اسلام آباد میں 9 مئی جیسا ایک اور سانحہ برپا کرنے کی سازش

ریاستی اداروں نے عمران خان کی ایما پر علی وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے تمام تر انتظامات کے باوجود اسلام آباد میں ایک اور سانحہ 9 مئی رچانے کی سازش ناکام بنا دی۔ بھائی لوگوں نے عین وقت پر وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو اپنا مہمان بنا کر تحریک انصاف کی انتشار اور دھرنے بارے کی گئی تمام پلاننگ الٹ دی اور عمران خان کی رہائی کےلیے اسلام آباد پر دھاوا بولنے والے شرپسند یوتھیے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

مبصرین کے مطابق اقتدار سے دوری اور قید و بند کی صعوبتوں کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان مکمل مایوسی اور شدید اضطرابی کیفیت سے دوچار ہیں اسی وجہ سے وہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پارٹی رہنمائوں کو ایسی ہدایات دیتے ہیں جن سے نہ صرف سیاسی ہیجان پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ اس سے پاکستان کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے اسی لیے اب سنجیدہ پارٹی رہنما عمران خان کی منفی ہدایات پر اُس طرح من وعن عمل نہیں کرتے اور انھیں غیر سنجیدہ لیتے ہیں تاہم اس وقت تک بانی کا آخری آسرا علی امین گنڈا پور تھے لیکن اسلام آباد احتجاج کے دوران مسلسل تیسری بار گنڈا پور نے ایسا چکر چلایا کہ سب کو حیران کردیا۔ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ علی امین دونوں طرف کھیلتے ہیں لیکن ایسا لگتانہیں۔ بلکہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ وکٹ کے ایک ہی طرف کھیلتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے اس طرز عمل سے ان کے مخالفین میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور ان کا چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق علی امین بانی اور پارٹی دونوں کے ساتھ کھیل کھیلتے ہیں۔ ان کے جذباتی بیانات محض بڑھکیں ہیں۔ اگر وہ بانی کے ساتھ مخلص ہوتے تو وہ ان کو بہتر مشورے دیتے۔ بانی کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے لیکن ایک طرف نہ جانے کون ہے جس نے اپنے مشوروں کی وجہ سے بانی کو اس حال تک پہنچایا ہی نہیں بلکہ اس دلدل میں مزید آگے کی طرف دھکے دیتا ہے تو دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور ان ہی غلط مشوروں کی حمایت کرکے بانی کو یقین دلاتے ہیں کہ جلد معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ گنڈا پور ہی تھے جنہوں نے نہ صرف ایس سی او کانفرنس سے پہلے عمران خان کو اسلام آباد میں احتجاج کا مشورہ دیا بلکہ احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کی یقین دہانی بھی کروائی کیوں کہ پلاننگ یہ تھی کہ شرپسند مظاہرین کو ساتھ لے کر اسلام آباد پر دھاوا بولا جائے۔ جس کے بعد سیکورٹی اداروں سے تصادم میں  دو چار لوگ جان سے جائیں تاکہ حکومت اور اداروں کو موردِ الزام ٹھہراکر آسانی سے بانی پی ٹی آئی کےلیے این آر او کی راہ ہموار کی جا سکے اس تمام ڈرامے میں کوشش یہ تھی کہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان سے مذاکرات کےلیے مجبور کیا جا سکے تاہم یوتھیے اپنی پلاننگ میں مکمل ناکام رہے کیونکہ اسلام آباد احتجاج کے دوران سب کچھ الٹا ہوگیا۔ بلوائیوں میں سے تو کسی کو خراش تک نہ آئی البتہ اسلام آباد پولیس کا بہادر اہلکار جو فسادیوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑا رہا وہ ان بلوائیوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ اس میں کوئی شک وشبہ یا جواز نہیں کہ اس فساد کو برپا کرنے کا حکم دینے والے اور ان دہشت گرد بلوائیوں کو اکٹھا کرکے لانے والے ہی اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر9مئی کی شرمناک دہشت گردی میں ملوث فسادیوں، شرپسندوں، ملک دشمنوں، ان کے منصوبہ ساز و ہدایت کاروں کو فوری اور عبرتناک سزائیں دی گئی ہوتیں تو پھر کسی کو ایسی جرات نہ ہوتی لیکن مصلحت کا کیا کیا جائے کہ ریاستی معاملات اور ملک دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنا اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی طویل عمل بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ڈرامہ ڈی چوک کو بغور دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے احتجاج کا وقت اور ڈی چوک اسلام آباد کا مقام بہت معنی خیز ہے۔ جس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس میں شرکت کےلیے مختلف ممالک سے معزز مہمان اسلام آباد آرہے ہیں اس موقع پر انتشاری احتجاج اور بلوے کی کال دینا ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ اس اجلاس کی پاکستان کےلیے کیا اہمیت ہے اس لیے اس موقع پر شرانگیزی کرنے کا مقصد نہ صرف پاکستان کو بدنام کرناتھا بلکہ اجلاس میں شامل ہونے والے معزز مہمانوں کو بدظن کرکے بد اعتمادی پیدا کرنابھی تھا۔ تاہم ریاستی اداروں نے حکمت عملی سے یوتھیوں کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے احتجاج میں افغان شہریوں کی شمولیت کا کیا مطلب ہے؟ نام نہاد پرامن احتجاج میں ہتھیاروں کی موجودگی، پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ، سرکاری آنسو گیس کے شیل اور سادہ لباس میں کے پی کے پولیس اہلکاروں کی موجودگی وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنا نہیں تھا تو اور کیا تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں سے خطاب کی دعوت دینا ریاست سے دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا بتانا ہے کہ اب ریاستی اداروں نے شرپسند عناصر کی سرکوبی کا فیصلہ کر لیا ہے جلد نہ صرف ریاست مخالف سازش رچانے والے ماسٹر مائنڈز کی گرفتاریاں ہونگی بلکہ شرپسندی میں ملوث یوتھیے بھی زد میں آئینگے اور صرف انھیں گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو کیفر کردار تک پہنچا نے کے مکمل انتطامات بھی کئے جا رہے ہیں جس کےلیے اہم اقدامات اور فیصلے جلد ہونیوالے ہیں۔

ڈی چوک احتجاج : گرفتار شرپسند افغان باشندوں کے بیانات منظر عام پر آگئے

Back to top button