فیلڈ مارشل کے لیے استثنیٰ لیکن وزیراعظم کے لیے چھنکنا

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات کے نام پر پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم نے ایک بار پھر ریاستی طاقت کے توازن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگر کسی عہدے کو استثنا کا حق دار قرار دیا جانا چاہیئے تو وہ وزیراعظم ہے، جو کئی دہائیوں سے مسلسل سازشوں کا شکار ہے۔ اسے کبھی تو عدالت، کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی صدارتی حکمنامے کے ذریعے فارغ کیا جاتا رہا ہے۔ مگر ہماری ریاستی ترجیحات میں کمزور وزیراعظم کو مزید کمزور کرنا اور طاقتور فوجی سربراہ کو مزید طاقتور بنانا اہم سمجھا جاتا ہے۔
حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی استثنا دے دیا گیا ہے، جس کے بعد فوجی سربراہ کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ آرمی چیف کو چیف آف دی ڈیفنس فورسز بھی بنا دیا گیا ہے جس سے ایک ہی شخص کو تین اہم ترین عسکری عہدے مل جائیں گے اور مسلح افواج میں بھی طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ استثنا کا حق دراصل اس عہدے کو دیا جانا چاہیے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ غیر محفوظ رہا ہے یعنی وزیراعظم کا منصب، جسے گزشتہ کئی دہائیوں سے بار بار فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اقتدار سے بے دخل کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو قیام پاکستان کے بعد سے آج تک عوامی مینڈیٹ رکھنے والے وزرائے اعظم ہی طاقتور اداروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے رہے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ کر پہلی بار سیاسی عمل کو سبوتاژ کیا۔ 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا اور پارلیمنٹ کا دروازہ بند کر کے ملک میں فوجی حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں براہِ راست فوجی اقتدار قائم رہا۔ ان ادوار میں وزرائے اعظم یا تو معزول کیے گئے، یا پھر تاریخ کے اندھیروں میں غائب کر دیے گئے۔
حماد غزنوی یاد دلاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو، جنہوں نے عوامی طاقت کے بل بوتے پر ملک کو متفقہ آئین دیا، انہی کے منتخب کردہ فوجی سربراہ جنرل ضیاء الحق نے انکو اقتدار سے نکال کر پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا۔ بے نظیر بھٹو کو دو بار اس صدارتی اختیار کے تحت بر طرف کیا گیا جو کہ جنرل ضیاء الحق نے 8ویں آئینی ترین کے ذریعے سپریم کمانڈر کو سونپا تھا۔ اسی طرح جب نواز شریف نے فوجی پالیسیوں پر سوال اٹھایا تو جنرل پرویز مشرف نے انہیں ہٹا کر خود اقتدار سنبھال لیا اور ایک دہائی تک پاکستان پر حکمران رہے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد عمران خان کو اقتدار میں لانے اور پھر ہٹانے میں بھی مرکزی کردار فوج کا ہی رہا۔ یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جس کے بعد آئین میں استثنا کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان میں کسی کو آئینی تحفظ کی ضرورت ہے تو وہ وہی عہدہ ہے جو ہمیشہ غیر یقینی حالات، سازشوں اور اقتدار سے بے دخلی کے خطرات میں گھرا رہتا ہے یعنی وزیراعظم کا۔ لیکن 27ویں ترمیم کے ذریعے استثنا فوجی قیادت کو دیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی ملکی سیاسی و انتظامی نظام کی سب سے طاقتور قوت سمجھی جاتی ہے۔
حماد غزنوی کے مطابق یہ ترمیم دراصل اس حقیقت کی آئینی توثیق ہے جو برسوں سے پاکستانی سیاست کی ایک تلخ ترین حقیقت رہی ہے۔ اس ملک میں اصل طاقت ہمیشہ وردی والے کے پاس رہی اور عوامی مینڈیٹ ہمیشہ کمزور رہا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین اور طاقتوروں کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار حماد نے اس صورتحال کو ایک علامتی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا طاقتور عسکری طبقہ ’’ڈورین گرے‘‘ کی طرح ہمیشہ جوان، حسین اور محفوظ رہنا چاہتا ہے، جس پر وقت کبھی اثر انداز نہ ہو سکے۔
ان کے بقول جیسے ڈورین گرے کی تصویر اس کے گناہوں کا بوجھ اٹھاتی رہی، اسی طرح پاکستان میں عوام، پارلیمنٹ اور وزرائے اعظم اس طاقت کے نتائج بھگتتے ہیں جو خود کو جواب دہی سے ماورا سمجھتی ہے۔
جنرل عاصم منیر کو قومی ہیرو رہنے کیلئے کن لوگوں سے بچنا چاہیے؟
حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ اگر 27ویں ترمیم میں استثنا وزیر اعظم کے لیے رکھا جاتا تو یہ ملکی سیاسی تاریخ کے بار بار دہرائے جانے والے المیوں کو کسی حد تک ختم کر سکتا تھا۔
ایسا ممکن ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان جیسے وزرائے اعظم کو اقتدار سے یوں ذلیل و رسوا کر کے نہ نکالا جاتا، بلکہ نظامِ سیاست اپنی مدت اور آئینی حدود میں چلتا۔ اب جبکہ فیلڈ مارشل کو آئینی استثنا دیا جا رہا ہے، تو یہ فیصلہ طاقتور فوجی سربراہ کو مزید طاقتور بنانے کے مترادف ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ پاکستان میں آئین عوام کے منتخب نمائندوں کے لیے نہیں، بلکہ طاقت کے حقیقی مراکز کے تحفظ کے لیے لکھا جاتا ہے۔
