متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہر کو راہداری ضمانت مل گئی

پشاور ہائی کورٹ نے سماجی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں پشاور ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا عطااللہ کنڈی، جہانزیب محسود، طارق افغان، اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مبینہ متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے دونوں کو گرفتار کر کے 24 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
سماعت کے دوران وکیل عطااللہ کنڈی نے مؤقف اپنایا کہ ایمان مزاری ایک معروف وکیل اور سماجی کارکن ہیں، اور ان کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس سلسلے میں وہ عدالت میں پیش ہونا چاہتی ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا دونوں درخواست گزار وکیل ہیں؟ جس پر وکیل صفائی نے جواب دیا کہ جی، دونوں وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ عدالت میں دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ چیف جسٹس نے ایمان مزاری سے کہا، "آپ پہلی بار پشاور آئیں؟” ایمان نے جواب دیا، "جی، پہلی بار آئی ہوں۔” اس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے، "چلو، ایف آئی آر کے بہانے ہی سہی، آپ خیبرپختونخوا تو آئیں، ورنہ تو لوگ ادھر آتے ہی نہیں۔”
وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مظلوم عوام کی آواز بنی ہوئی ہیں، اور ان کے خلاف مقدمہ انتقامی نوعیت کا ہے۔
عدالت نے دونوں درخواست گزاروں کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ مقررہ تاریخ تک متعلقہ عدالت میں پیش ہوں۔
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم کنٹرول اتھارٹی (NCCIA) نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، ان پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس کر رہے تھے جو لسانی تقسیم کو ہوا دے سکتی ہیں، اور انہوں نے لاپتا افراد کے معاملے کی ذمہ داری سیکیورٹی اداروں پر عائد کی۔
یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

Back to top button