ڈالر نیچے آنے سے کاسمیٹکس اشیا کتنی سستی ہوئیں؟

ڈالر نیچے آنے اور روپے کی قدر میں اضافے کے بعد کاسمیٹکس سمیت امپورٹڈ اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ اشیا ضروریہ بھی سستی ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن دکانداروں کے مطابق ایسا صرف دعووں کی حد تک محدود ہے، کیونکہ کاروبار پر اس حوالے سے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں، قیمتیں ابھی تک وہی ہیں جو پہلے تھیں، نتیجتاً یہ عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہیں۔اسلام آباد کیئر پلس فارمیسی کے مینجر باسط عباسی کے مطابق امپورٹڈ کاسمیٹیکس پر پاکستان میں اب بھی ایک طرح کی پابندی ہے، لوکل مارکیٹ کے دکاندار کی اتنی استطاعت ہی نہیں ہے کہ وہ امپورٹڈ کاسمیٹیکس فروخت کر سکے، پہلے امپورٹڈ سامان پر اتنا ٹیکس نہیں تھا تو سستی پڑتی تھیں اور اپنی مرضی کے مطابق پرافٹ رکھ کر فروخت بھی ہوجاتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے۔بیوٹی گلیم کے نام سے امپورٹڈ پراڈکٹس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ چلانے والی فاطمہ علی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے کچھ ٹائم سے ان کے کاروبار کو بہت نقصان ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ خواتین قیمت پوچھ کر مزید بات ہی نہیں کرتیں۔کاسمیٹیکس کی قیمتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے 28 سالہ حنا کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر کم ہونے کے ثمرات ابھی ہم تک نہیں پہنچے ہیں۔ میں امپورٹڈ موئسچرائزر استعمال کرتی ہوں جو لوکل اسٹور سے تقریباً 6 ہزار کا ملتا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل یہی پراڈکٹ 4 ہزار کا مل جاتا تھا۔ملائکہ یونیورسٹی کی طالبہ ہیں انہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کاسمیٹیکس کی قیمتوں میں اضافے سے خواتین بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ بہت بنیادی چیزیں جو میک اپ میں نہیں آتیں مگر ہماری اسکن کے لیے بہت ضروری ہوتی ہیں، ہم ان سے بھی محروم ہو چکے ہیں، ملائکہ کے مطابق مَیں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ خواتین کے لیے کچھ پراڈکٹس ضروری ہیں ان کو لگژری آئٹمز میں سمجھ کر ٹیکسز لگانا نا انصافی ہے۔بشریٰ ایک پرائیویٹ سکول ٹیچر ہیں جنہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کاسمیٹیکس کی قیمتوں میں اضافے سے بہت ساری چیزیں مارکیٹس میں اب نظر ہی نہیں آتیں۔ دکاندار سے پوچھا جائے تو ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ پراڈکٹس فروخت ہی نہیں ہوتیں، اس لیے وہ رکھنا بیوقوفی ہے، کیونکہ اس میں ہمارا نقصان ہے۔وہ کہتی ہیں کہ شوہر تو یہی سمجھتے ہیں کہ پیسے فضول میں خرچ کیے جا رہے ہیں مگر یہ سب چیزیں خواتین کی زندگی کا حصہ ہیں، کچھ امپورٹڈ شیمپو بھی نہیں مل رہے، قیمتیں تو زیادہ ہیں ہی مگر اچھی چیزیں بھی دستیاب نہیں ہیں، اُمید ہے ڈالر کا ریٹ کم ہونے سے پراڈکٹس کی دستیابی یقینی ہوگی اور ڈالر کی قیمت میں کمی کا فائدہ عام فرد تک بھی پہنچے گا۔

Back to top button