وزیر اعلی آفریدی کا مذاکرات کی بجائے تحریک چلانے کا اعلان

وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرنے والے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اب اچانک یوٹرن لیتے ہوئے واضح اعلان کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کی ہدایت کے عین مطابق مذاکرات کی بجائے سٹریٹ موومنٹ چلانے پر فوکس کریں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ان کا مؤقف ہمیشہ سے وہی ہے جو ان کے قائد کا موقف ہے۔ ان کے مطابق، میرے قائد عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ میں صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کے ساتھ ساتھ سٹریٹ موومنٹ کی بھی تیاری کروں۔ میں ان ہدایات پر حرف بہ حرف عمل کروں گا تاکہ اپنے قائد کو رہائی دلوا سکوں۔ میرے نام سے منسوب مذاکرات کی حمایت بارے خبریں صرف قیاس آرائیاں ہیں۔ آفریدی کی یہ وضاحت ایسے وقت میں آئی ہے سہیل آفریدی حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو مثبت قدم قرار دے چکے تھے۔ تاہم اب انہوں نے اس مؤقف سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے احتجاجی سیاست کو اپنی ترجیح قرار دے دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، وزیر اعلیٰ کے اس یوٹرن کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اندر پائے جانے والے تضادات ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب تحریک انصاف کی قیادت، بشمول عمران اور ان کی ہمشیرہ علیمہ خان، حکومت سے مذاکرات کی خواہش کرتی نظر آتی ہے، جبکہ دوسری جانب جب حکومت مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتی ہے تو یہی قیادت مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے علیمہ خان نے یہ بیان دیا تھا کہ عمران خان کو بتایا جائے کہ فیصلہ ساز ان سے کیا چاہتے ہیں تاکہ کوئی راستہ نکل سکے۔ اب جب وفاقی حکومت کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے تو علیمہ خان نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر ان کی جماعت کا کوئی لیڈر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے تو اسے پارٹی کا غدار قرار دیا جائے گا۔

علیمہ خان کےاس بیان کے بعد پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے حق میں آواز اٹھانے والے دباؤ میں آ گئے اور پارٹی کی پالیسی ایک بار پھر سڑکوں پر احتجاج کی جانب موڑ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا آفریدی نے بھی بظاہر علیمہ کے اسی سخت مؤقف کے پیش نظر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کو ویلکم کرنے کا اپنا سابقہ بیان واپس لیا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کی جانب سے مذاکرات کو متنازع بنانے کے بعد سہیل آفریدی کے پاس بھی سٹریٹ موومنٹ کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

اب پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ عمران نے انہیں اسٹیبلشمنٹ یا حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کیساتھ مذاکرات یا احتجاج سے متعلق ذمہ داری اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر کو سونپی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ حکومت مخالف سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کے لیے سٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ کیا وفاقی حکومت کے ساتھ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مذاکرات یا احتجاج کا فیصلہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت پر چھوڑ دیا ہے۔

کیا پنجاب میں تحریک انصاف کی طاقت کا خاتمہ ہو چکا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کا دوہرا مؤقف، یعنی ایک طرف مذاکرات کی خواہش اور دوسری طرف مذاکرات کرنے والوں کو غدار قرار دینے کی دھمکیاں، پارٹی قیادت کی سیاسی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انکے مطابق، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا حکومت سے مذاکرات پر حالیہ یوٹرن اسی اندرونی تضاد اور دباؤ کا واضح نتیجہ ہے۔

Back to top button