بانی TLP علامہ خادم رضوی کے عرس پر پابندی کیوں لگا دی گئی؟

 

 

 

پنجاب حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے بعد اب جماعت کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تقریبات پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ مریم نواز کی زیرِ قیادت پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے اب علامہ خادم رضوی کی برسی کے موقع پر ان کے مزار پر چادر پوشی سمیت کسی بھی قسم کی تقریب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں صوبے بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کو 19 نومبر سے 21 نومبر تک ٹی ایل پی کی چھوٹی سے چھوٹی تقریب کو بھی روکنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

خیال رہے کہ بانی ٹی ایل پی علامہ خادم حسین رضوی 19نومبر 2020کو وفات پا گئے تھے، ہر سال ان کی برسی کے موقع پر لاہور ملتا روڈ پر واقع ان کے مزار پر تین روزہ عرس کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پابندی لگنے سے قبل اس سال بھی 19 سے 21نومبر تک عرس کی تقریبات منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حکومت نے تمام تقریبات منسوخ کر کے عرس منانے پر یکسر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پر پابندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی برسی کی تقریبات سرے سے منعقد نہیں ہو رہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی مختلف مقدمات میں مفرور ہیں، جبکہ جماعت کی دیگر قیادت یا تو جیل میں ہے یا روپوش ہے۔ اسی طرح بڑی تعداد میں کارکنان بھی پابندِ سلاسل ہیں۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے بھی مولانا خادم رضوی کے عرس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ٹی ایل پی کے کارکنان کے دوبارہ مجتمع ہو کر کسی ممکنہ بدامنی اور شرانگیزی کی صورتحال پیدا کرنے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کے عرس پر کسی بھی طرح کی سرگرمی پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے مولانا خادم حسین رضوی کے ممکنہ عرس کے تناظر میں صوبے بھر میں پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہےکہ 19، 20 اور 21 نومبر کو کسی بھی قسم کی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اعلیٰ حکام کے مطابق اس حوالے سے تمام اضلاع کے پولیس سربراہان اور ڈی سی اوز کو سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ ان تاریخوں پر “بالکل کوئی سرگرمی” نہ ہونے دی جائے،ان تین دنوں میں معمولی خلاف ورزی کو بھی سنگین انتظامی کوتاہی سمجھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ ہدایات رواں ہفتے وزیرِاعلیٰ پنجاب کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد جاری کی گئی ہیں جہاں ممکنہ ٹی ایل پی نقل و حرکت کے سیاسی و سیکیورٹی اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پنجاب حکومت کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق لاہور میں ٹی ایل پی سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے ایک مکمل طور پر مختص انسدادِ دہشت گردی عدالت قائم کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس عدالت میں ٹی ایل پی کے حوالے سے درج مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی تاکہ غیر ضروری تاخیر ختم ہو اور ملزمان کو جلد از جلد انجام تک پہنچایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل آفس اور چیف سیکریٹری ضروری طریقہ کار کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے نگرانی اور فیلڈ آپریشنز میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ خصوصی ٹیمیں ممنوعہ تنظیموں کی وال چاکنگ، بینرز، پوسٹرز اور دیگر تشہیری مواد کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔

 

حکام کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے تحریکِ لبیک کے زیرِ انتظام چلنے والی مساجد اور مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کے بعد اب تنظیم کے عہدیداروں کے اربوں روپے کے اثاثے بھی منجمد کر دئیے ہیں، جبکہ 90 فنانسرز کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔  حکومت نے تحریکِ لبیک کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر کے تنظیم کی فنڈنگ مکمل طور پر روک دی ہے۔ اس کے علاوہ 4ہزار سے زائد ایسے اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جن کے ذریعے ٹی ایل پی کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ہدایات پر تنظیم کے عہدیداران کے 23 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ 90 فنانسرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے اور نفرت انگیز مواد پھیلانے پر مزید 31 کیسز درج کر دئیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک سے جدید اسلحہ، بلٹ پروف جیکٹس اور شیلز کی بڑی تعدادبھی برآمد کر لی گئی ۔

شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے بھٹی کی اب عطا تارڑ کو دھمکیاں

پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیم کے 92 بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور دیگر ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو بھی بلاک کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تنظیم کی مالی سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  پنجاب حکومت نے باقی صوبوں میں بھی کالعدم انتہا پسند جماعت ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب جیسی یکساں کارروائی کے لئے وفاقی حکومت سے درخواست کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں تحریکِ لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔

Back to top button