کرکٹ ٹیم کے کن کھلاڑیوں کی مستقل چھٹی ہونے جا رہی ہے؟

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی نکمی ترین پرفارمنس کے بعد کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیم میں نیا خون شامل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریبا آدھی کرکٹ ٹیم کی مستقل چھٹی ہونے جا رہی ہے۔ اسکے علاوہ ریٹائرمنٹ واپس لینے والے دو کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹ بھی ختم کیے جا سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی پرفارم نہیں کر پائے۔
نہ دعائیں کام آئیں اورنہ قسمت نے یاوری کی،اگر مگر، چونکہ چنانچہ کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سفر مایوس کن انداز میں ختم ہوگیا، ۔ امریکہ اور آئرلینڈ کا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہونے کے بعدتین میں سے دو میچ ہارنے والی پاکستانی ٹیم میگا ایونٹ سے باہر ہوگئی
خیال رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں 14 جون کو شیڈول امریکا اور آئرلینڈ کے درمیان میچ بارش اور گیلے میدان کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا،میچ منسوخ ہونے کی وجہ سے امریکا اور آئرلینڈ کی ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دے دیا گیا جس کے بعد پاکستان کی ٹیم عالمی کپ سے باہر ہو گئی ہے اور امریکا کی ٹیم نے دو کامیابیوں اور ایک بارش سے متاثرہ میچ کی بدولت سپر ایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کر لی۔پاکستان کی ٹیم آئرلینڈ کے خلاف میچ جیت کر بھی اب اگلے مرحلے میں نہیں پہنچ پائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ امریکا کے خلاف کھیلا تھا اور نووارد ٹیم نے دلچسپ مقابلے کے بعد سپر اوور میں پاکستان کو شکست دے کر ورلڈ کپ کا بڑا اپ سیٹ کیا تھا۔اگلے میچ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان کو میچ میں فتح کے لیے صرف 120 رنز کا ہدف ملا لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن یہ ہدف بھی حاصل نہ کر سکی اور میچ میں شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔اس کے بعد پاکستان کی اگلے مرحلے تک رسائی کا انحصار دیگر ٹیموں کی کارکردگی پر تھا لیکن امریکا اور آئرلینڈ کے درمیان میچ بارش کی نذر ہونے سے پاکستان کی سپر ایٹ مرحلے میں رسائی کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔
اب اوور سیز پاکستانی بیرون ملک بیٹھ کر ہی جائیداد کی خرید و فروخت کر سکیں گے
پاکستان کے ورلڈ کپ سے باہر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے اس تبصرے اور میمز شیئر کرنا شروع کر دی اور صارفین جہاں پاکستانی ٹیم کی بری کارکردگی کو کوس رہے ہیں وہیں ’قدرت کے نظام‘ کا ساتھ بھی نہ ملنا زیر بحث ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’بلاآخر قدرت کا نظام بھی بارش کی وجہ سے ختم ہو گیا۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اس ملک میں کچھ اچھا نہیں ہو رہا، ہمارے سب سے اہم اثاثہ قدرت کے نظام نے بھی ہمیں دھوکہ دے دیا۔‘
ایک صارف نے پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر تبصرہ کیا کہ ’ یہ بہترین مثال ہے کہ قدرت کا نظام صرف ان کی مدد کرے گا جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ جب آپ 3 پر 12 رنز کا دفاع نہیں کر سکتے یا 48 گیندوں پر 48 رنز نہیں بنا سکتے تو آپ کسی چیز کے مستحق نہیں تھے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’فلوریڈا لاڈرہل میں ایک بار پھر بارش ہو رہی ہے۔ پاکستان اس ورلڈ کپ سے باضابطہ طور پر نکل گیا ہے، ایک بار پھر دل ٹوٹ گیا ہے۔ قدرت ہمیشہ مدد نہیں کرے گی۔‘
۔تجزیہ کاروں کے مطابق بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کوئی آئی سی سی ایونٹ نہیں جیت سکی ہے۔گذشتہ سال پچاس اوور کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں کوالیفائی نہیں کرسکی تھی۔پاکستان ٹیم 2014اور 2016کے بعد تیسری بار ورلڈ کپ دوسرے راونڈ میں کوالیفائی نہ کرسکا۔ پاکستان ٹیم تین بار فائنل کھیل چکی ہے اور چھ بار سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے لیکن امریکا میں خراب کارکردگی نے کروڑں شائقین کو افسردہ کردیا۔
ملک کے کروڑوں شائقین کرکٹ کی نظریں اب پی سی بی چیئرمین محسن نقوی پر مرکوز ہیں کہ کب اور کس طرح بڑی سرجری کرکے پاکستان ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کریں گےذرائع کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی کے خلاف کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے میں اچھی پرفارمنس نہ رکھنے والے قومی کرکٹرز کی سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی ہوگی جبکہ کئی کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
خیال رہے کہی قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کُن کارکردگی کی وجہ سے سینٹرل کنٹریکٹ کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قومی کرکٹرز کو گزشتہ برس یکم جولائی سے 3 برس کا کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔تاہم اس دوران قومی ٹیم ایشیا کپ، آئی سی سی ورلڈ کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناکام رہی۔ پاکستان ٹیم دورۂ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی ناکام رہی تھی۔ قومی کرکٹرز نے ذکاء اشرف کے دور میں دباؤ ڈال کر اپنے معاوضوں میں اضافہ کروایا تھا، معاوضوں میں اضافہ کرانے کے بعد قومی ٹیم پچھلے دور میں ایشیا کپ اور آئی سی سی ورلڈ کپ میں ناکام رہی۔ذرائع کے مطابق اب قومی کرکٹرز کے معاوضوں اور کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کے حوالے سے جلد بڑے فیصلے ہوں گے، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اس حوالے سے مشاورت شروع کر دی ہے۔
