گیس کاگردشی قرضہ عوام پرنیا ٹیکس ڈال کروصول کرنےکافیصلہ

وفاقی حکومت نے گیس کے 3100 ارب روپے سے زائد گردشی قرضے کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس مقصد کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر مزید پانچ روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، حالانکہ اس سے قبل ہی پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز عائد ہیں۔ اس وقت عوام سے پیٹرول پر 75.41 روپے اور ڈیزل پر 79.62 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز شامل کرنے کے بعد یہ بوجھ 100 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں بدانتظامی، نااہلی اور پالیسی ناکامیوں کا خمیازہ ایک بار پھر عام شہری کو بھگتنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ گیس کے گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے اصلاحات، ادارہ جاتی احتساب یا فضول اخراجات میں کمی کے بجائے عوام پر نئے ٹیکس مسلط کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس بحرانوں سے نکلنے کا واحد حل عوام پر نت نئے ٹیکسز کا نفاذ اور مہنگائی میں مزید اضافہ کرنا ہی رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے اپریل 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات پر 8 روپے فی لیٹر اضافی لیوی عائد کی تھی، جس کا مقصد بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر بتایا گیا تھا۔ تاہم اب گیس کے گردشی قرضے کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق اس وقت گیس کے شعبے پر مجموعی گردشی قرضہ 31 سو ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس رقم میں سے تقریباً 17 سو ارب روپے تک کا قرضہ پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے اضافی لیوی عائد کر کے کم کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ صرف گیس استعمال کرنے والوں سے نہیں بلکہ ان شہریوں سے بھی وصول کیا جائے جو براہِ راست گیس استعمال نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں گیس کے مجموعی صارفین تقریباً ایک سے سوا کروڑ کے درمیان ہیں، جو ملک کی کل آبادی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم حکومت گیس کے گردشی قرضے کو صرف گیس صارفین تک محدود نہیں رکھنا چاہتی، بلکہ ملک کی وہ 75 فیصد آبادی جو براہِ راست نیٹ ورک گیس استعمال نہیں کرتی، ان سے بھی کچھ نہ کچھ وصولی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت قانونی طور پر کسی اور سیکٹر کا قرض اس طرح عوام پر منتقل کرنے کا اختیار رکھتی ہے؟ کیا آئین حکومت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ کیا حکومت کو گیس کے گردشی قرضے کو پیٹرول اور ڈیزل کے صارفین سے پورا کرنے کا حق حاصل ہے؟ ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس کوئی منطقی جواز موجود نہیں کہ ایک سیکٹر کا گردشی قرضہ دوسری سیکٹر کے صارفین سے وصول کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کے صارفین سے گیس کے گردشی قرضے کے لیے رقم وصول کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی گیس استعمال نہیں کرتی۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ ویسے بھی حکومت عوام سے گردشی قرض کے نام پر یہ رقم کیسے حاصل کر سکتی ہے حالانکہ گیس صارفین پہلے ہی اربوں روپے کے اضافی چارجز ادا کر چکے ہیں۔ اتنی زیادہ قیمتوں کی ادائیگی کے باوجود حکومتی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے گردشی قرضے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

تاہم بعض دیگر ماہرین کے بقول تکنیکی طور پر حکومت گیس کے گردشی قرض کے خاتمے یا اسے کم کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کو نافذ کر سکتی ہے، کیونکہ اگر ای سی سی سے منظوری لے کر کابینہ سے بھی منظوری حاصل کر لی جائے تو یہ لیوی عائد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی عائد کی گئی تھی اسی طرح انڈسٹریل صارفین کے لیے بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے بھی ان مصنوعات پر اضافی چارجز لگائے گئے تھے۔ اسی وجہ سے اس وقت ڈیزل پر ٹیکس 102 روپے جبکہ پیٹرول پر 105 روپے تک عائد ہے لیکن اگر حکومت اپنے تمام اخراجات صرف انہی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر کے پورا کرنا چاہ رہی ہے تو پھر مزید ٹیکس بھی لگا سکتی ہے۔ تاہم اگر حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر مزید لیوی عائد کی گئی، تو اس کا براہِ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑے گا اور روزمرہ استعمال کی چیزیں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ ناقدین کا مزید کہنا تھا کہ اصولی طور پر حکومت کے پاس پیٹرول اور ڈیزل پر اس قسم کی لیوی عائد کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں لیکن اگر حکومت نے اس کا فیصلہ کر لیا تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔

Back to top button