سائفر کیس میں جنرل باجوہ کا عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ

سائفر کیس میں عمران خان کا اپنی چان بخشی کیلئے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی عدالت طلبی کا مطالبہ ان کے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ سینئر صحافی مزمل سہروری کا کہنا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ایک اور دھچکا لگنے والا ہے کیونکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سائفر کیس میں بطور گواہ عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں اور وہ اپنے بیان میں سارا کچا چٹھا کھول دیں گے۔

نیا دور ٹی وی پر ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قمر جاوید باجوہ کو طلب کیا گیا تو وہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے انہوں نے جنرل ہیڈ کوارٹرز یعنی جی ایچ کیو سے اجازت بھی مانگ لی ہے۔مزمل سہروردی کے مطابق امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو ڈونلڈ لو اور کسی دوسرے امریکی سفارت کار کو پاکستان کی کوئی عدالت طلب نہیں کر سکتی کیونکہ انہیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ ان پر منحصر ہے کہ آیا وہ عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں یا نہیں؟تجزیہ کار نے مزید کہا کہ عمران خان اس وقت کمزور وکٹ پر کھیل رہے ہیں۔ نہ اسٹیبلشمنٹ اور نہ ہی کوئی اور سیاسی جماعت عمران خان سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی باتیں اور مطالبات سن کر خیال آتا ہے کہ کیا کسی کا جھوٹ بولنے کا حق بنیادی حقوق میں شامل ہوتا ہے.عدالت کو جنرل باجوہ کو بلانا چاہئے اور جنرل باجوہ کو عدالت جانا چاہئے، جنرل باجوہ عدالت جاتے ہیں تو معاملہ واضح ہوجائے گا، عمران خان نے اسد عمر کو جنرل باجوہ کے پاس بھیجا تھا کہ تحریک عدم اعتماد سے جان چھڑائیں آپ کو ایکسٹینشن دیدیتے ہیں۔ جنرل باجوہ کو عدالت میں پیش ہو کر حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہیں۔

دوسری طرف سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان جھوٹے بیانات کے ذریعہ میڈیا کو عرصہ سے استعمال کررہے ہیں، عمران خان اگر جنرل باجوہ کو بطور گواہ بلانا چاہتے ہیں تو عدالت کو انہیں بلانا اور جنرل باجوہ کو آنا چاہئے، جنرل باجوہ نے عمران خان کی محبت میں اپنے ادارے اور ملکی وقار کو داؤ پر لگادیا تھا اب ان کیلئے بھی ایک سبق ہونا چاہئے، سائفر سمیت اہم معاملات میں بشریٰ بی بی کا کلیدی کردار رہا ہے، عمران خان کی تمام تر حکمت عملی بنانے والی دراصل بشریٰ بی بی تھیں، عدالت کو بشریٰ بی بی کو بھی بلانا چاہئے، جنرل باجوہ، جنرل فیض، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا عدالت میں مکالمہ ہو تو بہت سے حقائق سامنے آجائیں گے۔

تاہم سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ عمران خان کامیابی سے اپنا بیانیہ پھیلارہے ہیں، ہم سائفر کیس کے حقائق پر بات کرنے کے بجائے عمران خان کے موقف پر چل رہے ہیں، سائفر کیس جنرل باجوہ یا ڈونلڈ لو سے متعلق نہیں ہے اس لیے انہیں عدالت نہیں بلایا جاسکتا، سائفر کیس عمران خان کے خلاف ہے جہاں انہوں نے اپنے حلف اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

Back to top button