کیا ICC پاکستان کے خلاف کوئی بڑا ایکشن لے سکتی ہے؟

حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے گروپ میچ میں حصہ لینے سے روکنے کے فیصلے کے بعد عالمی کرکٹ حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان کرکٹ بورڈ یا قومی ٹیم کے خلاف کیا کارروائی کر سکتی ہے، اور آیا آئی سی سی ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہے بھہ یا نہیں۔
15 فروری کو بھارت کے خلاف کولمبو میں پول میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کا اعلان حکومتِ پاکستان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے کیا گیا تھا جس کے فوراً بعد آئی سی سی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پی سی بی سے ایک باہمی طور پر قابلِ قبول حل کی توقع رکھتی ہے جو تمام شراکت داروں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ آئی سی سی نے کہا کہ ایسے فیصلوں کے مضمرات صرف ایک میچ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پاکستان اور عالمی کرکٹ نظام کے لیے طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عالمی سپورٹس میڈیا کے مطابق، آئی سی سی کے تمام ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والے بورڈز ایک قانونی معاہدے، ممبر پارٹیسیپیشن ایگریمنٹ member participation agreement کے پابند ہوتے ہیں۔ اس معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق ہر رکن بورڈ نہ صرف ایونٹ میں شرکت کرنے بلکہ شیڈول کیے گئے تمام میچز کھیلنے کا بھی غیر مشروط پابند ہوتا ہے۔ آئی سی سی اس بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنا اس معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
بین الاقوامی قانونی ماہرین کے مطابق اگر آئی سی سی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ پی سی بی نے جان بوجھ کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو ممکنہ کارروائیوں میں میچ سے دستبرداری پر فائن یا مالی جرمانہ، ایونٹ سے حاصل ہونے والی آمدن یا ریونیو شیئر میں کٹوتی، میچ کو بھارت کے حق میں واک اوور قرار دینا، پوائنٹس ٹیبل پر اثر، یا انتہائی صورت میں مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس میں مشروط شرکت جیسی سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی سخت کارروائیاں عملی طور پر مشکل دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ معاہدے میں شامل فورس میجیور کی شق ہے، جو پی سی بی کے لیے مضبوط قانونی سہارا سمجھی جا رہی ہے۔ اس شق کے تحت اگر کسی ٹیم کو جنگ، دہشت گردی، داخلی بدامنی یا حکومتی حکم کے باعث اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں رکاوٹ پیش آئے تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جاتا۔ پی سی بی اس بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کرنے کی تیاری میں ہے کہ ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ سے روکنے کا فیصلہ پقکستانی کرکٹ بورڈ یا ٹیم مینجمنٹ نے نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان نے کیا، جس کی پابندی آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق فورس میجیور کے تحت پی سی بی پر لازم ہوگا کہ وہ آئی سی سی کو باضابطہ طور پر تحریری نوٹیفکیشن دے، حکومتی حکم نامہ منسلک کرے اور وضاحت کرے کہ یہ فیصلہ کیسے اور کس حد تک اس کی معاہدے کی ذمہ داریوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد آئی سی سی کے لیے پاکستان کے خلاف سخت مالی یا انتظامی کارروائی کو قانونی طور پر درست ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔
آئی سی سی کی جانب سے یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ اگر کسی ٹیم کو ایک میچ کھیلنے سے روکا گیا ہے تو وہ دراصل پورے ٹورنامنٹ میں شرکت کی شرائط پوری کرنے سے قاصر ہے، کیونکہ معاہدہ جزوی شرکت کی اجازت نہیں دیتا۔ تاہم بین الاقوامی قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فورس میجیور کی ایک انتہائی وسیع تشریح ہوگی، جسے پی سی بی نہ صرف آئی سی سی کے اندرونی فورمز بلکہ ضرورت پڑنے پر کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹس میں بھی چیلنج کر سکتا ہے۔
کرکٹ ورلڈ کپ: 42 پاکستانی نژاد کھلاڑی انڈیا کے گلے پڑ گئے
لیکن اس معاملے میں سب سے اہم اور فیصلہ کن عنصر آئی سی سی کا ماضی کا طرزِعمل اور ڈبل سٹینڈرڈز کا الزام ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس بار بار یہ نکتہ اٹھا رہی ہیں کہ ماضی میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے موجودہ آئی سی سی چیئرمین جے شاہ کی قیادت میں بھارتی ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کیا تھا، جس کے نتیجے میں نہ تو بھارتی ٹیم پر کوئی جرمانہ عائد کیا گیا، نہ ہی بی سی سی آئی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی۔ اس مثال کی موجودگی میں آئی سی سی کا پاکستان کے خلاف کوئی بھی ایکشن قانونی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔ کرکٹ سے وابستہ مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ جے شاہ اس وقت خود آئی سی سی کے سربراہ ہیں، اس لیے پاکستان کے خلاف سخت فیصلہ کرنا مفادات کے ٹکراؤ اور دوہرے معیار کے الزامات کو جنم دے سکتا ہے، جو آئی سی سی کی غیر جانبداری اور ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اسی وجہ سے یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ آئی سی سی اس معاملے میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کرے گی۔
ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت کولمبو میں موجود ہے اور 7 فروری کو آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کھیلنے کا شیڈول ہے۔ پی سی بی کی جانب سے بظاہر ایک متوازن حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے جس کا مقصد ایک طرف حکومتی فیصلے کی پاسداری اور دوسری جانب آئی سی سی کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بچاؤ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ آئی سی سی کے پاس تکنیکی طور پر پاکستان کے خلاف کارروائی کا اختیار موجود ہے، لیکن فورس میجیور کی شق، ماضی میں بھارت کے معاملے پر اختیار کی گئی نرم پالیسی، براڈکاسٹرز اور سپانسرز کے تجارتی مفادات، اور آئی سی سی قیادت کی موجودہ سیاسی حقیقتیں ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی سخت فیصلے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کا حل کسی جرمانے یا پابندی کے بجائے سفارتی، قانونی اور انتظامی مفاہمت کے ذریعے نکالا جائے گا، تاکہ عالمی کرکٹ میں ایک نئے بحران سے بچا جا سکے۔
