سپیکر کی بجائے وزیراعظم کے خلاف تحریک کی ناکامی کے خدشات

اگرچہ اپوزیشن اتحاد نے حکومت گرانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم بعض سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سپیکر اسد قیصر
اس موو کو مختلف طریقوں سے سبوتاژ
کرکے کپتان کی مدد کرسکتے لہذا بہتر ہو گا اگر پہلے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر اپوزیشن کا سپیکر منتخب کروایا کیا جائے۔
سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کو بچانے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوںکہ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے وقت بھی یوسف رضا گیلانی صرف اسی وجہ سے ہار گئے تھے کہ مظفر علی شاہ نے اپوزیشن کے چھ ووٹ مسترد کر دئیے تھے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے پہلے وزیر اعظم کے خلاف مہم جوئی کی صورت میں حسب سابق سپیکر اسد قیصر اپنی غیر جانبداری کا چوغہ اتار کر عمران خان کی مدد کے لئے میدان میں کود سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کو بھی اندر سے سپیکر قومی اسمبلی کے کردار کی فکر کھائے جا رہی ہے۔
اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے اپنی میٹنگز کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگرچہ تحریک عدم اعتماد کے ٹیبل ہوتے ہی سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس 14 دن میں بلانے کا پابند ہے لیکن وہ اجلاس بلانے میں تاخیری حربے استعمال کر سکتا ہے یا پی ٹی آئی کے باغی ارکان کے ووٹوں کو اپوزیشن کے کھاتے میں شمار کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔
اسی طرح ووٹنگ کے وقت حکومتی ارکان ہنگامہ برپا کر کے سپیکر کی مدد سے ووٹنگ کا عمل رکوا سکتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی پر سپیکر قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی بھی کر سکتا ہے کیونکہ اسے آئینی طور پر یہ اختیار حاصل ہے۔ اسکے علاوہ سپیکر مجوزہ او آئی سی کانفرنس کی وجہ سے قومی اسمبلی کا ہال خالی نہ ہونے کا بہانہ بھی تراش سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے متحرک اور پر جوش تو ہے لیکن ساتھ ہی اسے یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ جانے والے ارکان اسمبلی کی حفاظت کی ضمانت کون دے گا؟ یہ خدشہ بھینہے کہ باغی ہو جانے والے ارکان اسمبلی کو ووٹنگ سے پہلے اٹھایا بھی جا سکتا ہے۔
اپوزیشن کا ساتھ دینے کی پاداش میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ارکان کے خلاف سپیکر کی جانب سے نا اہلی کے ریفرنس بھی دائر ہو سکتے ہیں۔
یہ وہ تمام خدشات ہیں جن کی وجہ سے اب تک متحدہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد ابھی تک تاخیر کا شکار ہے۔ یاد رہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کی سو فیصد کامیابی کے لیے صرف تحریک انصاف کے باغی اراکین پر انحصار کرنے کی بجائے حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے بھی مذاکرات کر رہی ہے جن کے پاس 17 ارکان ہیں۔ ان اراکین کے حکومت سے الگ ہونے پر وفاداری تبدیل کرنے کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔
دوسری جانب حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معرکہ سر کرنے کے لیے اپنی گنتی پوری کر لی ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس نے حکمران جماعت کے 24 ارکان کی حمایت حاصل کر لی ہے یوں اس کے پاس 172 کا مطلوبہ نمبر آچکا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف سے بغاوت کے لئے پرتولنے والوں میں سے بیشتر ارکان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ ان میں سے 6 ارکان کافی عرصے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے رابطے میں ہیں جب کہ چھ مزید ارکان جہانگیر ترین کی وساطت سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے دیگر ارکان بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے بدلے تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ بس بگل بجنے کا انتظار ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں پانچ نشستیں رکھنے والے گجرات کے چوہدری برادران گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ طاقت ور لوگوں کے واضح اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ چوہدری برادران کی قومی اسمبلی میں تو 5 نشستیں ہیں لیکن ان کے پنجاب اسمبلی میں موجود دس اراکین پنجاب میں وزیر اعلی کی چھٹی کروانے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس وقت قومی اسمبلی میں حکمران جماعت 179 ارکان کی حمایت کی دعوے دار ہے جن میں پی ٹی آئی کے 155، ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ (ق) کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، جمہوری وطن پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک ارکان حکومت قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کیمپ 162 ارکان نے آباد کر رکھا ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، متحدہ مجلس عمل کے 15 بی این پی مینگل کے 4، آزاد ارکان 2 اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔
نیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تھری نیشنل گرڈ سے منسلک
بظاہر حکومت کی اپوزیشن پر 17 ووٹوں کی برتری نظر آتی ہے لیکن اگر ان میں سے 10 ارکان بغاوت کر کے اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو حکومت اقلیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اسکے علاوہ اگر حزب اختلاف کے دعووں کے مطابق پی ٹی آئی کے 24 ارکان اسمبلی اپوزیشن سے آ ملیں تو عمران حکومت فوری زمین بوس جائے گی
Concern over failure of no-confidence motion against PM video news
