چیئرمین نیب کی تقرری: پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایکشن پلان شیئر کر دیا

پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایکشن پلان شیئر کیا ہے جس میں نیب کے چیئرمین کی تقرری کے عمل کا جائزہ لینے، اعلیٰ سطح کے وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشوارے 2026 میں شائع کرنے اور اثاثوں کی خطرات پر مبنی تصدیق (رسک بیسڈ ویریفکیشن) کے نظام کو متعارف کرانے کے اقدامات شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کے مطابق نیب چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے گی اور اسے وفاقی کابینہ کے سامنے غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور نیب جیسے اہم نگراں اداروں کے سربراہان کی تقرری کے قانونی فریم ورک کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ میرٹ پر مبنی انتخاب کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین کی براہِ راست تقرری کے عمل کو مجوزہ ترمیمی بل میں ضابطہ بند کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک سلیکشن کمیٹی ممکنہ امیدواروں کی نشاندہی اور سفارش کرے گی، جبکہ وفاقی حکومت قواعد جاری کر کے اس عمل کو باضابطہ بنائے گی۔ قواعد میں چیئرمین، کمشنرز اور پالیسی بورڈ ممبران کی تقرری کا مکمل طریقہ کار اور مدت ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل تقرری کے آغاز کا شیڈول شامل ہوگا۔
اسی طرح، سی سی پی کے قواعد کے نوٹیفکیشن میں چیئرمین اور ممبران کی تقرری کے مکمل عمل اور سالانہ گورننس و شفافیت رپورٹ کی اشاعت شامل کی جائے گی۔ یہ اقدامات 27 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ مارکیٹوں، بشمول اجناس کی منڈیوں، میں مسابقت اور ریگولیٹری استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کا باضابطہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ انسداد بدعنوانی کے ادارے کی عوامی ساکھ میں اضافہ ہو اور ادارے کی کارکردگی مزید شفاف اور مؤثر ہو۔
اس دوران، آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری تا 11 مارچ 2026 تک پاکستان میں موجود رہے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت ملکی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ اقدام پاکستان کی گورننس، بدعنوانی کی تشخیص اور کلیدی نگراں اداروں کی شفاف تقرری کو مزید مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے
