آئینی ترمیم:مولانا فضل الرحمان نےمزید ایک دن کا وقت مانگ لیا

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کےحوالےسےمشاورت کےلیے مزید ایک دن کا وقت مانگ لیا ہے۔
ہفتہ کے روز آئینی ترمیم کے لیےسرتوڑ کوششوں کے طور پراتحادی حکومت کے نمائندوں نے آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے کردیا، اس دوران اتحادی وفد کی مولانا فضل الرحمان کےساتھ آئینی ترمیم سے متعلق طویل مشاورت بھی ہوئی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی )کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے دن کو ہونے والی ملاقات کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم پرمکمل اتفاق رائے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد وہ ایک بار پھر اتحادی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے حتمی مشاورت کا فیصلہ کیا ہےاوراس سلسلے میں انہوں نے26 ویں آئینی ترمیمی بل کے مسودے کی حتمی کاپی اتحادی حکومت کے وفد کےہمراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق حکومتی وفد نےایک بار پھرمولانا فضل الرحمان سےآئینی ترمیم پر تفصیلی مشاورت کی ہے ، جس کےبعد مولانا فضل الرحمان نےمزید مشاورت کے لیے ایک دن کا وقت مانگ لیاہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم پر حکومت سے کوئی بڑا اختلاف نہیں رہا ہے۔
اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر حکومت وزرا اور بلاول بھٹو زرداری سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’طویل مشاورت کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور میں آپ کی خدمت میں حاضر ہیں، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے آئینی ترمیمی بل جو اتفاق رائے حاصل کیا تھا اور کراچی میں ہم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کا اظہار کیا تھا اور پھر لاہور آکر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ اسے شیئر کیا، اس پر طویل مشاورت اور بات چیت ہوئی، جو ابتدائی مسودہ تھا اور جسے ہم نے مسترد کردیا تھا حکومت اس سے پیچھے ہٹ گئی اور لاہور میں (ن) لیگی قیادت کے سامنے متفقہ مسودے کوپیش کیا۔‘
فضل الرحمان نے کہا کہ ’آئینی ترامیم میں اب کوئی بڑا متنازع نکتہ موجود نہیں، ہمارے درمیان اس وقت کسی خاص نکتے پر کوئی اعتراض نہیں اور آئینی ترمیم پر حکومت سے کوئی بڑا اختلاف نہیں رہا ہے، تحریک انصاف کو بھی آئینی ترامیم پر اعتماد میں لیے رکھا اور حکومت سے ہونے والی پیشرفت سے بھی پی ٹی آئی کو آگاہ رکھا، ایک ماہ تک پی ٹی آئی سے بھی مشاورت جاری رہی، آج پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنے بانی عمران خان سے ملاقات کے بعد آج مجھ تک ان کے مثبت لب و لہجے اور رویے کا پیغام پہنچایا گیا، انہوں نے آج مشاورت کے لیے کل تک کا وقت مانگا جس سے میں نے اتفاق کیا اور تحریک انصاف کے جواب کا کل تک انتظار کریں گے۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’میں مولانا فضل الرحمٰن کا شکر گزار ہوں، دو مہینوں سے دونوں جماعتوں نے انتھک محنت کی، چاہتا ہوں سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین سازی ہو، مولانا فضل الرحمٰن کل اپوزیشن کی جماعتوں کو جواب دیں گے، مجھے یقین ہے مولانا ان کو بھی قائل کر لیں گے اور امید ہے کہ پی ٹی آئی ترمیمی مسودے پر ساتھ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’پارلیمان کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن میری گزارش مانیں گے، میری درخواست ہے کہ ہمارا بل جے یو آئی خود پیش کرے، میری کوشش اور خواہش ہے کہ سیاسی اتفاق رائے سے یہ ترمیم منظور کروائیں۔‘
