ضمیر تو بدنام ہوگیا، ہم اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں

جی ڈی اے کی رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو 14 سال ہوگئے، سندھ میں بد ترین طرز حکمرانی ہے، 14 سال حکومت کے دوران صوبے کے عوام کو پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں کیا گیا،سندھ کو ہیلتھ کارڈ کیوں فراہم نہیں کیا جاسکتا، سندھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے سندھ حکومت کو سلیکٹڈ حکومت قرار دیتے ہوئے کہا سندھ کے حکمرانوں نے سندھ کے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنے ورکروں کو انصاف فراہم نہیں کر سکی تو دوسرے صوبوں میں کیسے انصاف فراہم کریگی۔
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ہم کابینہ کا حصہ ہیں، آج تک حکومت کے ساتھ تھے تو ہمیں اس وقت بھی حکومت کے ساتھ رہنا چاہیے اور اصولی طور پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ میں نے کیا، ہم اصولوں پر کھڑے ہیں، اصولوں کا راستہ آسان نہیں ہوتا، اصولوں پر چلنے کا راستہ بہت مشکل ہے، میں جی ڈی اے کی نمائندتی کرتے ہوئے آج عوام کے سامنے کھڑی ہوں، ہم پارلیمنٹ میں ایک حلف لیکر آتے ہیں اور اگر ہم اس حلف کی پاسداری نہ کریں اور اچانک ضمیر بھائی جاگ اٹھے تو پاکستان کا مستقبل اور جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا۔انہوں نے کہا جب ہم پیپلپزپارٹی میں تھے تو ہم نے سندھ کے عوام کے لیے آواز اٹھائی اور جب ہم نے دیکھا کہ سندھ کے عوام انصاف نہیں ہو رہا تو ہم نے پیپلزپارٹی کو چھوڑا،
آصف زرداری ، نواز شریف اور فضل الرحمن کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے
آج اسطرح اس حکومت کو ختم کیا گیا تو آئندہ آنے والی کوئی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔انکا کہنا تھا میں اداروں سے، پاکستان کی عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے بھی کہتی ہوں کہ اگر ہم نے اس لوٹا کریسی کو نہیں روکا، آج اسطرح اس حکومت کو ختم کیا گیا تو آئندہ آنے والی کوئی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔ منحرف اراکین سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ضمیر تو بدنام ہوگیا، ہم اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں، لوٹا کریسی بند ہونی چاہیے۔شاندار جلسےپر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پی ٹی آئی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔
