قائمہ کمیٹی اجلاس میں نبیل گبول اور طلال چوہدری میں جھڑپ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں پی پی کے رہنما نبیل گبول اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے سی ڈی اے ترمیمی بل پیش کرنے میں مبینہ رکاوٹ پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے چیئرمین سی ڈی اے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر شازیہ مری تحریک استحقاق لانا چاہتی ہیں تو وہ اس کا سامنا کریں گے۔ جواباً شازیہ مری نے کہا کہ طلال چوہدری اُنہیں دھمکی دے رہے ہیں، جس پر وزیر مملکت نے الٹا الزام عائد کیا کہ دھمکی دراصل شازیہ مری کی جانب سے دی جارہی ہے۔

صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہوئی جب نبیل گبول نے وزیر مملکت کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ نبیل گبول نے طلال چوہدری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت کو خیرات میں ملی دو تہائی اکثریت نے انہیں مغرور کر دیا ہے، پیپلز پارٹی نے پہلے بھی حکومت گرائی تھی، اب بھی ایسا کر سکتی ہے۔”

چیئرمین کمیٹی نے نبیل گبول کو اجلاس سے جانے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ انکار کرتے ہوئے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

Back to top button