گھر میں شیر پالنے پر پابندی کے بعد پنجاب میں کریک ڈاؤن کا آغاز

 

 

 

حالیہ مہینوں میں پالتو شیروں کے بچوں، بڑوں اور عورتوں پر پے در پے حملوں کے بعد پنجاب حکومت نے گھروں میں پالتو شیر رکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے صوبہ بھر میں شیروں کو برآمد کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں شیروں کو تحویل میں لے لیا ہے جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔ تحویل میں لیے گئے شیروں کو پنجاب کے مختلف چڑیا گھروں میں شفٹ کر دیا جائے گا۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ صوبے میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے تمام خطرناک جنگلی جانوروں کو تحویل میں لیا جا سکے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے یہ سخت فیصلہ لاہور میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد کیا گیا، جہاں ایک نجی فارم ہاؤس میں رکھے گئے پالتو شیر کے حملے سے آٹھ سالہ بچہ واجد شدید زخمی ہو گیا اور اس کا بازو ضائع ہو گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا فوری اور سخت نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی بلکہ صوبے میں پالتو شیروں کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق شہری علاقوں، گھروں اور فارم ہاؤسز میں خطرناک جنگلی جانور رکھنا عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

 

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق واقعے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایک بریڈنگ فارم میں ہونے والے حملے کو دانستہ طور پر چھپانے کی کوشش کی گئی، فارم ہاؤس کے مالک نے پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع نہیں دی اور نجی ہسپتال میں بھی بچے کے زخم کی اصل وجہ غلط بتائی گئی۔ اس فارم کا مالک شیر کے بچوں کو بطور بزنس پال کر بیچتا ہے۔ پنجاب حکومت نے تازہ ترین حملے میں ایک معصوم بچے کا بازو ضائع ہونے کے واقعے میں ملوث افراد، ہسپتال انتظامیہ اور غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر دی ہے، جبکہ متاثرہ بچے واجد کی مکمل طبی دیکھ بھال کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

 

بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت موجود اس شق کو ختم کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ پالتو وائلڈ کیٹس، بالخصوص شیروں کے لائسنس جاری کیے جاتے تھے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اب کسی بھی فرد کو ذاتی شوق، طاقت یا دولت کے بل بوتے پر گھروں یا فارم ہاؤسز میں شیر رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اس قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔ محکمہ وائلڈ لائف کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق پنجاب بھر میں گھریلو سطح پر رکھے گئے شیروں کی تعداد درجنوں نہیں بلکہ دو سو سے زائد ہو سکتی ہے، جن میں سے بڑی تعداد اب تک رجسٹرڈ ہی نہیں تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آنے والے کیسز سے یہ عندیہ ملا ہے کہ یہ رجحان صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ صوبے کے مختلف اضلاع اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز تک پھیلا ہوا ہے۔

 

اب تک کی کارروائیوں میں لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور جہلم سمیت مختلف علاقوں سے 57 شیروں کو تحویل میں لیا جا چکا ہے، جبکہ مزید مقامات کی نشاندہی کے بعد کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق برآمد کیے گئے تمام شیروں کو عارضی طور پر ریسکیو سینٹرز منتقل کیا جا رہا ہے اور حکومت کا ارادہ ہے کہ ان جانوروں کو مرحلہ وار صوبے کے مختلف چڑیا گھروں اور منظور شدہ وائلڈ لائف پارکس میں شفٹ کیا جائے، جہاں ان کی دیکھ بھال اور تحفظ ممکن ہو سکے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

اپوزیشن کی 8 فروری کی احتجاجی کال ناکام کیوں ہو گی؟

ناقدین کے مطابق شہری آبادیوں میں شیروں جیسے خطرناک جانور رکھنا ایک ٹائم بم کی مانند ہے اور واجد کا واقعہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ قانون میں معمولی نرمی بھی کس طرح ایک معصوم جان کے لیے زندگی بھر کا المیہ بن سکتی ہے۔

Back to top button