نیازی نے 9 مئی کے مطلوب ملزم کو وزیراعلٰی کیوں نامزد کیا؟

9 مئی کے روز شرپسندانہ کارروائیوں کی وجہ سے زیر عتاب بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سانحہ 9 مئی کے مطلوب ملزم علی امین گنڈاپور پور کو خیبرپختونخوا کی وزارت اعلی کیلئے نامزد کر کے مقتدر حلقوں کو مفاہمت کی بجائے ایک بار پھر ٹکراؤ کا پیغام دے دیا ہے۔ مبصرین علی امین گنڈاپور کی خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کے طور پر نامزدگی کے فیصلے کو تحریک انصاف کیلئے زہر قاتل اور غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کو گنڈاپور کی جگہ کسی ایسے شخص کو خیبرپختونخوا کی وزارت اعلٰی کیلئے نامزد کرنا چاہیے تھا جو بگڑے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کیلئے کوشش کرے تاہم سانحہ 9 مئی کے ملزم کو وزیر اعلی نامزد کر کے تحریک انصاف نے مفاہمت کی تھوڑے بہت امکانات کو بھی ختم کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ عوامی حلقوں میں بوتل والی سرکار کی پہچان رکھنے والے جارح مزاج علی امین گنڈاپور عمرانڈوز میں اپنی شعلہ بیانی اور جذباتی انداز کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اسلام آباد آزادی مارچ ہو یا لاہور زمان پارک پر پولیس کی چڑھائی، علی امین گنڈا پور عمران خان کے بااعتماد ورکرز میں شمار ہوتے ہیں۔

تاہم عمران خان کی جانب علی امین گنڈاپور کی بطور وزیر اعلی نامزدگی کے اعلان کے بعد سے اس فیصلے پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے ماضی میں دیے گئے متنازع بیانات اور واقعات شیئر کیے جا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جب صحافی کامران یوسف نے سوال کیا کہ ’کیا عمران خان صاحب کو خیبر پختونخوا کی وزارت اعلی کے لیے علی امین گنڈا پور سے بہتر کوئی لیڈر نہیں ملا؟‘اس پر شہزاد اکبر نے جواب دیا کہ ’اگر عمران خان کا مقابلہ کسی تعلیم یافتہ مہذب طبقے سے ہوتا تو ضرور کسی پروفیسر کو وزیر اعلیٰ بنانے کا سوچ سکتے ہیں لیکن یہاں جنگ بدمعاشوں سے ہے اس کے لیے علی امین گنڈا پور موزوں چوائس ہیں۔‘

تاہم دوسری جانب ان کی جانب سے ماضی میں خواتین اور اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں متنازع بیانات دینے اور ان کی انتظامی اہلیت کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔عمران خان کے دور اقتدار میں کشمیر میں انتخابات کے دوران علی امین کا کردار خاصا متنازع رہا تھا اور ان کی جانب سے اس دوران تقریروں میں مریم نواز سمیت دیگر سیاسی حریفوں کے خلاف متنازعہ بیانات دیے تھے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کے ان بیانات اور فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد انھیں کشمیر سے نکلنے کا کہا گیا تھا۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی دور میں علی امین گنڈا پور نے عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر ’چائے میں چینی کم ڈالنے اور روٹی کم کھانے‘ کا مشورہ دیا تھا جس پر خاصی تنقید ہوئی تھی۔

علی امین گنڈاپور کو وزیراعلٰی خیبر پختونخوا نامزد کرنے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر بھی تنقید کی زد میں ہے۔زوہاد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’عمران خان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ بیشک ان کی ووٹر بیس بہت بڑی ہے لیکن یہ سوچنے سمجھنے والا ووٹر ہے اور اگر آپ بزدار کو وزیِرِ اعلیٰ لگانے جیسے فیصلے کریں گے تو انھیں کھو دیں گے۔ وفاداری پر انعام دینا ہی تھا تو اس کے اور بہت سے طریقے ہیں۔ گنڈاپور بطور وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا، خدا کا خوف کریں۔‘

اسامہ نامی صارف نے لکھا کہ ’علی امین گنڈاپور جماعت کے ساتھ وفادار ہیں، نڈر ہیں اور انھوں نے حراست کے دوران مبینہ تشدد بھی برداشت کیا لیکن وہ پروفیشنل نہیں اور نہ ہی وزیرِ اعلیٰ بننے کے لیے ان کے پاس وہ اہلیت ہے۔ خیبرپختونخوا کے لوگ پی ٹی آئی کے لیے بڑی تعداد میں ووٹ کرنے پر کم از کم اس سے بہتر امیدوار کے حقدار تھے۔‘علی امین کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ غصے کے تیز ہیں اور سیاسی مخالفین کے خلاف اکثر سخت لہجہ اپناتے ہیں۔ اگر علی امین کا امیر حیدر خان، محمود خان سے موازانہ کیا جائے تو علی امین میں بالکل بھی ٹھہراؤ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پرویز خٹک کے مقابلے میں بھی ٹھہراؤ نہیں ہے۔‘

 خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے نامزد کردہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سانحہ 9 مئی کے بعد توڑ پھوڑ اور کرپشن کیسز کے باعث پولیس کو مطلوب ہیں تاہم تاحال روپوش ہیں اور الیکشن مہم کے دوران بھی منظر عام پر نہیں آئے۔ 9 مئی کے بعد وہ گرفتار بھی ہوئے تھے لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد روپوش ہو گئے۔علی امین پولیس اور سول انتظامیہ پر سخت غصہ ہیں۔علی امین سخت مزاج کے انسان ہے۔ جو برے وقت کو کبھی نہیں بھولتا۔

واضح رہے کہ نامزد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو پہلی بار 6 اپریل 2023 کو پشاور ہائیکورٹ ڈیرہ اسماعیل خان بینچ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں پہلے اسلام آباد پولیس اور بعدازاں بھکر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما کے خلاف گولڑہ پولیس میں حکومتی اتحاد کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے، سرکاری اہلکاروں کو دھمکیاں دینے اور عوام کو حکومت کے خلاف اُکسانے کا الزام تھا۔

بعدازاں ضلع ڈی آئی خان کے 2 مقدمات میں اُن کو بری کر دیا گیا تھا، تاہم انہیں اسلام آباد اور پنجاب میں دائر مختلف مقدمات میں 6 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔علی امین گنڈاپور پر 13 اپریل کو پنجاب پولیس نے پنجاب آرمز آرڈیننس 2015 کی دفعات کے تحت بھکر میں درج ایک مقدمے میں گرفتار کرکے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ بعد ازاں ان کو 4 مئی 2023 کو سکھر جیل سے رہا کردیا گیا۔ جس کے بعد وہ مزید گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے۔ اور تاحال روپوش ہیں جبکہ انسداد گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو کینٹ پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں مراد سعید، حماد اظہر اور علی امین گنڈا پور سمیت 51 رہنماوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

علی امین گنڈا پور کی شہد کی بوتلوں کے بھی میڈیا پر بڑے چرچے ہوتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2016 کو علی امین گنڈاپور اپنے ساتھیوں سمیت بنی گالہ جا رہے تھے کہ کلمہ چوک پر پولیس نے ان کی گاڑی کی تلاشی لی جس کے دوران پولیس نے ان کی گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور شراب کی بوتلیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ وہ خود فرار ہو گئے تھے۔بعد ازاں علی امین گنڈاپور نے پولیس کے موقف کو مسترد کیا اور موقف اپنایا تھا کہ ان کے پاس ذاتی گارڈ نہیں پولیس اہلکار سیکیورٹی پر تعینات ہیں جبکہ بوتلیں شہد کی تھیں جو پولیس نے شراب قرار دیں۔

Back to top button