کیا پاکستان بھی ایران امریکہ جنگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے؟

امریکی و اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستانی سیاست اور داخلی صورتحال کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات اور سفارتی قربت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری جانب ملک کے اندر شیعہ برادری کے غم و غصے اور احتجاجی ردعمل کو سنبھالنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہی نازک توازن اب پاکستان کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی کے لیے ایک کڑی آزمائش کی صورت اختیار کرنا دکھائی دیتا ہے ماہرین کے بقول مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے اٹھایا جانے والا کوئی بھی جذباتی اقدام پاکستان کو بھی اس جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق حالیہ دنوں میں کراچی سمیت کئی شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے، جھڑپیں اور عسکری قیادت و شہباز شریف حکومت کے خلاف سامنے آنے والا غم و غصہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والا بحران اب صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کے اندرونی استحکام کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس نازک سفارتی اور داخلی توازن کو برقرار رکھ سکے گا، یا یہ صورتحال ملک کو ایک نئے داخلی اور سفارتی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شیعہ برادری آیت اللہ خامنہ ای کو ایک روحانی اور مذہبی رہنما کے طور پر دیکھتی رہی ہے، اسی لیے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان میں سخت جذباتی رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے باہر شدید احتجاج کیا اور بعض مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد کے ہلاکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ شیعہ مذہبی رہنما ساجد علی نقوی کے مطابق خامنہ ای کی موت نے شیعہ برادری کو کمزور نہیں بلکہ مزید متحد کر دیا ہے اور ان کے بقول یہ واقعہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کے جذبات کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کو اس وقت ایک نہایت پیچیدہ سفارتی صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی دیکھی گئی ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت، خصوصاً عاصم منیر، کے ساتھ امریکی قیادت کے قریبی روابط کو بھی ان تعلقات کی مضبوطی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی گہرے سیاسی، معاشی اور عسکری روابط موجود ہیں۔ حالیہ عرصے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک سٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی سامنے آیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں اسرائیل اور امریکہ کے حملے اور ایران کے یواے ای،کویت، بحرین اور قطر سمیت مختلف خلیجی ممالک پر جوابی حملوں نے پاکستان کو دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے، کیونکہ پاکستان جانتا ہے کہ حالیہ صورتحال میں ایران کے ساتھ کشیدگی یا کھلی مخالفت پاکستان کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک بھی ہے اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ بھی اہم ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان ایک طرف ایران کے ساتھ یکجہتی ظاہر کر کے اندرونی امن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے یہ خدشہ نھی لاحق ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی وجہ سے وہ اس جنگ کے دائرے میں کھنچتا چلا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ آگے بڑھتی ہے تو پاکستان کو داخلی امن اور اپنے جغرافیائی و سیاسی وعدوں کے درمیان سمجھوتے کرنے پڑ سکتے ہیں۔‘‘

ماہرین کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سامنے آنے والے جذباتی اور سخت رد عمل نے پاکستان کے لئے دوہری مشکلات پیدا کر دی ہیں تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کی شدت میں کمی آنے کے امکانات موجود ہیں تاہم مظاہرین کی ہلاکتیں کشیدگی کو طویل عرصے تک زندہ رکھ سکتی ہیں۔ خاص طور پر اگر ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں تو یہ احتجاجی لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین کے بقول اسرائیلی و امریکی حملوں میں شہادت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، تاہم حکومت نے امریکہ کا نام لینے سے گریز کیا اور ساتھ ہی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ ماہرین کے مطابق یہی محتاط سفارتی انداز اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی نازک صورتحال میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد کو داخلی استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی میں بھی نہایت محتاط اور متوازن حکمت عملی سےاپنانا ہوگی ورنہ پاکستان بھی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

Back to top button