پاکستان کو FATF کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کا خطرہ

حکومت پاکستان کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی 96 فیصد شرائط پر عمل درآمد کرنے کے دعوے کے باوجود عالمی میڈیا یہ امکان ظاہر کر رہا ہے کہ شاید اس مرتبہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی عائد کردہ شرائط پوری نہ کرنے کی پاداش میں گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ کی بجائے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے۔

یاد رہے کہ 21 فروری سے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس شروع ہو چکا ہے جو 4 مارچ تک جاری رہے گا۔ اس میں پاکستان کا کیس بھی پیش ہو گا جس کا موقف ہے کہ اس نے بیشتر شرائط پوری کردی ہیں اور بقیہ پر کام کر رہا ہے۔

تاہم دوسری جانب عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طالبان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی پاداش میں ایف اے ٹی ایف میں ٹف ٹائم ملے گا حالانکہ مزاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور ٹی ٹی پی نے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ لیکن اب حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات بحال کرنے کی خاطر 40 طالبان جنگجوؤں کی رہائی کی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مغربی ممالک کے بھرپور مطالبے کے باوجود پاکستان نے توہین مذہب کے قوانین میں تبدیلی نہیں کی جس کی وجہ سے ہجوم کے ہاتھوں مذہب کے نام پر قتل و غارت گری واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ملک میں میڈیا پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور آزادی اظہار پر نئی قدغنیں عائد ہونے سے بھی ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا کیس مزید کمزور ہوا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کی بجائے اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

خفیہ ہاتھ گینگ وار سرغنہ عزیر بلوچ کی رہائی کے لیے کوشاں

خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں پر نظر رکھنے والا ایک ادارہ ہے، جسے 1989 میں G-7 سربراہ کانفرنس نے پیرس میں اپنے سربراہ اجلاس میں قائم کیا تھا، جس کا کام منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کو روکنا ہے۔ جب کوئی ملک اس کی بلیک لسٹ میں آ جاتا ہے تو اس پر ایف اے ٹی ایف کے رکن کسی بھی ملک کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں.

جیسا کہ کوریا اور ایران اس وقت بلیک لسٹ میں شامل ہیں جن پر اقتصادی پابندیاں عائد ہیں۔ پھر گرے لسٹ ہے جس میں کسی ملک کے ہو نے کا مطلب ہے کہ اسے بین الاقوامی قرضوں تک محدود رسائی حاصل ہو گی۔ اس لسٹ میں ترکی اور اردن جیسے ممالک کی طرح پاکستان بھی 2018 سے اس لسٹ میں شامل ہے۔ بلیک یا گرے لسٹوں میں شامل ملکوں کو ایکشن پلان دیے جاتے ہیں کے وہ ان پر عمل درآمد کرکے وہ معاملات درست کرلیں۔ جن کی بنا پر انہیں لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کی سال میں تین میٹنگ ہوتی ہیں جن میں لسٹوں میں شامل ملکوں کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے اور گروپ اس سے کس حد تک مطمئن ہے اس کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے کہ کس ملک کو ایک لسٹ سے نکال کر دوسری لسٹ میں ڈالنا ہے یا پھر لسٹ سے نکالنا ہے۔

اس وقت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ گروپ کی عائد کردہ شرائط میں سے چھیانوے فی صد شرائط پوری کر چکا ہے اور جو رہ گیا ہے اس پر کام کر رہا ہے۔ گروپ کا آئندہ اجلاس اکیس فروری سے پیرس میں شروع ہو چکا ہے جو چار مارچ تک جاری رہے گا۔ اور اس میں پاکستان کا کیس بھی پیش ہو گا جس کا موقف ہے کہ اس نے بیشتر شرائط پوری کردی ہیں اور بقیہ پر کام کر رہا ہے، اس لیے اسے گرے لسٹ سے نکالا جانا چاہیے۔

پاکستان کے سابق مشیر خزانہ اشفاق حسن ہیں کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف بین الاقوامی سیاست کا حصہ بن گیا ہے اور پاکستان کتنا کچھ بھی کرلے، آخر کار ایف اے ٹی ایف کوئی نہ کوئی خامی نکال کر اسے مزید گرے لسٹ ہی میں رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاکستان کو عمل درآمد کے لیے جو پوائنٹ دیے گئے تھے ان میں سے وہ چھیانوے فیصد ایکشن پلان پر عمل کر چکا ہے۔ پھر بھی اسے گرے لسٹ میں رکھا جا رہا ہے اور اب بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی افواہ اڑائی جارہی ہیں۔ اس کے پیچھے دیرینہ دشمن بھارت اور اس کی ہمنوا عالمی قوتیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب ایکشن پلان کا نہیں بلکہ لابی کرنے کا ہے کہ پاکستان کس طرح عالمی طاقتوں کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کےلیے راضی کرتا ہے۔ مبصرین کے خیال میں پاکستان کے گرے لسٹ میں رہنے یا اس میں سے نکل آنے یا بلیک لسٹ میں جانے کا جہاں تک تعلق ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور اس میں ملوث دہشت گردوں کو سزا دلوانے میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ انکا اصرار ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ لیکن اس کے گرے لسٹ سے نکلنے کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

Back to top button