آئینی ترمیم:نوازشریف اور شہبازشریف بھی”مولانا“کوملنے جائیں گے

جے یو آئی کے امیرمولانافضل الرحمان سیاست کا محور بن گئے،آئینی ترمیم کے معاملے پر صدر ن لیگ نوازشریف اوروزیراعظم شہبازشریف بھی مولاناکو ملنے جائیں گے۔

حکومت اوراتحادیوں کاسارا زور مولانافضل الرحمان کو منانے پر ہے۔ مولانا مان گئے یا ڈیڈلاک برقرار ہے؟ کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں۔

تاحال حکومت آئینی ترامیم کامسودہ وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ میں پیش نہیں کرسکی۔

حکومتی وفد ابھی ملاقات کرکے نکلا تو پی ٹی آئی کا وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گیا۔

شبلی فرازاور اسدقیصر مولانافضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے۔ ذرائع کے مطابق وفد مولانافضل الرحمان سے آئینی ترامیم کےمجوزہ پیکج پرتبادلہ خیال کرےگا اور انہیں مجوزہ آئینی ترامیم میں اپوزیشن اتحاد میں ساتھ رکھنے پر آمادہ کرےگا۔

دوسری جانب پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے چیئرمین خورشیدشاہ نے کمیٹی روم کے باہر غیررسمی گفتگو میں بتایاکہ مولانافضل الرحمان نےکہا ہے میں کمیٹی اجلاس میں شرکت کرناچاہتا ہوں۔

خیال رہے کہ آئنی ترمیم کیلئے حکومت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔

عدالتی اصلاحات پر سب کی نظریں مولانا فضل الرحمان پر لگ گئیں۔ ہفتے کی شام پہلے حکومتی وفد پھر تحریک انصاف کی قیادت بعد میں پھر رات گئے بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ  پہنچ گئے۔ حکومتی وفد کی مولانا کو منانے کی کوشش، مولانا نے جواب کےلئے وقت مانگ لیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کہتے ہیں حکومتی تجاویز پر پارٹی شوریٰ سے مشاورت کریں گے ۔ پی ٹی آئی کوبھی اعتماد میں لینےکا مشورہ دے دیا ۔ بیرسٹر گوہر بولے کسی کو کچھ معلوم نہیں کیا آئینی ترمیم ہونے جا رہی ہے۔  مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ ہوں گے۔

مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے نمبر گیم پوری کرنے کا مشن، مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر ملکی سیاست کا محور بن گئے ۔ رات گئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور مجوزہ آئینی ترمیم پر انہیں راضی کرنے  کی کوشش کی ۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری وکٹری کا نشان بناتے ہوئے روانہ ہوئے۔

دوسری طرف تحریک انصاف مجوزہ آئینی ترمیم روکنے کیلئے سرگرم ہے ۔ رات گئے پی ٹی آئی  وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات  کی۔  وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عمرایوب، شبلی فراز اور صاحبزادہ  حامد رضا شامل تھے ۔ میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کسی بھی سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

Back to top button