سستا تیل 55 روپے مہنگا، عوام کی جیبوں پر حکومتی ڈاکہ

نامور صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یکمشت 55 روپے فی لیٹر بڑھا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے چونکہ آج وہ تیل مہنگا کر کے بیچا جا رہا ہے جو حکومت نے کئی ہفتے پہلے سستے داموں خریدا تھا۔
انکے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ملک میں پٹرول کی وافر مقدار موجود ہے، مگر وفاقی حکومت نے مہنگائی کے مارے عوام کو مذید نچوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ یہ اضافہ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی آڑ میں کیا گیا ہے حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ ان کے مطابق جو پٹرول ذخیرہ اندوزوں کے پاس پہلے سے موجود تھا، اسے پٹرول پمپ پر تقریباً 158 روپے فی لیٹر کے حساب سے پہنچایا جا رہا ہے۔ اس پر حکومت فی لیٹر 123 روپے حاصل کر رہی ہے، ڈیلیوری اور درآمد کنندگان کو 15 روپے کمیشن مل رہا ہے، اور اضافی 25 روپے ہر پمپ پر مساوی قیمت یقینی بنانے کے لیے چارج کیے جا رہے ہیں۔ یوں عوام رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اپنی محدود آمدنی سے 55 روپے اضافے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں یہ اضافہ نہ صرف روزمرہ کی زندگی بلکہ خوراک، گھریلو بجلی کے بلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی اثر ڈالے گا۔
نصرت جاوید کے مطابق گزرے جمعہ کی رات گیارہ بج کر دس منٹ پر پٹرول کی قیمت میں یکمشت 55 روپے اضافے کا اعلان کیا گیا۔ ایران کے ساحل کے قریب واقع آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی میڈیا میں مسلسل تجزیے جاری ہیں۔ جنوبی اور مشرقی ایشیا کے ممالک مشرق وسطیٰ سے خریدے جانے والے تیل کے لیے اس آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں۔ ایران نے اگر اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو عالمی انشورنس کمپنیاں ان جہازوں کا بیمہ کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کروائی کہ امریکی وزارت خزانہ انشورنس کا بندوبست کرے گی اور فضائی و بحری افواج کی حفاظت بھی ممکن بنائی جائے گی، لیکن عملی اقدامات ابھی تک نظر نہیں آئے۔
انکا کہنا ہے کہ پٹرول کا وہ ذخیرہ جس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، 45 سے 50 دن پہلے عالمی منڈی سے 65 سے 70 امریکی ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا گیا تھا۔ اس کا ایک لیٹر پٹرول پمپ پر اب 321 روپے میں بیچنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا شدہ بے یقینی کے بعد ذخیرہ اندوزوں نے ترسیل میں تاخیر کرنا شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں ملک کے کئی شہروں میں پٹرول پمپوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئیں اور کچھ پمپوں نے ہر خریدار کو دس لیٹر سے زیادہ فروخت کرنے سے انکار کیا، یوں پٹرول کی قلت اور نایابی کی فضا پیدا ہو گئی۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس اس مصنوعی قلت کو روکنے کے وسائل موجود تھے، مگر تیل درآمد کرنے والے اجارہ دار اور پمپ مالکان زیادہ تر حکومتی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ عام صارف پر یکمشت 55 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ منافع خوروں کی چاندی ہو گئی، مگر حکومت نے بھی ہاتھ دھو لیے۔ انکا کہنا ہے کہ پٹرول کے اس اضافے کا اثر صرف پٹرول پر ہی نہیں رہا۔ اس سے دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اور گھریلو بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ قطر نے ایران سے میزائل حملوں کی پیش بندی کے لیے گیس کے معاہدے یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیے، جس سے گھروں میں گیس کی نایابی بڑھ گئی ہے۔ گیس لوڈشیڈنگ کے طویل وقفے اور ناقابل برداشت قیمتیں اب روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مجبوراً کیا : وزیر پیٹرولیم
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ حکومت عوام پر عذاب ڈالنے کے ذمہ دار نہیں بننا چاہتی اور امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے کو بہانہ بنا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں پٹرول کی وافر مقدار موجود ہے، مگر ذخیرہ اندوزوں اور پٹرول پمپ مالکان کی مشترکہ حکمت عملی نے عوام کو بحران میں گرفتار کر دیا۔ حکومت نے محض عوامی سہولت کا بہانہ بنا کر فی لیٹر 55 روپے اضافے کا اعلان کر کے محصول جمع کرنے کا راستہ آسان کر دیا۔ انکا کہنا ہے کہ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور عوام پر بھاری معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض بین الاقوامی بحران کا بہانہ ہے، اصل مقصد عوام سے زیادہ سے زیادہ محصول جمع کرنا اور مالی خسارے کو پورا کرنا ہے۔ یوں امریکا-ایران کشیدگی کے بہانے حکومت نے عوام کی جیبوں پر بھاری ڈاکہ ڈال کر مہنگائی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے، اور شہریوں کو ایک طویل عرصے تک اقتصادی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔
