سنسر بورڈ کی چُھری فلموں کی نمائش میں بڑی رکاوٹ

اکٹھے آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہمسایہ ملک بھارت کی فلم انڈسٹری کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن پاکستان میں آج بھی فلم سنسر بورڈ، نام نہاد کوڈ آف کنڈکٹ کی آڑ میں اچھی فلموں پر سنسر شپ کی قینچی چلا کر انہیں ناکارہ کرنے میں مصروف ہے۔

حال ہی میں نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی پاکستانی ویب سیریز ’مسٹر اینڈ مسز شمیم‘ سنسر بورڈ کی جانب سے اچھی فلموں کے قتل عام کی تازہ مثال ہے۔ یاد رہے کہ زنانہ خصوصیات کے حامل ایک مرد بارے بنائی گئی اس فلم کو بھارتی پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز کیا گیا یے۔ فلم میں مسٹر شمیم کا مرکزی کردار نعمان اعجاز نے ادا کیا ہے جبکہ مسز شمیم کا کردار صبا قمر نے نبھایا ہے۔ اس فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں ملی تھی کیونکہ فلم سنسر بورڈ نے اسے اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف اور پاکستانیوں کے لیے بہت زیادہ بولڈ قرار دے دیا تھا۔

ایسے میں ناقدین سوال کرتے ہیں کہ ہم کب تک اچھی فلموں کو یہ کہہ کر روک سکتے ہیں کہ سنسر بورڈ کا کوڈ آف کنڈکٹ انہیں دکھانے کی اجازت نہیں دیتا، ان کا اصرار ہے کہ پاکستانی فلم سنسر بورڈ کو جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلم سنسر بورڈ کے ہاتھوں برباد ہونے والی ایک اور اچھی فلم ’زندگی تماشا‘ ہے جو دو سال سے تحریک لبیک والوں کے دباؤ کے باعث ریلیز ہونے کے انتظار میں ہے۔ اسکے علاوہ منفرد موضوعات پر بننے والی دو اور فلموں ’آئی ول میٹ یو دیئر‘ I will meet you there اور ’جاوید اقبال‘ کی نمائش بھی روکی جا چکی ہے۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین ارشد منیر نے بتایا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم فلم ’زندگی تماشا‘ کو ریلیز کا سرٹیفیکیٹ دے چکے ہیں اور ہماری جانب سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جہاں تک فلم ’جاوید اقبال‘ کی بات ہے تو ہم نے کبھی اس کو نمائش سے نہیں روکا، ہمارے پاس جب یہ فلم آئی تو ہم نے اس کو ری ویو کرنا تھا، اس سے قبل پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز نے اس کو پاس کر کے بعد میں اپنا فیصلہ واپس لے لیا،

لہٰذا ان کے فیصلے کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اپنا گھسا پٹا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فلم سنسر بورڈ کا کہا ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہے اور ہمیں اسی کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہے، فلم کی نمائش کو روکنا یا نہ روکنا کسی ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ پورے بورڈ کے ممبران کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ ممبران سول سوسائٹی سے ہوتے ہیں جو سب مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی فلم کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نمائش کیلئے پیش کی جا سکتی ہے اور کون سی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی نیٹ فلکس اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز موجود ہیں، اگر کوئی وہاں کچھ دیکھنا چاہتا ہے تو بھلا دیکھے، ہم نے روکا تو نہیں، ہم تو اپنی معاشرتی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے فلمون کو نمائش کی اجازت دیں گے، ہمارے ہاں کبھی کسی موضوع کو نہیں روکا گیا ہر موضوع پر فلم بنانے کی اجازت ہے بس دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ پیش کرنے کا انداز کیا ہے اور اس سے عوام کو کیا میسج جا رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سیریل کلر پر بنائی گی فلم ’جاوید اقبال‘ میں کوئی میسج نہیں، 100 بچے مارنے والے ایک ظالم انسان کو ولن دکھانے کی بجائے گلیمرائز کیا گیا ہے، ایک سوال کے جواب میں ارشد منیر نے کہا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کو ریوائز کرنے کی یقیناً گنجائش موجود ہے اور ہونی بھی چاہئے۔

دوسری جانب نمائش سے روکی جانے والی فلم جاوید اقبال کے ڈائریکٹر ابو علیحہ کہتے ہیں کہ سنسر بورڈ کے چئیرمین کا یہ موقف تو ایک لطیفہ ہے کہ فلم میں دیکھنے والوں کے لیے کوئی میسج نہیں ہے، سنسر بورڈ کو فلم میں اگر کوئی چیز غلط لگ رہی ہو تو اس کو روکا جا سکتا ہے یہ اختیار یقیناً سنسر بورڈ کے پاس ہے، لیکن سنسر بورڈ والے کسی بھی فلم میکر کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس طرح کی فلم بنائے۔

پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ فلم بنانے سے پہلے سنسر بورڈ یا گورنمنٹ کو سکرپٹ دکھایا جائے، پنجاب اور سندھ سنسر بورڈز نے ہماری فلم کو پاس کر دیا لیکن بعد میں اپنے فیصلے پر کھڑے نہیں رہ سکے، وفاقی سنسر بورڈ نے تو سیدھا ہی کہہ دیا کہ ان کو فلم سمجھ میں ہی نہیں آئی، چلیں اتنا کہنا ان کا حق ہے، پنجاب سنسر بورڈ نے فلم کو پاس کیا لیکن پنجاب گورنمنٹ نے اس کو نمائش سے روک دیا کیوں روکا یہی جاننے کے لیے ہم ہائیکورٹ چلے گئے۔

ثانیہ مرزا کو بالی ووڈ میں آئٹم سانگ کی پیشکش

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بچگانہ تصور ہے کہ ایک آدمی اپنے جرم پہ شرمندہ نہیں، اگر اس نے شرمندہ ہونا ہوتا تو وہ پہلے قتل کے بعد ہوتا، دوسرے یا تیسرے قتل کے بعد ہوتا، مسئلہ سارا یہ ہے کہ سنسر بورڈ میں ہمارے ہاں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ہوتی ہیں، جن کو فلم کی اے بی سی بھی نہیں پتا، وہ فلموں پر فیصلے دے رہے ہوتے ہیں، رہی بات فلم کے سمجھ نہ آنے کی تو کورٹ میں اس بیانیے کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔

اسی طرح ایک اور فلم ’آئی ول میٹ یو ڈیئر‘ I will meet you thereکو امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے تناظر میں بنایا گیا ہے لیکن اس کو بھی سنسر بورڈ نے نمائش سے روک دیا ہے، فلم کی ڈائریکٹر ارم پروین بلال کا سوال ہے کہ جو فلم مسلمانوں کی درست عکاسی کرنے اور انکے بارے منفی تاثر ختم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اسے کس طرح سے مسلمانوں کے خلاف قرار دے کر نمائش سے روکا جا سکتا ہے۔

Censor board knife screening major obstruction Urdu News

Back to top button