عمران کو آنیوالا دھمکی آمیزخط چیف جسٹس سے شیئرکرنیکا فیصلہ

حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے آنیوالا دھمکی آمیز خط چیف جسٹس آف پاکستان سے شیئر کر نے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر اسد عمر کہنا تھاوزیر اعظم نے اپنے جلسے کی تقریب میں ایک مراسلے کا ذکر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں بیرونی ہاتھ شامل ہیں ، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں خط کیوں نہیں دیا جارہا، کچھ راز قومی نوعیت کے ہوتے ہیں، وزیر اعظم نے مجھے کہا کہ اگر کسی کوئی شک ہے تو ہم یہ خط سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دیکھانے کو تیار ہیں، ان پر سب کو اعتماد ہے۔
شاہ محمود قریشی اہم اجلاس میں شرکت کیلئے چین روانہ
اسد عمر نے کہا مجھے اجازت نہیں کہ اس خط میں لکھے ہوئے الفاظ بتاسکوں، لیکن کلیدی باتیں دہرا دیتا ہوں، وہ حصہ جو عدم اعتماد سے جڑتا ہے اس کی اہم باتیں کیا ہیں۔ انہوں نے کہااس مراسلے کی تاریخ عدم اعتماد تحریک پیش ہونے سے قبل کی ہے، یہ اہم اس لیے ہے کہ اس مراسلے میں براہِ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے۔
انکا کہنا تھا اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس میں دو ٹوک الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوتی اور عمران خان وزیر اعظم رہتے ہیں تو اس کے نتائج خطر ناک ہوں گے۔
