خدا بن جانے والے سازشی ججز نے کل جو بویا تھا آج وہی کاٹا

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ استعفے دینے والے سپریم کورٹ کے ججز آئین کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے خدا بن بیٹھے تھے اور آئین کی جمہوری اور عوامی تشریحات کی بجائے جوڈیشل مارشل لا نافذ کر رہے تھے۔ یہ جج رعونت اور تکبر میں آئین حکومت، پارلیمان، فوج اور عوام سب سے بالاتر ہو چکے تھے۔ یہ مغرور منصف کالے چوغے پہن کر کروڑوں عوام کی منتخب حکومتوں اور اسمبلیوں کو چٹکی بجا کر گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ اصل میں ان ججز کے پیچھے بھی سیاسی جرنیل تھے اور اس مافیا نے مل کر پورے پاکستان کو آگے لگا رکھا تھا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 27 ویں آئینی ترمیم اور عدالتی اصلاحات ان فیصلوں کے آفٹر شاکس ہیں جو چند ججز منتخب سیاست دانوں، بیورو کریٹس اور فوج کیخلاف اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت دیتے رہے۔ انکا کہنا ہے کہ خدا پرستوں کا روز محشر پر پختہ ایمان ہے مگر دنیا پرستوں کے سامنے بھی آئے روز یوم حساب کا منظر چلتا رہتا ہے۔ دنیا کے عذاب و ثواب پر تو ایمان غیبی ہے مگر ایک اصول ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ کا بھی ہے۔ استعفے دینے والے مخصوص سیاسی ججز ادلے کی سٹیج سیٹ کر گئے تھے لہذا ادلے کا بدلہ تو ہونا ہی تھا جو آخر ہو کر رہا۔

 

انکا کہنا ہے کہ ہماری آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت میں پولیس، فوج اور نوکر شاہی کی روزانہ کی بنیاد پر کھچائی ہوتی تھی۔ جھوٹی درخواستوں پر ازخود نوٹس لے کر ہر طبقے کی عزت تار تار کرنے کو جوڈیشل ایکٹو ازم کا سنہرا نام دے دیا گیا تھا۔ اس زمانے میں زیرک سیاست دان چوہدری شجاعت حسین نے خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب نہ تو کوئی وزیراعظم ہے اور نہ کوئی وزیراعلیٰ یا گورنر اور نہ ہی فوج کی چل رہی ہے۔ اس وقت تو افتخار چوہدری ہی بلاشرکت غیرے ملک کے حکمران ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد جب جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس سپریم کورٹ بنے تو انہوں نے صوبہ سندھ کے ہسپتالوں اور جیلوں کے دورے کرنا شروع کر دیے تاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی ساکھ خراب کر سکیں۔ فاضل چیف جسٹس نے ’’نونی گورننس‘‘ کا سرعام مذاق اُڑایا اور عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کی غیر قانونی حیثیت کے خلاف دائر ایک درخواست کو رد کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو صادق امین قرار دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب چیف جسٹس کے کام ہیں جس کی اصل ذمہ داری یہ عدل اور انصاف کی فراہمی ہے۔ ان مہم جو ججوں کو خبط عظمت تھا مگر تاریخ کا پہیہ گھومتے دیر نہیں لگتی۔ ان سب سازشی اور سیاسی ججز کے کردار اور اعمال آہستہ آہستہ بے نقاب ہو گئے ہیں اور یوتے رہیں گے۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول ایک زمانہ تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے تین ججز کا شہرہ تھا، ان کی قابلیت اور ایمانداری نے ان کے جج بننے کے سفر کے دوران ہونے والی سفارشوں کو بھلا دیا تھا۔ وکیل ان تین ججز کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔ یہ جج، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس کھوسہ اور جسٹس منصور علی شاہ تھے۔ تینوں اچھے خاندانی پس منظر کے حامل تھے۔ عمر عطاء، بندیال قبیلے کے قابل فخر فرزند اور سابق چیف سیکرٹری ایف کے بندیال کے فرزند تھے۔ جسٹس کھوسہ بھی خاندانی طور پر متمول تھے۔ ان کے خاندان کا بیورو کریسی میں ایک نام تھا۔ منصور شاہ، لاہور کے صنعت کار سیّد خاندان سے تعلق رکھتے اور انتہائی کامیاب کارپوریٹ وکیل تھے۔ یہ تینوں رائزنگ سٹارز تھے اور ان سے توقع باندھی جارہی تھی کہ یہ ملک کی آئینی اور جمہوری تاریخ بدل دیں گے۔

 

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بطور وکیل آئین میں ترمیم کے خلاف آرٹیکلز لکھے مگر جب بطور جج وقت فیصلہ کیا تو اپنے نظریات اور آئین سے یوٹرن لے لیا۔ ماضی میں اپنے فیصلوں میں پارلیمنٹ کو سپریم اور وزیر اعظم کو چیف ایگزیکٹو قرار دینے والے کھوسہ نے جب بطور جج فیصلہ کیا تو کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کی ایک عدالتی حکمنامے کے ذریعے چھٹی کرا دی۔ کھوسہ نپولین کی طرح چھوٹے قدوقامت کے تھے لہٰذا اُنہوں نے جمہوریت پر بونا پارٹزم کا وہ وار کیا کہ آج تک پاکستان اس سے سنبھل نہیں پایا۔ ان کی اصول پسندی بروٹس کی طرح تھی جس نے سیزر کو پیچھے سے وار کرکے قتل کردیا۔ بروٹس کی اصل طاقت سیزر ہی تھا۔ قتل سے سیزر تو چلا گیا، لیکن اقتدار بروٹس کو بھی نہ ملا اور وہ بے وفائی کی تاریخ کا امام ٹھہرا۔

 

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال کی اُڑان بھی بلند تھی مگر وہ بھی آئین بھلا کر دیے گئے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے نہ ادھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ جسٹس بندیال نے رہی سہی کسر کمرہ عدالت میں بطور ملزم پیش ہونے والے عمران خان کو "گڈ ٹو سی یو” کہہ کر پوری کر دی۔ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منصور علی شاہ کے درمیان وکلا کے تنازع پر جو لڑائی ہوئی اس کے بعد انکی کبھی صلح نہ ہوسکی۔ ایک زمانے کے اصول پسند جسٹس بندیال بالآخر جسٹس ثاقب نثار گروپ میں شامل ہو گئے۔ ججوں کا لاہوری گروپ تقسیم تھا، جسٹس منصور شاہ، ثاقب نثار اور بندیال کے مخالف گروپ میں تھے اور جسٹس مقبول باقر کے ہمراہی تھے۔ مگر جب منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کی باری آئی تو یہ شبہ ہوا کہ وہ تحریک انصاف کے حامی ہو چکے ہیں لہذا اگر چیف جسٹس بنے تو 2024 کے انتخابات کو کالعدم قرار دے دیں گے۔

 

جسٹس منصور علی شاہ کے دورہ امریکا کے دوران ایسی انٹیلی جنس رپورٹس آئیں جن میں  ان کے قریبی حلقوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ عمران خان کے حامیوں کو کہہ رہے ہیں کہ آپ اگلے الیکشن کی تیاری کریں کیونکہ پچھلے الیکشن کو تو کالعدم قرار دیا جانے والا ہے۔ سہیل وڑائچ کے بقول یہی وہ خدشہ تھا جس کے باعث فیصلہ سازوں نے سید منصور علی شاہ کو چیف جسٹس سپریم کورٹ نہ بنانے کا فیصلہ کیا حالانکہ وزیر قانون سمیت دو طاقتور وفاقی وزیر انہیں سب سےبڑا عدالتی عہدہ دلوانا چاہتے تھے۔ اور تو اور بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے زعماء بھی ایسا ہی چاہتے تھے مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑی۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کی ایک زمانے میں جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ ایک مشترکہ لا فرم تھی جس میں یہ تینوں کاروباری پارٹنرز تھے۔ منصور علی شاہ کے سیاسی ہو جانے پر قرعہ فال جسٹس یحیٰی آفریدی کے نام نکل آیا۔ جسٹس منصور شاہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کیلئے یہ فیصلہ انتہائی غیرمتوقع تھا۔ جسٹس منصور جو کبھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اتحادی تھے، ججز کی سیاست میں انہوں نے جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک کے ساتھ مل کر ایک نئی لابی بنا لی لیکن استعفے دینے کی باری آئی تو منیب اور عائشہ دونوں پیچھے ہٹ گئے۔

 

دراصل جسٹس منصور شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو خدشہ تھا کہ 27؍ویں ترمیم کے بعد ان کی ٹرانسفر کر دی جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ججز بھی گھروں کو جانے کو ترجیح دیں لیکن یہ سارا کیا دھرا تو عدلیہ کے جج حضرات کا اپنا ہی ہے۔ ہر جعلی طاقت رکھنے والا اپنے طاقت دینے والے سے ایک دن لڑتا ہے اور اسی لیے ان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی ہو گئی۔ عدلیہ جب فوج کے مقابلے پر آئی تو ٹھہر نہ سکی اور اب عدلیہ جھٹکوں کی زد میں ہے۔

27 ویں ترمیم کے بعد عمران کی سیاسی منظر نامے پر واپسی ناممکن؟

سہیل وڑائچ کے مطابق 27 ویں ترمیم اور عدالتی اصلاحات ان فیصلوں کے آفٹر شاکس ہیں جو کہ ججز منتخب سیاست دانوں، بیورو کریٹس اور فوج کیخلاف اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت دیتے رہے۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر آپ آئین میں دیئے گئے اپنے کردار سے بڑھ جائیں یا اپنی حدوں سے متجاوز کرجائیں تو ایک نہ ایک دن آپ کا روز حساب آجاتا ہے۔

Back to top button