جیل میں عمران خان سےنارواسلوک کے دعوےجھوٹی کہانیاں نکلیں

 بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہونے والے مبینہ ناروا سلوک کی خبروں کے بعد ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں ہیں،اڈیالہ جیل میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مختلف اور متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ایک طرف چیخ پکار، قید تنہائی، انسانی حقوق کی پامالی اور سیاسی انتقام کا المیہ سنایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف عالیشان سہولیات، میڈیا تک رسائی، صحت مندانہ معمولات اور مکمل آزاد بیانیہ کی تصویر کشی کی جا رہی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ  عوام کے سامنے پیش کی جانے والی یہ دو متضاد تصویریں درحقیقت جھوٹ اور سچ کی جنگ ہے یا پھر یہ بھی پاکستان کی سیاست کا ایک نیا ڈراما ہے؟

مبصرین کے مطابق پاکستانی سیاست کا حالیہ منظرنامہ گویا ایک عجیب و غریب تھیٹر بن چکا ہے، جہاں ایک ہی اسٹیج پر دو الگ دنیائیں جلوہ گر ہیں۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں ہونے والے سلوک پر پاکستان تحریک انصاف اور حکومت پاکستان کے بیانات ایک دوسرے کی مکمل تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے جیل میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، سہولیات چھین لی گئی ہیں اور ان پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ ٹوٹ جائیں۔ عمران خان کے مطابق ان کے ساری ساری زیادتیاں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر ہو رہی ہیں۔مجھے توڑنے کے لیے بشریٰ بی بی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو ذمہ دار جنرل عاصم منیر ہوں گے۔”

لیکن دوسری طرف، راولپنڈی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم نے ان تمام دعوؤں کو ’’بے بنیاد اور سنسنی خیز پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے تفصیلی وضاحت جاری کر دی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق عمران خان کو جیل میں بی کلاس کی تمام سہولیات میسر ہیں۔ ان کے لیے علیحدہ کمپلیکس، ایکسرسائز سائیکل، ٹی وی، اخبارات، منتخب کتب، ذاتی باورچی، اور کھلے صحن میں واک کا انتظام موجود ہے۔ حتیٰ کہ دیگر قیدیوں کے مقابلے میں ان کو زیادہ مراعات دی جا رہی ہیں۔جیل حکام کے مطابق، عمران خان نے جیل میں رہتے ہوئے 400 سے زائد مرتبہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات جاری کیے، ملک کی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی، 66 ملاقاتیں کیں، اور بین الاقوامی میڈیا سے بات چیت بھی جاری رکھی۔ طبی معائنہ روزانہ تین مرتبہ ہوتا ہے، اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ ان کے لیے ایک علیحدہ قیدی بطور کک مقرر ہے جو ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا ان کی خواہش کے مطابق تیار کرتا ہے۔” جیل حکام کے مطابق، عمران خان نے گزشتہ سال سے اب تک 10 سے زائد بین الاقوامی میڈیا چینلز سے انٹریکشن کیا، اور وہ اکثر عدالتی پیشیوں کے دوران میڈیا سے براہ راست مخاطب ہوتے رہے ہیں۔تاہم پی ٹی آئی رہنما علیمہ خان نے عمران خان سے مبینہ زیادتیوں پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ:”اخبارات اور ٹی وی بند کرکے بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں ڈالا گیا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مریم نواز نے ان ہی کے ذریعے ظلم کرارہی ہے۔”

تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ ہونے والے سلوک کو ایک "سیاسی انتقام” کا حصہ قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومتی حلقے اسے "سیاسی ڈرامہ” قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کی قید سے متعلق مہم نے بھی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقت میں :”یہ بیانیہ کی جنگ ہے، جس میں ایک طرف مظلومیت اور دوسری طرف قانونی ضابطے کے دعوے پائے جاتےہیں۔ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ سچ کس کے پاس ہے۔” تاہم یہاں پر اصل سوال یہ ہے کہ اگر واقعی عمران خان قید تنہائی میں ہیں تو پھر میڈیا پر بیان بازی، درجنوں ملاقاتیں، بین الاقوامی انٹرویوز، اور سیاسی ہدایات کہاں سے جاری ہو رہی ہیں؟ اور اگر حکومتی دعویٰ درست ہے تو پھر تحریک انصاف کو ایسے الزامات لگا کر ہمدردی اور مظلومیت کیوں چاہیے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے الزامات اور حکومتی وضاحتوں کے درمیان سچ اور جھوٹ کی لکیر دھندلا چکی ہے۔  ایک طرف "سیاسی انتقام” کی دہائیاں دی جا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف "قانونی ضابطوں” کے دعوے کئ جا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں عوام حیران، میڈیا تقسیم، اور سچ… شاید اڈیالہ جیل کی کسی کوٹھڑی میں خاموش بیٹھا تماشا دیکھ رہا ہے۔

Back to top button