کور کمانڈر پشاور کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں طلبی پرتنازعہ

خیبرپختونخوا اسمبلی نے کور کمانڈر پشاور کو سیکیورٹی بریفنگ کیلئے طلب کر لیا۔ کے پی کے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی کی جانب سے کور کمانڈر پشاور کو اِن کیمرہ بریفنگ کے لیے ارسال کیا گیا خط ایک نئے سیاسی اور آئینی تنازعے کی شکل اختیار کرگیا ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے لکھے گئے خط نے صوبائی اور عسکری قیادت کے درمیان اختیارات اور دائرہ کار سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس پیش رفت کو حکومتی حلقے جمہوری نگرانی کے عمل سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے روایتی ادارہ جاتی حدود سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔

خط کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی جماعتوں، قانونی ماہرین اور سکیورٹی امور کے مبصرین کی جانب سے متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ صوبائی اسمبلی کی جانب سے کسی بھی وفاقی ادارے کو براہِ راست سکیورٹی جیسے حساس معاملات پر اِن کیمرہ بریفنگ کے لیے طلب کرنا آئینی اور قانونی دائرہ کار سے تجاوز کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے معاملات میں صوبائی اسمبلی کو براہِ راست خط و کتابت کے بجائے وفاقی حکومت کے ذریعے رجوع کرنا چاہیے، تاکہ نہ صرف آئینی تقاضے پورے ہوں بلکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا ادارہ جاتی محاذ آرائی سے بھی بچا جا سکے۔

تاہم خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے، اور اس نوعیت کی بریفنگ شفافیت اور بہتر فیصلہ سازی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ناقدین کے تحفظات کے باعث اس اقدام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ سکیورٹی سے متعلق حساس امور میں آئینی طریقۂ کار اور ادارہ جاتی حدود کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے، تاکہ کسی بھی قسم کے تصادم یا غیر ضروری تنازعے سے بچا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھجوائے گئے خط نے ایک بار پھر سول و عسکری اداروں کے باہمی تعلقات، اختیارات کی تقسیم اور آئینی حدود پر ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی سکیورٹی کمیٹی کی جانب سے پشاور کے کور کمانڈر کو خط لکھ کر صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اِن کیمرہ بریفنگ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر دستیاب اس خط کے متن میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خصوصی سکیورٹی کمیٹی کے قیام کا مقصد صوبے میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ کمیٹی کے کل 40 اراکین ہیں، جن میں حکومتی اور حزبِ اختلاف دونوں جماعتوں کے نمائندگان شامل ہیں۔ خط کے مطابق کمیٹی کو دیے گئے مینڈیٹ کے تحت اب تک تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے تفصیلی بریفنگز لی جا چکی ہیں۔ اسی سلسلے کی کڑی میں کمیٹی یہ چاہتی ہے کہ پشاور کے الیون کور ہیڈکوارٹر سے بریفنگ حاصل کی جائے، جس میں بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری یا مجوزہ آپریشنز سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔‘‘

سکیورٹی امور کے حوالے سے خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں محض آپریشنز پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی، سماجی اور ترقیاتی اقدامات کو بھی ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر صوبے میں حالات مزید بگڑنے کا خدشہ موجود رہے گا۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اسی تناظر میں کمیٹی چاہتی ہے کہ ایک اِن کیمرہ بریفنگ کا انعقاد کیا جائے، جس کے لیے باہمی مشاورت سے تاریخ اور وقت کا تعین کیا جا سکے۔ بریفنگ صوبائی اسمبلی کے احاطے میں منعقد کی جائے اور کمیٹی کو امید ہے کہ آپ اپنی آئینی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ہماری معاونت کریں گے۔‘‘

فوجی اسٹیبلشمنٹ بلاول بھٹو سے ناراض کیوں ہو گئی؟

پاک فوج یا پشاور الیون کور ہیڈکوارٹر کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی اس درخواست پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل یا جواب جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع نے صوبائی اسمبلی کی جانب سے ارسال کیے گئے خط کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان روزمرہ کی کوآرڈینیشن اور معمول کے رابطوں کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم صوبائی اسمبلی کے فورم پر امن و امان سے متعلق اِن کیمرہ بریفنگ کی طلبی کسی صورت ایک معمول کا عمل نہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک نہایت حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی معاملہ ہے، جس کے لیے وفاقی سطح پر منظوری اور باقاعدہ طریقۂ کار کی تکمیل لازم ہوتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ فوجی قیادت، بالخصوص کور کمانڈر یا جی ایچ کیو سے براہِ راست اِن کیمرہ یا ادارہ جاتی بریفنگ کی درخواست کرے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف آئینی دائرہ کار سے تجاوز کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ اس سے اداروں کے مابین غیر ضروری غلط فہمیاں اور کشیدگی بھی جنم لے سکتی ہے۔

Back to top button