سائبر کرائم ایجنسی میں ایک اور اغوا برائے تاوان نیٹ ورک بے نقاب

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اندر سرگرم اغوا برائے تاوان کا خفیہ نیٹ ورک ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ این سی سی آئی اے اہلکاروں کی جانب سے سائبر کرائم اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان ہی کو فرنٹ مین بنا کر شہریوں کو نشانہ بنانے، اغوا کرنے اور کروڑوں روپے وصول کرنے کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ گوجرانوالہ میں چار بھائیوں کے اغوا اور رہائی کے بدلے 30 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے معاملے میں این سی سی آئی اے کے مزید چار حاضر سروس افسران کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کی تحقیقات نے ادارے کے اندر موجود ایک منظم، بااثر اور مسلسل سرگرم کرپٹ نیٹ ورک پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک محض چند اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل چین کی صورت میں کام کرتا رہا، جہاں چھاپے کا جواز، غیر قانونی حراست، دباؤ، سودے بازی اور رقوم کی وصولی سب کچھ ایک ہی نظام کے تحت انجام دیا جاتا تھا۔
خیال رہے کہ ایف آئی اے سرکل گوجرانوالہ نے آن لائن ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی کے الزامات کی آڑ میں شہری مظفر اقبال کے چار بیٹوں کے اغوا اور بھاری رشوت طلب کرنے کے معاملے میں این سی سی آئی اے کے چار حاضر سروس افسران سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، اب تک ہونے والی تحقیقات کے مطابق این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے کسی وارنٹ یا قانونی کارروائی کے بغیر مظفر اقبال کے گھر پر چھاپہ مارا، چاروں بیٹوں کو اسلحے کے زور پر حراست میں لیا اور آن لائن ٹریڈنگ میں مبینہ ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ بعد ازاں رہائی کے بدلے پانچ کروڑ روپے رشوت کا مطالبہ کیا گیا، تاہم طویل سودے بازی کے بعد 30 لاکھ روپے وصول کر کے نوجوانوں کو رہا کیا گیا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ این سی سی آئی اے کے کرپٹ اہلکاروں کی جانب سے مظفر اقبال سے تمام رقم کیش کی صورت میں وصول کی گئی اور اس کیلئے ’30 لیٹر پیٹرول کا کوڈ ورڈ‘ استعمال کیا گیا۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے شواہد اکٹھے کیے، کال ڈیٹیلز، مالی لین دین اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں کارروائی کو آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں غیر قانونی حراست، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت ستانی کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سائبر کرائم اور فراڈ کال سینٹرز کے خلاف ماضی میں گرفتار کیے گئے بعض ملزمان کو دوبارہ فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیا گیا، جو افسران کی ایما پر نئے شکار تلاش کرتے، ابتدائی رابطہ کرتے اور رقوم کی وصولی میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس پورے عمل میں ایک سے زائد اداروں کے ماتحت اہلکاروں کی مبینہ سہولت کاری بھی شامل رہی۔
تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک ایک منظم طریقہ کار کے تحت کام کرتا تھا، جہاں ایک افسر چھاپے اور کارروائی کا جواز تیار کرتا، دوسرا حراست اور تفتیش سنبھالتا، جبکہ نجی فرنٹ مین رقوم کی وصولی، سودے بازی اور دباؤ ڈالنے کا کام انجام دیتے تھے۔ اس منظم چین کے باعث کئی شہری قانونی کارروائی کے خوف سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔ گوجرانوالہ میں این سی سی آئی اے اہلکاروں کی جانب سے اغوا برائے تاوان کی واردات بارے حقائق سامنے آنے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ حکام نے اپنے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف اندرونی انکوائری شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ اس میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران پر اغوا، غیر قانونی حراست اور رشوت ستانی جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ جنہیں ملازمت سے برطرف کر کے نہ صرف گرفتار کیا جا چکا ہے بلکہ اس واردات میں شامل دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ایسے الزامات کی زد میں آئی ہو۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ملی بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات پر ادارے کے درجنوں افسران مختلف مقدمات، انکوائریز اور گرفتاریوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ خاص طور پر ڈکی بھائی اور جب بٹ کیس سمیت سوشل میڈیا سے جڑے ہائی پروفائل کیسز میں اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی حراست اور رشوت ستانی کے الزامات نے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔تاہم گوجرانوالہ میں این سی سی آئی اے اہلکاروں کی جانب سے اغوا برائے تاوان کے واقعے نے ایک بار پھر سائبر کرائم کے نام پر شہریوں کو ہراساں کرنے، قانون کی آڑ میں جرم اور اختیارات کے منظم غلط استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جوابات اب محض انکوائری نہیں بلکہ ٹھوس اور شفاف احتساب کے متقاضی ہیں۔
