چیف الیکشن کمشنر مدت ختم ہونے کے 1 برس بعد عہدے پر موجود

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو دیگر ارکان اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے ایک سال بعد بھی اپنے عہدوں پر برقرار ہیں۔ ان تینوں کی پانچ سالہ آئینی مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔ آئین کے تحت ان عہدوں پر نئی تقرریاں خالی ہونے کے 45 روز کے اندر، یعنی 12 مارچ 2025 تک ہونا لازم تھیں، تاہم تاحال نئے چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی ایک شق کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ اپنے جانشینوں کی تقرری تک عہدوں پر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور دونوں ارکان اسی آئینی رعایت کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم تقرری کے عمل میں مسلسل تاخیر نے سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ کئی ماہ تک اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی عدم موجودگی بتائی جاتی رہی، کیونکہ آئینی طور پر ان عہدوں پر تقرری کے لیے وزیر اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان مشاورت لازم ہے۔ اب محمود خان اچکزئی کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ رکاوٹ دور ہو چکی ہے اور توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ حکومت نئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا عمل کب شروع کرتی ہے۔
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک یعنی فافن کے مطابق قائدِ حزبِ اختلاف کی باضابطہ تقرری کے بعد کئی اہم آئینی اور قانونی عہدوں پر تقرری کے عمل میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔ فافن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمیشن کے ارکان، نیب کے چیئرمین، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین جیسے عہدوں پر تقرری کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت ناگزیر ہے۔ فافن کے ترجمان مدثر رضوی کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر آئینی عہدوں پر تقرریاں عہدے خالی ہونے سے پہلے مکمل ہونی چاہئیں۔ اگرچہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ ارکان کی توسیع آئینی ترمیم کے تحت قانونی ہے، تاہم انکے نزدیک جانشینوں کی تقرری کا عمل بلا تاخیر شروع ہونا چاہیے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی یعنی پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا عمل فوری طور پر شروع کیا جانا چاہیے اور اس میں وزیر اعظم کو پہل کرنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں وزیراعظم نے تقرری کا عمل شروع کیا تھا، تاہم اس وقت قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر اصرار کے باعث یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ احمد بلال محبوب کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے ابتدائی مسودے میں چیف الیکشن کمشنر کی دوبارہ تقرری کی شق بھی شامل تھی، جسے بعد ازاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی مخالفت کے بعد نکال دیا گیا۔
پلڈاٹ نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی تھی، کیونکہ اس سے خدشہ تھا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ خیال رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے، خصوصاً 2024 کے انتخابات کے انعقاد اور نتائج کے حوالے سے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں، انتظامی اقدامات اور پالیسیوں نے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس نے تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے۔
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا تھا جب قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد آئینی طور پر 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کی شرط کے باوجود الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ عام انتخابات اس مدت میں ممکن نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں کمیشن نے جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا، بالآخر عام انتخابات 8 فروری 2024 کو منعقد ہوئے۔ اس دوران نتائج میں تاخیر، انتخابی فارموں میں مبینہ تضادات اور ریٹرننگ افسران کے طور پر اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی جیسے امور پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے گئے، جبکہ یہ ذمہ داریاں روایتی طور پر ماتحت عدلیہ کو دی جاتی رہی ہیں۔
تحریک انصاف کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے پولنگ ڈیٹا میں بے ضابطگیوں کی تفصیلات مرتب کی ہیں۔ انہوں نے این اے 130 لاہور کے ایک پولنگ اسٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد رجسٹرڈ ووٹرز سے بھی زیادہ تھی۔ ان کے مطابق اس پولنگ اسٹیشن پر قومی اسمبلی کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 1825 بتائی گئی، جن میں سے 1266 ووٹ نواز شریف کے کھاتے میں ڈالے گئے، جبکہ اسی پولنگ اسٹیشن پر صوبائی اسمبلی کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 972 تھی اور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1818 تھی۔
چیف الیکشن کمشنر پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ صرف ووٹرز کو کنفیوژ کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار بعد میں حکومتی اتحاد میں شامل ہو سکیں اور انہیں نااہلی کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ اس اقدام کے ذریعے تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں سے بھی محروم کیا گیا۔ 2024 کے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ان کی جیتی گئی نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں دینے سے انکار کیا اور یہ نشستیں حکومتی اتحاد میں تقسیم کر دیں، جسے تحریک انصاف نے عدالت میں چیلنج کیا۔
عدالت کی جانب سے مکمل انصاف کے اصول کے تحت مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کے اکثریتی فیصلے کے باوجود الیکشن کمیشن نے وضاحت طلب کی اور بعد ازاں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی، جس کے باعث فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تاخیر نے حکومت کو الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا موقع فراہم کیا، جس کے ذریعے تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو مقررہ مدت کے بعد پارٹی میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔
بھارت ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکاری کیوں؟
اسکے علاوہ چیف الیکشن کمشنر پر پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے، جہاں مخالفین کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی قوانین کا اطلاق انتخابی مفادات کے تحت کیا۔ الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے قانونی اور انتظامی مجبوریوں کا حوالہ دیتا رہا ہے۔
