کپتان کی پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کی مشروط پیشکش

معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کی خاطر پنجاب کی وزارت اعلی گجرات کے چوہدریوں کے حوالے کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے یہ پیشکش کی ہے کہ اگر پرویز الہی اپنی جماعت سمیت تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں تو انہیں نہ صرف پنجاب کی وزارت اعلی سونپ دی جائے گی بلکہ انہیں پنجاب پی ٹی آئی کا صدر بھی بنا دیا جائے گا۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان جانتے ہیں کہ گجرست کے چوہدری کسی صورت اپنی جماعت پی ٹی آئی میں ضم نہیں کریں گے اسی لیے کپتان کی جانب سے اتنی کڑی شرط رکھی گئی ہے جو کہ چوہدریوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگی، یوں اس آفر کے ذریعے عمران خان گونگلوں سے مٹی بھی جھاڑ لیں گے اور عثمان بزدار کو بھی بچا لیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ قاف لیگ کو یہ پیشکش 3 مارچ کے روز وزیراعظم عمران خان اور چوہدری مونس الٰہی کی اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد کی گئی۔ اس ملاقات میں تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جنرل اسد عمر بھی موجود تھے جنہیں عمران خان نے قاف لیگ کی قیادت کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے نواز لیگ کو یہ تجویز دی گئی تھی کہ مرکز میں عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے لیے پنجاب کی وزارت اعلی چودھری پرویز الہی کو دے دی جائے۔

اس آفر کے بعد سے تحریک انصاف کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی تھی اور گجرات کے چوہدریوں کو رام کرنے کی خاطر عمران خان کو ان کے گھر جانا پڑا تھا۔ اس ملاقات کے فوری بعد حکومتی ذرائع سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ پرویز الہی نے عمران خان کو حکومت کا حصہ رہنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور یہ بھی کہ ان کی جماعت تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں دے گی۔ تاہم قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے اس موقف کی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان اور چوہدریوں کے مابین ملاقات کے دوران تحریک عدم اعتماد کا معاملہ زیر بحث ہی نہیں آیا تھا اس لیے کسی قسم کی کوئی یقین دہانی کروانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ طارق بشیر چیمہ نے یہ بھی بتایا کہ قاف لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے فیصلے کا اختیار پرویز الہی کو دے رکھا ہے اور انہوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

عمران خان اور چوہدری کی ملاقات کے دوسرے روز یہ خبر سامنے آئی کہ قاف لیگ نے وزیراعظم کے ساتھ کھڑے رہنے کے عوض ان سے پنجاب کی وزارت اعلی مانگ لی ہے۔ پھر یہ خبر سامنے آ گئی کہ اپوزیشن جماعتوں نے گجرات کے چوہدریوں کو 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دے دی ہے تاکہ وہ تحریک عدم اعتماد میں حزب اختلاف یا حکومت میں سے کسی ایک کے ساتھ جانے کے بارے میں حتمی فیصلہ کر لیں۔ تاہم مولانا فضل الرحمن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ نمبرز پورے ہو جانے اور بہت جلد تحریک عدم اعتماد داخل کروانے کے اعلان کے بعد حکومتی کیمپ میں ایک مرتبہ پھر کھلبلی مچ گئی اور وزیراعظم نے مونس الٰہی کو ملاقات کے لئے اسلام آباد بلا لیا۔

مونس الٰہی کی وزیر اعظم سے ملاقات میں وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر بھی شامل تھے۔ یوں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مونس الہی نے تحریک انصاف کے چیئرمین اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔ بتایا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے اسد عمر کو قاف لیگ کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اب یہ اطلاع ہے کہ اسد عمر نے عمران خان کے ایما پر چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیر اعلی بنانے کی مشروط پیشکش کی ہے لیکن انہیں اپنی پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم کرنا ہوگا۔

اگر وہ ایسا کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو پرویز الہی کو پنجاب پی ٹی آئی کی صدارت بھی سونپ دی جائے گی۔ لیکن قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے لئے اپنی جماعت کو ایسی جماعت میں ضم کرنا جس کا اپنا مستقبل تاریک ہے انہیں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔ لہذا ان کے خیال میں وزیراعظم کی یہ پیشکش دودھ میں مینگنیں ڈال کر پیش کرنے کے مترادف ہے تا کہ اسے قبول کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

اسکے علاوہ یہ یہ اطلاع بھی ہے کہ اگر گجرات کے چوہدری پنجاب کی مشروط وزارت اعلی قبول نہیں کرتے تو مونس الہی کو وفاقی کابینہ میں سینئر وزیر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ جب چوہدری پرویز الہی کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلی کی آفر موجود ہے تو وہ وزارت اعلی سے کم کی آفر قبول نہیں کریں گے اور وہ بھی بلا مشروط، یعنی اپنی جماعت کو تحریک انصاف میں ضم کیے بغیر۔ ایسے میں قاف لیگ اور تحریک انصاف کے مابین کسی فوری سمجھوتے کا امکان مشکل نظر آتا ہے۔

Chief Minister’s conditional offer to Captain Pervez Elahi video

Back to top button