دھمکیاں دینے والے کپتان کو چیف کی جانب سے وارننگ

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مسلسل خطرناک ہو جانے اور اپنے ٹرمپ کارڈ کے ذریعے کوئی بڑا سرپرائز دینے کی دھمکیوں کے بعد انہیں خبردار کر دیا گیا ہے کہ وہ ریڈ لائنز کراس کرنے سے باز رہیں کیونکہ ایسی صورت میں انہیں 1999 کی طرح ادارہ جاتی ردعمل کا سامنا کرنا ہو گا۔ مصدقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ پیغام موصول ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے سابقہ موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بڑا سرپرائز دینے کے حوالے سے ان کا اشارہ فوج کی جانب نہیں ہے،

اس معاملے پر مزید وضاحت دینے کے لیے انہوں نے 25 مارچ کو میڈیا کے چند مخصوص لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکا سرپرائز کسی اہم عسکری شخصیت کو نکالنے یا لگانے سے متعلق نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم نے ایک سوال پر واضح کیا کہ وہ نہ آج اور نہ کل فوج کے خلاف کوئی بات کریں گے۔ ملاقات میں شامل صحافیوں نے ان کی گفتگو سے یہی نتیجہ نکالا کہ ہے وہ آرمی چیف کو اپنی جانب سے مثبت یقین دہانی کروانا چاہتے تھے، اسی لیے انہوں نے وضاحت سے کہا کہ اپوزیشن کے قائدین فوج کے بارے میں جو بھی زبان استعمال کریں مگر وہ فوج بارے کوئی منفی بات نہیں کریں گے۔

لیکن عسکری حلقوں کا عمران کی ان یقین دہانیوں پر اعتبار کرنے کا امکان اس لیے نہیں کہ جس روز انہوں نے یہ باتیں کیں اسی روز انہوں نے مانسہرہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنا یہ قابک اعتراض مؤقف دہرایا کہ اچھائی اور برائی کی جنگ میں اللہ تعالی نیوٹرل رہنے کی اجازت نہیں دیتا اور آپ کو اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا۔

یاد رہے کہ یہاں اچھائی سے مراد موصوف کی اپنی ذات اور برائی سے مراد حزب اختلاف ہے۔ اس کے علاوہ وہ نیوٹرل کو جانور بھی قرار دے چکے ہیں۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد سے عمران کی ذہنی کیفیت کے پیش نظر انکے معالجوں نے انکے بہترین علاج کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جو بوقت ضرورت فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا اور بیماری کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب تحریک عدم اعتماد کا سامنا پارلیمنٹ میں کرنے کی بجائے 27 مارچ کو اسلام آباد کی سڑکوں پر لوگ اکٹھے کرنے والے عمران اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ 27 مارچ کو جب فوجی قیادت، پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتیں اسلام آباد میں عوامی سمندر دیکھیں گی تو وہ انکے ساتھ کھڑی ہو جائیں گی۔

25 مارچ کو عمران سے ملاقات کرنے والے جیو ٹی وی کے سینئر صحافی شہزاد اقبال کہتے ہیں کہ وزیر اعظم اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ممکنہ شکست کو بھی اپنی جیت سمجھ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر حکومت چلی بھی گئی تو اس کے باوجود پی ٹی آئی کا گراف اوپر جائے گا اور لوگوں کو لگے گا کہ ان کی حکومت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور یوں انہیں آئندہ ہمدردی کا ووٹ مل جائے گا۔

ملاقات میں عمران نے کہا کہ اپوزیشن کی یہ سوچ غلط ہے کہ ایک شخص کے ٹرانسفر ہو جانے سے انکار اور فوج کا ون پیچ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی امپائر اب انکا ساتھ دینے کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کے اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ نومبر میں کس شخص کو نیا آرمی چیف بنانا ہے جس پر فوج کے ادارے کو بھی تحفظات ہیں۔ عمران خان کے مطابق اُن کا فیورٹ جرنیل کوئی نہیں ہے اور اگلا آرمی چیف اسے ہونا چاہیے جو میرٹ پر پورا اترے۔وزیر اعظم نے اُن خبروں کو بھی رد کیا جن میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ اعلی عہدے پر فائز کسی شخص کو عہدے سے ہٹانے جا رہے ہیں۔

کرونا نے مزید 4 افراد کی جان لے لی

بقول شہزاد اقبال، عمران خان سے ملاقات میں یہ بھی واضح ہوا کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے بارے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ روز سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ وزیر اعظم نے عثمان بزدار کی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے مگر 25 مارچ کی ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بزدار کو ہٹانے کا فیصلہ نہیں کیا اور یہ کہ وہ ان کی کارکردگی سے خوش ہیں۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے مانیکا خاندان پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کو بھی سختی سے رد کیا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بلاول بھٹو اور مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب میں کوئی ٹرانسفر اور پوسٹنگ خاتون اول بشری بی بی کو پیسے دیے بغیر نہیں ہوسکتی۔
Chief warns threatening captain latest Urdu news

Back to top button