کرنسی ڈیلرز نے ڈالر کی سمگلنگ روکنے کے لیے ISI کی مدد مانگ لی

ہائبرڈ نظام کے تحت چلنے والی حکومت میں اب غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں نے بھی ڈالرز کی سمگلنگ روکنے کے لیے ائی آیس آئی کی مدد مانگ لی ہے حالانکہ اس کا بنیادی فرض ‘کاؤنٹر انٹیلی جنس آپریشنز’ یعنی جوابی خفیہ کارروائیاں کرناہے۔

پاکستانی ایکسچینج کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ’ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان‘ کے چیئرمین ملک بوستان نے دعویٰ کیا ہے ان کے ایک وفد نے آئی ایس آئی کے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس میجر جنرل فیصل نصیر سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور ڈالر کی سمگنگ روکنے کے لیے ان کی مدد مانگی۔ ایسوسی ایشن کےجاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران آئی ایس آئی کہ سینیئر افسر کو حالیہ ہفتوں میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہاں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ اس کی مسلسل بڑھتی ہوئی سمگلنگ ہے۔

یاد رہے کہ جون 2025 میں ڈالر کی قدر 282 پاکستانی روپے تھی جس میں روزانہ چند پیسوں کا اضافہ ہونے کے بعد جولائی کے آخر تک ڈالر 285 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی پریس ریلیز کے مطابق چند ہفتوں میں ڈالر کی قیمت میں اس 3 روپے اضافے کے بعد 22 جولائی کو انکے وفد کی میجر جنرل فیصل نصیر سے ملاقات ہوئی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈی جی سی نے وفد کی پیش کی گئی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان پر حکومت سے بات کریں گے۔ اسکے علاوہ انھوں نے ایجنسیز کو حکم دیا کہ کرنسی سمگلرز کے خلاف فوری طورپر ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کر کے انھیں گرفتار کیا جائے۔

اس ملاقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر 283.45 روپے پر آ گئی ہے۔ تاہم اس ملاقات بارے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ یاد ریے کہ گذشتہ برسوں میں کئی بار ڈالر کی طلب اور رسد بحرانی کیفیت کا شکار رہی ہے جس کی ایک وجہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے پاکستان میں ڈالر کی آمد اس کی طلب کے مقابلے میں کم ہے۔لیکن ڈالر کی قیمت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اس کی سمگلنگ ہے، خاص طور پر افغانستان کی طرف جسے طالبان کی آمد کے بعد سے عالمی معاشی پابندیوں کا سامنا ہے۔

تاہم اس وقت اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ روکنے کے لیے آئی ایس آئی کی مدد کیوں مانگی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا آئی ایس آئی ڈالر کی قیمت کم کرنے میں واقعی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے؟ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان‘ کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق ’ ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس سے ملاقات کے دوران انھیں بتایا گیا کہ آج کل کرنسی مافیا والے امریکی ڈالر سمگل کر کے ایران اور افغانستان لے جا رہے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ تمام بڑے شہروں میں کرنسی ایکسچینج کے دفاتر کے باہر ’کرنسی سمگلرز کے کارندے کرنسی تبدیل کرانے والے کسٹمرز کو زیادہ ریٹ کا لالچ دے کر ڈالر بلیک مارکیٹ کے ریٹ پر خریدتے ہیں جس کی وجہ سے کرنسی تبدیل کرانے والے کسٹمرز لیگل ایکسچینج کمپنیوں کے کاؤنٹرز پر نہیں پہنچ پا رہے۔ چنانچہ بلیک مارکیٹ میں ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈالر کی سپلائی دن بہ دن کم ہو رہی ہے۔

کرنسی ایکسچینج ڈیلرز نے میجر جنرل فیصل نصیر کو یہ شکایت بھی لگائی کہ ایف بی آر کے نئے اختیارات کے تحت دو لاکھ روپے سے زیادہ نقد کیش پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے بھی نان فائلر کسٹمرز اپنی شناخت چھپانے کے لیے بڑے پیمانے پر بلیک مارکیٹ سے فارن کرنسی خرید کر ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔ جیسے سٹیٹ بینک نے ڈالر کی خریداری پر یہ سرکولر جاری کیا ہوا ہے کہ وہ 2000 ڈالر تک کوئی بھی غیرملکی کرنسی کیش رقم پر خرید سکتے ہیں، ایسے ہی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سرکولر کے پیش نظر عوام پر 2000 ڈالرز خریدنے پر ٹیکس عائد نہ کریں اور چھوٹ دے دیں۔ ایسا کرنے سے ڈالر کی ڈیمانڈ کم ہو گی اور ڈالر کا ریٹ تیزی سے کم ہو گا۔

ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر نے اس تجویز پر کہا کہ وہ اس بارے حکومت سے بات کریں گے۔ تاہم انھوں نے ایجنسیوں کو فوری حکم دیا کہ کرنسی سمگلرز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کر کے ان کو گرفتار کریں۔ خیال رہے کہ دو سال قبل بھی غیر ملکی کرنسی کی بلیک مارکیٹ کے خلاف اور قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ایک کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ آئی ایس آئی کی مدد مانگنے بارے ملک بوستان نے کہا کہ اِس وقت معاشی اشاریے کافی بہتر ہیں، ہمارا کرنٹ اکاونٹ سرپلس ہے جبکہ ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں، اسی طرح سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کافی بہتر ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ وہ سمگلنگ کو قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران آئی ایس آئی حکام نے پوچھا تھا کہ ڈالر ریٹ کیوں اوپر جا رہا ہے، جس پر انھیں بتایا گیا کہ سمگلنگ کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے کیونکہ معاشی اشاریے بہتر ہونے کے باوجود ڈالر 285 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

ماضی میں کرنسی سمیت دیگر اشیا کی سمگلنگ پر قابو پانے کے لیے فوج کی مدد کے بارے میں ملک بوستان نے کہا دو سال قبل جب ڈالر کا ریٹ 330 روپے سے اوپر چلا گیا تھا اور مختلف اشیا کی سمگلنگ ہو رہی تھی تو تب بھی حکومت نے سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں فوج بھی آن بورڈ تھی اور اس کے بعد ڈالر کی قیمت کافی کمی ہوئی تھی اور چند ہی دنوں میں ڈالر 270 روپے تک آ گیا تھا۔ اپریل 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سمگلنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا تھا۔

ملک بوستان سے آئی ایس آئی کی بجائے وزارت خزانہ یا سویلین اداروں سے مدد لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ان سے تو وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہتی ہے لیکن ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس سے ملاقات کے بعد دو دنوں میں انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت دو سے تین روپے کم ہو گئی۔

Back to top button