حکومت اور اپوزیشن تصادم میں نظام لپٹنے کے خطرات

حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد میں طاقت کے مظاہروں کے اعلان کے باعث بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں اقتدار کی جنگ میں سیاسی نظام کو ہی نہ لپیٹ دیا جائے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی جب اس قسم کا سیاسی انتشار پیدا ہوا تو اسکا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد بھٹو حکومت پر دھاندلی کا الزام لگا کر جنرل ضیاء کے ایماء پر حکومت مخالف ملک گیر تحریک چلائی گئی، جس کا انجام ضیا کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے پر ہوا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کے دوران اگر اپوزیشن اور حکومتی جماعتیں اسلام آباد میں طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں تو کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں اطراف کے کارکنان جذباتی ہیں اور انکے رہنما انہیں سمجھانے کی بجائے بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، اور معاملات سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل کر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ میں جا سکتے ہیں۔ لہذا صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے تجویز دی ہے کہ اپوزیشن اور حکومتی جماعتیں اسلام آباد میں اپنے اعلان کردہ جلسے منسوخ کر دیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ تحریک عدم اعتماد تبدیلی کا ایک جمہوری راستہ ہے اور حکومت کو اس راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنی نہیں چاہیے، اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر دونوں سیاسی قوتوں نے اپنے رویے تبدیل نہیں کیے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ موجودہ نظام کو لپیٹا بھی جا سکتا ہے جو کسی بھی طور پر ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بھی اپنے اقتدار کی خاطر ملک کی قسمت کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے اور ایک سٹیٹسمین کی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا چاہیے۔ انکا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان میں وزرائے اعظم کے خلاف تحاریک عدم اعتماد پیش ہوئی ہیں لیکن نہ تو نواز شریف اور نہ ہی بے نظیر بھٹو نے عمران خان کی طرح آخری حد تک جانے والی حرکتیں کی تھیں۔ یاد رہے کہ حکومتی جماعت کی طرف سے اسلام آباد میں 27 مارچ کو دس لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے والے حکومتی اراکین قومی اسمبلی کو اس مجمعے میں سے گزر کر قومی اسمبلی تک پہنچنا ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حکومتیں دھمکیاں اراکین قومی اسمبلی پر اثر انداز ہونے کی کوششی ہیں جس کی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اجازت نہیں دینی چاہیے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد اس وقت اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے ممکنہ شو ڈاؤن کے لیے تیار ہے۔ بیک وقت حکومتی ارکان اور اپوزیشن کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے متوقع ہیں۔ ساتھ ہی دونوں جماعتوں میں موجود چند ارکان نے کشیدگی بڑھنے کے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی حوالے سے تحریکِ انصاف کی جانب سے کور کمیٹی کی میٹنگ کے دوران عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے ایک روز پہلے یعنی 27 مارچ کو دس لاکھ افراد بلانے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنے کارکنان کو 25 مارچ تک اسلام آباد پہنچ جانے کی ہدایت کر دی ہے۔
پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے کیلئے پنجاب میں بینرز کی بہار
سینیئر صحافی افتخار احمد موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت اتنی کنفیوژن ہے کہ اچھائی کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ ایک ہی صورت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے ارادوں سے باز آ جائیں اور اپنے پروگرام ملتوی کر دیں۔‘ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن جمع ہو جانے کے بعد اسپیکر کو ووٹنگ کے لیے اجلاس بلانا چاہیے بجائے کہ معاملے کو تاخیر کا شکار کر کے جلسے جلوس کا منصوبہ بنایا جائے۔
افتخار احمد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو ٹرمپ کے حامیوں کی طرح یہاں بھی پارلیمان پر حملہ نہ ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گریس دکھانی چاہیے اور اپنے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا باوقار انداز میں کرنا چاہیے۔
Dangers of system collapse in government-opposition clash
