پنجاب میں کرائم کنٹرول پولیس والے پیسے لے کر بندے مارنے لگے

پنجاب میں وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر قتل، ڈکیتی اور زیادتی جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یا سی سی ڈی کے قیام کے بعد سے صوبے میں پولیس مقابلوں میں 35 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے اور اب یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ سی سی ڈی والے پیسے لیکر بااثر افراد کے مخالفین کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہے ہیں۔ سی سی ڈی کے سربراہی ڈی آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے پاس ہے جو ماضی میں اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ پنجاب میں بڑھتے ہوئے جعلی پولیس مقابلوں نے لوگوں پر دہشت اور خوف طاری کر دیا ہے جس کے بعد عدالت نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر قائم کیے گئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ  نے اپنی تشکیل کے محض چند مہینوں میں نہ صرف توجہ حاصل کی بلکہ تنازع کا شکار بھی ہو چکا ہے۔ منظم جرائم پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی یہ فورس اب انسانی حقوق، عدلیہ، وکلا اور شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ایک طرف سی سی ڈی کو جدید پولیسنگ، ٹیکنالوجی اور فوری ردِعمل کا نمائندہ ادارہ قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اس پر جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کا الزام بھی لگ رہا ہے۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے: کیا سی سی ڈی جرائم کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر قدم ہے، یا قانون سے بالاتر ایک متوازی نظام؟

واضح رہے کہ سال 2025 کے اوائل میں قائم ہونے والا سی سی ڈی، پنجاب بھر میں قتل، ڈکیتی، جنسی جرائم، گینگ وار، اور زمینوں پر قبضے جیسے منظم جرائم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے متحرک کیا گیا۔ ساڑھے چار ہزار اہلکاروں پر مشتمل اس فورس کا دائرہ کار تحصیل کی سطح تک پھیلا ہوا ہے، جہاں یہ ڈرون نگرانی، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس، اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے ذریعے کام کر رہی ہے۔ تاہم یہ فورس اپنے قیام کے بعد سے اب تک 800 سے زائد "پولیس مقابلے” کر چکی ہے جن میں 160 ملزمان ہلاک، 53 زخمی، اور 49 گرفتار ہوئے۔ ان میں بعض انتہائی مطلوب افراد شامل تھے،۔

مبصرین کے مطابق پنجاب میں پولیس مقابلوں کی روایت بہت پرانی ہے اور بہت سے پولیس افسر ماضی میں ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے نام سے مشہور بھی رہے ہیں جن میں انسپکڑ عابد باکسر بھی شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے پہلے دور یعنی 1997-99 کے دوران ایک ہزار کے قریب جرائم پیشہ افراد ایسے پولیس مقابلوں میں مارے گئے جن کے حقیقی ہونے پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول شہباز شریف کے وزارت اعلیٰ کے دور میں پولیس مقابلوں کے حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جوپولیس مقابلوں میں ٹھکانے لگائے جانے والے افراد کی لسٹیں مرتب کرتی تھی جن کو بعد میں ایک پلاننگ کے تحت نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے دور اقتدار میں بڑے پیمانے پر پولیس مقابلوں کی وجہ سے شہباز شریف کو ایک کالعدم جہادی تنظیم کے 5عسکریت پسندوں کو ایک ایسے ہی مقابلے میں ٹھکانے لگانے پر مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

‘ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ پولیس مقابلوں میں ملزمان کی پراسرار ہلاکت کی وجوہات کیاہوتی ہیں؟پولیس مقابلے کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے اور ٹھوس شواہد کے باوجود ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟ پنجاب پولیس کے ایک سابق اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمومی طور پر ایسے سنگین واقعات جیسا کہ کمسن بچوں یا خواتین کے ساتھ ریپ، جس کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی آوازیں اٹھ رہی ہوں، ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر اس نوعیت کا ٹاسک کسی پی ایس پی افسر کو نہیں بلکہ رینکر پولیس افسر کو سونپا جاتا ہے۔ سابق پولیس اہلکار کے بقول جب مبینہ پولیس مقابلے کی ٹھان لی جاتی ہے تو پھر کسی اور معاملے کو نہیں دیکھا جاتا چاہے وہ ملزمان کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہی موجودگی ہی کیوں نہ ہو۔ پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ جتنے کیسز کے بارے میں وہ جانتے ہیں ان میں ڈی ایس پی رینک کے افسر کو ہی پولیس مقابلے کا ٹاسک دیا گیا تھا جبکہ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او جہاں پر یہ مقدمہ درج ہوتا ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی کو اعتماد میں لے کر منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس حوالے سے متعلقہ اعلیٰ پولیس افسران بھی ’آن بورڈ‘ ہوتے ہیں۔ سابق پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ  عمومی طور پر ان کے سامنے ہونے والے پولیس مقابلوں کے لیے زیادہ تر رات کی تاریکی یا پھر علی الصبح کا چناؤ کیا گیا اور یہ ایسے علاقوں میں ہوئے   جہاں عوام کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔اس لئے ایسے پولیس مقابلوں کے حوالے سےکوئی گواہ بھی سامنے نہیں آتے۔ ایک اور سابق پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا ایسے مبینہ پولیس مقابلے میں جن میں ایک یا دو افراد کو ’ٹھکانے‘ لگانا ہو تو اس میں سرکاری اسلحہ استعمال نہیں ہوتا بلکہ پرائیویٹ اسلحے کے ساتھ یہ کام کیا جاتا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر زیر حراست ملزمان کا عبوری چالان کسی عدالت میں پیش نہ ہونے سے قبل ہی یہ کام کر لیا جاتا ہے۔

سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں پر وکلا برادری کی آرا منقسم ہیں۔ قانون ماہرین کے مطابق کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے ملزمان عدالتوں سے رہائی پا لیتے ہیں، جس سے پولیس مقابلوں پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔تاہم  پولیس مقابلے قانون کی بالادستی کے بجائے ماروائے عدالت قتل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ تاہم بعض دیگر ماہرین کے مطابق’سی سی ڈی کی کارروائیاں جرائم کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں، لیکن ان کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہر مقابلے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے عدلیہ کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے حال ہی میں ایک سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ ’ایک ایک دن میں پچاس پچاس درخواستیں آ رہی ہیں، جن میں لوگ سی سی ڈی کے مقابلوں سے خوفزدہ ہیں۔‘انہوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو ان واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ گذشتہ دنوں بھی عدالت عظمیٰ نے ایک کیس میں آئی جی کو طلب کیا، جہاں ایک شہری نے اپنے بیٹے کو مبینہ طور پر پولیس مقابلے سے بچانے کی استدعا کی تھی۔ آئی جی کی رپورٹ پر عدالت مطمئن ہوئی، لیکن چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ان معاملات کو شفافیت کے ساتھ دیکھا جائے۔ تاہم عدالتی نوٹس اور عوامی تنقید کے باوجود صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک ایک دن میں پانچ سے سات پولیس مقابلے تقریباً ایک طرح کا معمول بن چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سی سی ڈی نے صوبے کے مختلف شہروں کے سرکردہ بدمعاشوں کی فہرستیں تیار کر لی ہیں جنہیں جلد پولیس مقابلوں میں پار کر دیا جائے گا۔

Back to top button