کیا، ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ انہوں نے اسلام آباد میں بھی حکومت سے ایک پلاٹ حاصل کیا۔ مسز سرینا نے کہا کہ میری جائیداد پر سوال اٹھانے والے ججوں نے اپنی بیویوں اور بچوں کے اثاثے تو ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی وزیراعظم عمران خان نے آج تک اپنے بنی گالہ والے محل کی منی ٹریل دی ہے؟ انہوں نے کہا کے یکساں احتساب کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو خود اپنے خلاف بھی صدارتی ریفرنس دائر کروانا چاہیے تھا تاکہ سچ سامنے آ جاتا۔ سرینا عیسیٰ نے کہا کہ میں سپریم کورٹ میں کہہ چکی ہوں کہ عمران خان اورشہزاد اکبر جیسے انکے ساتھی ٹیکس چورہیں اور عمران خان بطوروزیراعظم ساکھ کے بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا جسٹس فائزعیسیٰ نے دیگر ججوں کی طرح کوئی پلاٹ حاصل نہیں کیا لیکن فائزعیسیٰ پراعتراض کرنیوالے ججز حضرات کو اپنی جائیدادوں کی تفصیلات بھی پبلک کرنی چاہئیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پرصدرعارف علوی نے مئی 2019 میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف نا اہلی کا صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائرکیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ فاضل جج نے 2011 اور 2015 کے دوران اپنی بیوی اوربچوں کےنام پر لندن میں تین جائیدادیں لیز پرحاصل کیں، جنہیں کہ گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ جسٹس عیسیٰ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان جائیدادوں کے بلواسطہ یا بلاواسطہ طورپر بینیفشل آونر نہیں ہیں اور یہ انکی اہلیہ کی ملکیت ہیں۔

قاضی فائزعیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کےخلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ طاقتور ریاستی عناصرہرصورت ان کوان کے آئینی عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں اوران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا بھی یہی مقصد ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف دائرکردہ صدارتی ریفرنس مسترد کر دیا تھا۔

case against Justice Faiz Issa was the tout of ISI video

Back to top button