عمران خان کی بنی گالا منتقلی کےعدالتی حکم پرعملدرآمدہوگا،راناثنا

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کا حکم دیا تو حکومت حکم پر عمل کرے گی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ مکمل طور پر نہیں پڑھی، میڈیا سے اس بارے میں معلومات ملی ہیں، رپورٹ میں عمران خان کو جیل میں میسر جو سہولیات سامنے آئی ہیں وہ وہی سہولتیں ہیں جو انہیں شروع سے حاصل ہیں۔ پی ٹی آئی مسلسل پروپیگنڈا کرتی رہی کہ انہیں کوئی سہولت حاصل نہیں اور وہ قید تنہائی میں ہیں، انہیں کھانے پینے کی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔

وزیراعظم کے مشیرنے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے جو رپورٹ پیش کی ہے اسی سے ملتی جلتی رپورٹ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔ چیف جسٹس نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے دونوں رپورٹس دیکھی ہیں جو آپس میں ایک جیسی ہیں۔ یہ بات طے ہوگئی ہے کہ عمران خان کو سہولیات حاصل ہیں۔ قائد نواز شریف سمیت ہمارا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ جیل مینوئل کے تحت انہیں سہولیات ملنی چاہیے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ کہا گیا ہے کہ اکتوبر سے عمران خان کی آنکھ کو مسئلہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت ان کی صحت پر سیاست کرے تو یہ جرم ہے اور اگر پی ٹی آئی سیاست کرے تو وہ بھی جرم ہے۔ یہ غلط بات ہے کہ اکتوبر سے انہیں یہ مسئلہ تھا۔ 2 دسمبر کو عظمیٰ خان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، اس وقت کیا عمران خان یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ ان کی آنکھ میں مسئلہ ہے اور ان کی آنکھ کی بینائی اتنی فیصد جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو آنکھ کا مسئلہ 2 دسمبر کے بعد ہوا، جس کے بعد جیل حکام نے سپیشلسٹ کو بلایا، جنہوں نے عمران خان کی آنکھ کے ٹیسٹ کیے اور پھر تجویز کیا کہ ان کا علاج فلاں ہسپتال میں ہوگا۔

 

Back to top button