صدر آصف زرداری کو ہٹانے کی سازش: افواہوں میں کتنی حقیقت ہے ؟

پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل محسوس کی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ جیو نیوز سے وابستہ معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید کا یہ دعوی ہے کہ صدرِ آصف علی زرداری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ابتدائی سطح پر کام شروع ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو صدر کا عہدہ تفویض کرنے کے فارمولے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بے بنیاد افواہ کے پیچھے وہ عناصر ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین مثالی ورکنگ ریلیشن شپ ہضم نہیں ہو رہا۔
اعزاز سید نے اپنے تازہ وی لاگ میں دعوی کیا ہے کہ بعض طاقتور حلقے صدر آصف زرداری کی موجودگی کو موجودہ نظام میں ایک طاقتور "پاور بروکر” گردانتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ ادارہ جاتی قوتیں صدر زرداری کو ایک علامتی صدر کے بجائے فیصلہ ساز اور مؤثر ہیڈ آف سٹیٹ تصور کرتی ہیں، جو انہیں قابل قبول نہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں ممنون حسین اور عارف علوی جیسے لوگ منصب صدارت پر براجمان رہے ہیں جو ڈمی صدور کہلاتے تھے، دوسری جانب صدر آصف زرداری ایک کائیاں سیاست دان ہیں جو فیصلہ سازی میں اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں لہذا ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔
ادھر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ انکا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو تکلیف ہے کہ یہ سب لوگ اکٹھے کیعں ہیں، اس لیے افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار سیاست دان، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اکٹھی ہیں لہذا مخالفین کو تکلیف ہے اور وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔
دوسری جانب اعزاز سید نے کہا کہ اب تک صدر آصف زرداری کو منظر نامے سے ہٹانے کے لیے کوئی عملی قدم تو نہیں اٹھایا گیا لیکن کچھ "خاموش رابطے”، "مشاورت” اور "متبادل منصوبہ بندی” ضرور جاری ہے۔ یاد ریے کہ پاکستان کا آئین صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جس میں مواخذے یعنی (impeachment) کی شق موجود ہے۔ تاہم، کسی صدر کا مواخذہ کرنا اور عہدہ صدارت سے برطرف کرنا صرف پارلیمینٹ کی عددی اکثریت سے ممکن نہیں، اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور قانونی بنیاد بھی درکار ہوتی ہے جو فی الحال نظر نہیں آتی۔
موجودہ پارلیمانی اور سیاسی صف بندیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس وقت کسی بھی طاقتور ادارے یا سیاسی جماعت کے پاس صدر زرداری کو ہٹانے کے لیے درکار طاقت موجود نہیں ہے۔ البتہ اگر اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، اور چند بڑی سیاسی قوتیں ایک صفحے پر آ جائیں، تو یہ ایسا کرنا ناممکن بھی نہیں۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام کے لپیٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہو جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر آصف زرداری کو پاکستانی سیاست کا سب سے سمجھدار، بردبار، کائیاں اور ڈرائنگ روم پالیٹکس کا ماہر ترین کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے خلاف کوئی بھی سازش کرنا اسان نہیں ہو گا۔ تاہم اگر ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی گئی تو صدر زراری جوابا دھوبی پٹرا مارنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری نے اپنے پچھلے دور صدارت میں پارلیمنٹ کو اس کے اختیارات لوٹا کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی لیکن اس کے باوجود یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ صدارت محض ایک رسمی عہدہ بن چکا ہے اور صدر کو عہدے سے ہٹانا کوئی آسان کام ہے۔
عمران کو سیاست سے مائنس کرنے کی سازش میں PTI لیڈرز ملوث3
اب سوال یہ ہے کہ آخر صدر آصف زرداری کو ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آ سکتی ہے؟ کچھ مبصرین کے مطابق، صدر آصف زرداری کی موجودگی نہ صرف مرکز میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پنجاب اور وفاق کے درمیان بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زرداری، نئی پاور ری الائنمنٹ میں رکاوٹ ہیں، جہاں طاقت ور قوتیں نگران حکومت کی طرز پر نیا سیاسی بندوبست لانے کے خواہاں ہیں، ایسی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مجوزہ نئے سیاسی بندوبست میں میں صدر کا کردار علامتی ہو۔ اگرچہ ابھی تک صدر زرداری کے خلاف کسی سازش کی تصدیق نہیں ہوئی، مگر اعزاز سید جیسے سینئر صحافی کی جانب سے ایسا دعوی معمولی بات نہیں۔ یہ یا تو کسی آنے والے سیاسی طوفان کی پیشگی بازگشت ہے، یا پھر صدر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
