مکمل اتفاق رائے کے بغیر آئینی ترامیم پیش نہیں کی جائے گی : بیرسٹر عقیل ملک

وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کےلیے ہمارے نمبرز پورےتھے لیکن ہم وسیع تر مشاورت چاہتے تھے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نےکہا کہ کچھ نکات پر تحفظات سامنے آئے ہیں جس کے بعد معاملہ آگےنہیں بڑھ سکا۔

بیرسٹر عقیل ملک کاکہنا تھاکہ آئینی عدالتیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں، قانونی برادری کابھی طویل عرصے سےیہی مطالبہ ہےاور پی ٹی آئی بھی اس پر راضی ہے۔انہوں نےکہا کہ جب تک وسیع تر اتفاق رائے نہیں ہوگا ہم آئینی ترامیم پیش نہیں کریں گے۔

بیرسٹر عقیل ملک کاکہنا تھا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم موجودہ الیکشن کمیشن کو ہی توسیع دیناچاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی عدالت کا سربراہ لگانے کا تاثر بھی غلط ہےالبتہ ممکنہ ناموں میں سے ایک نام ان کا بھی ہوسکتا ہے۔

یادر ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کےمعاملے میں کوئی سیاست شامل نہیں تاہم پھر بھی اس کو سیاسی رنگ دیاگیا تاہم آئینی مسودے پرمکمل اتفاق رائے ہو جائے گا تو ایوان میں پیش کیاجائے گا۔

آئینی ترامیم : حکومتی اتحاد مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت حاصل کرنےمیں پھر ناکام

خواجہ آصف کا کہنا تھ کہ آئینی ترامیم کےمعاملے میں کوئی سیاست نہیں، ترامیم آئین میں عدم توازن دور کرنے کےلیے ہے، رکن پارلیمنٹ کےحیثیت سے آئین ہمیں اختیار دیتاہے کہ ہم پارلیمنٹ کی سربلندی کےلیے کام کریں جب کہ قانون سازی اور آئین کی حفاظت کرنا ہمارا حق ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے سے یہ منظور ہو، کابینہ سے منظوری تک آئینی ترمیم کی کوئی حتمی شکل سامنےنہیں آنی تھی اور جب اس پر اتفاق ہوجائے گا تو اس ایوان میں بھی ضرور آئےگا۔

Back to top button