اسلام آباد یا پشاور بند کرنے سے عمران خان کی سزا ختم نہیں ہوگی،گورنر خیبر پختونخوا

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسلام آباد یا پشاور کو بند کرنے سے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی سزا ختم نہیں ہوگی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردوں کے دفاتر قائم کرنے کی بات کرتی تھی، لیکن ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔ فیصل کریم کنڈی نے سوال کیا کہ کیا کسی ملک میں پاکستانی بغیر ویزے کے رہ سکتے ہیں؟
گورنر نے مزید کہا کہ سیاسی مذاکرات مسلم لیگ ن کے بغیر ممکن نہیں، اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بات اچھی ہے، لیکن جب ہم بات کرتے تھے تو پی ٹی آئی والے کہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ ہاتھ بھی نہیں ملائیں گے۔ آج پی ٹی آئی امپورٹڈ اپوزیشن لانا چاہتی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں پارٹی کا کیا موقف ہے؟ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کے خواہشمند راجہ ناصر عباس کُرم میں ہونے والے ظلم پر کیوں خاموش ہیں؟
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسلام آباد یا پشاور بند کرنے سے عمران خان کی سزا ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اڈیالہ جیل میں وی آئی پی قیدی ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ان کی خواہش تھی۔
گورنر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے رہتے ہیں، انہیں اپنے صوبے میں رہ کر عوام کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ گزشتہ 13 سال سے کرپشن کا گڑھ بنا ہوا ہے۔
