ڈی چوک احتجاج: بشریٰ بی بی نے جو کیا میری ہدایات کے مطابق کیا، عمران خان

عمران خان نے اہنی اہلیہ پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ بشریٰ بی بی کو میں نے ہدایت دی تھی کہ احتجاج کو کس طرح اسلام آباد لےکر جانا ہے،انہوں نےجو کیا میری ہدایات کےمطابق ہی کیا۔

عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور اپنے وکلا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج اہل خانہ نے مجھے اسلام آباد قتل عام کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیاکہ کیسے ہمارے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور آئین و قانون کی بات کرنےوالے درجنوں نہتے شہریوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیاگیا،اب تک 12 شہداء کی تفصیلات سامنےآ چکی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ یہ جو بربریت ہوئی ہے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے،یحیٰی خان پارٹ ٹو ملک پر مسلط ہوکر بیٹھ گیا ہے،میں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہےکہ غیرجانبدار جوڈیشل کمیشن بناکر نہتے اور پرامن شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کروائی جائیں اور قتل عام کا حکم دینےوالے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

انہوں نے کہاکہ میری اس معاملے پر مزید مشاورت جاری ہے اور میں تفصیلات اکٹھی کر رہا ہوں،ہم اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے، اگر کسی کو لگتا ہے کہ ایسے خوف پیدا کرنے سے عوام چپ بیٹھ جائیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہے، ہم اس ظلم کے خلاف تمام عالمی فورمز پر اپنی آواز بلند کریں گے، تحریک انصاف کی قیادت کو ہدایت کی ہےکہ ذمہ داران بشمول شہباز شریف اور محسن نقوی پر ایف آئی آر کٹوائیں،دنیا کے کس ملک میں جمہوری احتجاج پر یوں سیدھے فائر کھولےجاتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ شہداء اور زخمیوں کےحوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسپتالوں کا ڈیٹا جلد از جلد پبلک کیا جائے اور تمام اسپتالوں اور سیف سٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے تاکہ 9 مئی کی طرح شواہد غائب نہ کیے جا سکیں۔

عمران خان نےکہاکہ میں نے اپنی پارٹی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہدایات دی ہیں کہ شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیں، جو لوگ لاپتا ہیں، ان کی بازیابی کےلیے تمام توانائی خرچ کریں اور جو لوگ گرفتار ہیں،ان کے کیسز کی پیروی کرنےوالے وکلا کی ٹیمز کی حوصلہ افزائی کریں۔

بانی پی ٹی آئی نےکہاکہ جہاں تک آپریشن کی کامیابی اور ناکامی کا سوال ہےتو آپریشنز تو بندوق کےزور پر کامیاب ہو ہی جاتےہیں،لال مسجد آپریشن بھی کامیاب ہی تھا،یحیی خان نے بھی آپریشن کامیاب کیاتھا لیکن اس کے ایک ماہ بعد ملک 2 ٹکڑے ہو گیا تھا،اسلام آباد میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی اس کا اثر بہت دیر پا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ بشریٰ بی بی کو میں نےہدایت دی تھی کہ احتجاج کو کس طرح اسلام آباد لے کر جانا ہے، انہوں نے جو کیا میری ہدایات کےمطابق ہی کیا۔

بانی پی ٹی آئی کاکہنا تھاکہ تحریک انصاف کے عہدیداران اور کارکنان متحد اور منظم ہوکر ملک پر مسلط مافیا کے خلاف اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد کےاگلے مرحلے کی تیاری کریں،یہ سیاست نہیں جہاد ہے۔

عمران خان نے قوم کے نام پیغام دیتےہوئے کہاکہ اسلام آباد قتل عام کے شہداء کا سن کر انتہائی رنجیدہ ہوں،دورِ حاضر کے جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ کی تاریخ دہرائی ہے، ان شہیدوں کا خون ناحق ضائع نہیں جائےگا اور ہم ان شہدا کا کیس اقوام متحدہ سمیت ہر فورم تک لےکر جائیں گے-

عمران خان نےکہاکہ حقیقی آزادی کی تحریک ان ہتھکنڈوں سے رکنےوالی نہیں، نہ میں پیچھے ہٹوں گا نہ پاکستانی قوم،اگر ہم نے آج ہار مان لی تو پاکستانی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

بانی پی ٹی آئی نےکہاکہ پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے اور وہ پاکستان میں کہیں بھی کیا جاسکتا ہے،9 مئی کو بھی ہمارے 25 کارکنان کو شہید کیاگیا اور اس بار بھی پرامن مظاہرین کو گولیاں مارکر خون کی ہولی کھیلی گئی اور درجنوں شہریوں کو شہید کیاگیا جو کہ بدترین ڈکٹیٹرشپ میں بھی نہیں کیاگیا۔

ان کاکہنا تھاکہ ہماری کال پر لاکھوں پاکستانی تمام تر رکاوٹوں،گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود آئینِ پاکستان اور جمہوریت کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ لےکر اسلام آباد پہنچے لیکن ان پرامن لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے،اس بار شیلنگ اور ربڑ بلٹس سے آگے بڑھ کر اسنائپرز اور دیگر جان لیوا اسلحے سے قتل عام کیا گیا جو ڈیتھ سرٹیفیکیٹس میں بھی سامنے آ چکا ہے، سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیاکہ درجنوں مظاہرین کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیاگیا اور 6 ہزار سے زائد کارکنان کو جھوٹے کیسز میں گرفتار کیا گیا۔

عمران خان نےکہاکہ میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتاہوں کہ غیرجانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر اس قتل عام کی تحقیقات کروائی جائیں اور قتل عام کا حکم دینےوالے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

سابق وزیر اعظم نےکہا کہ اسلام آباد قتل عام کے خلاف پشاور میں شہداء مارچ کا انعقاد کیاجائے اور پارلیمنٹ کا سیشن جلد از جلد بلاکر قرارداد پیش کی جائے، اوورسیز پاکستانی دنیا بھر میں اس قتل عام کے خلاف آواز اٹھائیں اور پاکستان میں جاری ظلم و بربریت کے حوالے سےآگاہی مہم چلائیں۔

عمران خان نےکہاکہ میں اسلام آباد پہنچنےوالے لاکھوں پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، علی امین، بشریٰ بی بی، عمر ایوب، خالد خورشید، عالیہ حمزہ، شاہد خٹک، نوجوان لیڈرز سمیت مارچ کو لیڈ کرنے والے تمام سینئیر اور جونیئر پارٹی ممبران،ممبران اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو سراہتا ہوں۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

بانی پی ٹی ٓآئی نےکہاکہ پنجاب اور اسلام آباد میں جیسےکرفیو کا ماحول بنا کر تحریک انصاف کےکارکنان پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور ملکی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا یہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں، فارم 47 کے سہارے کھڑی کٹھ پتلی حکومت اور مافیا کے غلام پولیس کے آئی جیز صرف اپنی کرسی بچانے کےلیے یہ ظلم کررہے ہیں۔

عمران خان نےکہا کہ تحریک انصاف کےکارکنان متحد اور منظم ہو کر ملک پر مسلط مافیا کے خلاف اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے اگلے مرحلےکی تیاری کریں۔

Back to top button