بزدار حکومت کے زیر سایہ لاہور میں جرائم عروج پر

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وسیم اکرم پلس قرار دیے جانے والے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے زیر سایہ ماضی کا پرامن دارالحکومت لاہور شہر آج سنگین جرائم کی آماجگاہ بن گیا ہے اور صرف گزشتہ ایک برس کے دوران یہاں جرائم میں 57 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں لاہور شہر میں درج ہونے والے جرائم کی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار رہی جو سال 2021 میں بڑھ کر 2 لاکھ 3 ہزار تک پہنچ گئی۔
پولیس حکام لاہورمیں جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ مقدمات کے مفت اندراج کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں جبکہ تجزیہ کار اسے مہنگائی اور غربت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جس نے لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر متواتر تبادلوں اور تعیناتیاں، بالخصوص آپریشنز ونگ کے سربراہوں کی بار بار کی تبدیلی بھی جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں صوبائی دارالحکومت کے 84 تھانوں میں ایک لاکھ 33 ہزار 222 مقدمات درج کیے گئے جو سال 2021 میں 2 لاکھ 3 ہزار 452 تک پہنچ گئے، اس کے علاوہ سال 2020 کے دوران 427 افراد قتل ہوئے جبکہ سال 2021 میں 432 افراد مارے گے۔
تاہم 2021 میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں کمی واقع ہوئی جن کی تعداد 9 تھی جبکہ 2020 میں ان کیسز کی تعداد 13 تھی، قتل کے ساتھ ڈکیتیاں بھی پنجاب حکومت کے لیے باعث تشویش رہیں کیونکہ 2021 میں مزاحمت پر 30 شہریوں کو قتل کیا گیا جبکہ 2020 میں اس حوالے سے رپورٹ ہونے والے قتل کی تعداد 25 تھی۔ سال 2020 میں ڈکیتی کے 3 ہزار 360 مقدمات درج کیے گئے جبکہ سال 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 9 ہزار 308 ہوگئی جو 5 ہزار 948 کیسز کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح چوری کے واقعات بھی 2020 کے دوران 92 سے بڑھ کر سال 2021 میں 199 ہوگئے، 2020 میں لاہور میں 19 کاریں چھینی گئی تھیں جبکہ 2021 میں ایسی 20 وارداتیں ہوئیں، لاہور شہر کی
ریحام خان کو ساری رات تھانے میں کیوں گزارنا پڑی؟
ڈویژنز کے حساب سے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سٹی، صدر اور کینٹ کے علاقے جرائم میں سرفہرست رہے۔
سٹی ڈویژن میں سال 2020 میں جرائم کے 28 ہزار 246 مقدمات درج ہوئے تھے جو 2021 میں بڑھ کر 43 ہزار 807 ہوگئے، اسی طرح صدر ڈویژن میں 2020 میں 28 ہزار 52 کیسز تھے جو اگلے سال بڑھ کر 40 ہزار 803 ہوگئے، کینٹ ڈویژن جرائم کا تیسرا سب سے بڑا ہاٹ سپاٹ تھا جہاں 2020 میں 23 ہزار 222 مقدمات درج ہوئے جو 2021 میں بڑھ کر 40 ہزار 174 ہوگئے۔
